Saturday, 26 December 2015

امام حسین ع

0 comments
استاد علی شرف الدین موسوی بلتستانی کی ایک اھم تحریر

ماه محرم,عزاداری اور  قیام امام حسین ع

سیدالشهداء (علیہ السلام)

علی شرف الدین موسوی کراچی

حماسہ
”حماسہ“ ح ۔ م ۔ س ۔ یا ش سے مرکب ہے ، معروف معاجم لغت عرب معجم مقایس لغت اور لسان عرب میں حماسہ کے درج ذیل معانی بیان ہوئے ہیں :
۱- شجاعت ، جراٴت ، دلیری اور اپنے موقف پر سختی اور شدت سے باقی رہنا ۔
۲- جنگ و جہاد
۳- تنور کی آگ سے نکلنے والا شعلہ
۴- قریش اور اس کے ساتھ معاہدے میں شامل دیگر قبائل پر مشتمل ایک گروہ کو حمس یا احمس کہا ہے انہیں حمس یا احمس کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے دین میں شدت اور سختی کو اپناتے تھے ۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم شریف اپنی کتاب ” مکہ و مدینہ دور جاہلیت اور عہد رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں “ ص ۱۵۶ پر رقمطراز ہے کہ فبیلہ حمس اس قسم کے تشدد کا مظاہرہ اپنی ذاتی اور قومی حیثیت کو اجاگر کرنے کے خود کو دوسروں سے ممتاز گرداننے اور دوسروں کو نیچا اور حقیر دکھانے کی خاطر کیا کرتا تھا ، حج اور مقامات مقدسہٴ حج سے متعلق لکھی گئی کتابوں میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اس قسم کے تشدد کے مظاہرے کو علمائے تاریخ نے خرافات حج میں شمار کیا ہے قارئین کرام کی معلومات کے لیے ان خرافات کی مندرجہ ذیل چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں ۔

۱- لباس طواف
قبیلہ پرستی کے مذموم عزائم کو فروغ دینے کے لیے انہوں نے عرب میں اس فکر کو متعارف کیا کہ قبیلہ حمد کے علاوہ کوئی اور اپنے لباس میں طواف نہ کرے ، اپنے مفادات کو مزید پروان چڑھانے کے لیے یہ لوگ ” مازر “ طواف کے نام سے ایک لباس بازار میں لائے طواف کرنے کے لیے لوگوں کو بازار سے یہ لباس خریدنا پڑتا تھا چنانچہ وہ افراد جو اس لباس کو خریدنے یا کرائے پر حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے مجبورا برہنہ طواف کرتے تھے کیونکہ اپنے ذاتی لباس میں طواف کرنا ان کے لیے ممنوع تھا یہ صورت حال لوگوں میں جنسی طغیانی کا سبب بنتی تھی یہاں تک کے اس مقدس گھر میں لوگ گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے لگے چنانچہ تاریخ کعبہ میں ملتا ہے کہ ایک مرد و عورت جن کا نام اساف اور نائلہ تھا اس گھر کے اندر فعل قبیح کے مرتکب ہوئے خداوند عالم نے اسی لمحے اور اسی جگہ دونوں کو مسخ کر کے پتھر بنا دیا قریش نے ان دونوں کو وہاں سے اٹھا کر اساف کو کوہ صفا پر اور نائلہ کو کوہ مروہ پر رکھ دیا تاکہ سعی کے دوران لوگ ان کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں کافی عرصہ تک لوگ انہیں دیکھ کر اظہار نفرت کرتے رہے لیکن رفتہ رفتہ نفرت کے بدلہ مجسمے لوگوں کا بوسہ گاہ بن گئے یہ سلسلہ سنہ ۹ ہجری تک جاری رہا یہاں تک کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورہ ٴ برائت نازل ہوئی جس میں اللہ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں مشرکین سے بیزار ہیں “ اس آیہ مبارکہ کے نازل ہوتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ آج کے بعد کوئی بھی اس گھر کا برہنہ طواف نہیں کر سکتا ۔

۲- وقوف عرفہ
دنیا بھر سے آنے والے حجاج ۹ ذی الحجہ کو سر زمین عرفہ میں وقوف کرتے ہیں دور قدیم سے دور حاضر تک اس عمل کو اہم ترین اعمال حج میں شمار کیا جاتا رہا ہے لیکن قبیلہ حمس کے لوگ اپنی ذاتی انانیت کی خاطر خود کو دوسروں سے ممتاز اور بیت کا مالک دکھانے کے لیے عرفات کی بجائے مزدلفہ میں قیام کرتے تھے وہ اس کا جواز یہ پیش کرتے تھے کہ چونکہ وہ اہل حرم ہیں اس لیے حرم سے باہر قیام نہیں کر سکتے جبکہ عرفات حرم سے باہر ہے یہ طرز عمل سنہ ۱۰ ہجری کو اپنے اختتام کو پہنچا ۔
سنہ ۱۰ ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے تشریف لائے تو جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور بہت سی خرفات کو ختم کیا وہاں اس امتیاز کو بھی مٹا دیا اس طرح ان کی نخوت کا یہ بت بھی ٹوٹ گیا ۔

۳- سرزمین منیٰ میں محفل مشاعرہ
قبیلہ ”حمس“ کے افراد منیٰ میں قیام کے دوران سایہ میں نہیں بیٹھتے تھے تاکہ دوسروں پر یہ جتلا سکیں کے وہ محبت بیت میں کتنا غرق ہیں، اس سرزمین میں پہنچ کر بھی خدا کی عبادت اور بندگی کرنے کی بجائے انہیں اپنی حیثیت کو چمکانے کی فکر رہتی تھی اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ محافل مشاعرہ کا اہتمام کرتے تھے جن میں طرح طرح سے اپنے آباوٴ و اجداد کی مدح سرائی ہوتی تھی قرآن کریم کی سورہ بقرہ آیت ۱۰۲ میں خدا نے ان کے اس عمل پر تنقید کی اور اس کی مذمت کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان سب باتوں کو چھوڑ کر صرف اسے یاد کیا جائے اور اسی کا ذکر کیا جائے ۔

۴- گھروں میں دروازوں سے داخل ہونے کو خلاف احترام گرداننا ؛
قبیلہ ”حمس“ کے لوگ حالت احرام میں حب اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے تو دروازے سے داخل ہونے کی بجائے چھت سے پھلانگ کر اندر جاتے تھے قرآن کریم میں ان کے اس غیر عقلی اور غیر طبعی فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خداوند عالم فرماتا ہے کہ تم جس عمل کو فضیلت کے طور پر پیش کرتے ہو اس میں کوئی خیر نہیں بلکہ خیر اس میں ہے کہ خدا و آخرت پر ایمان کے بعد دروازہ سے اپنے گھر میں داخل ہو جائے ( بقرہ / ۱۸۹ ) ۔

۵- ایام حج میں تبدیلی
قریش اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ ایام حج میں کسب کیا کرتے تھے لہٰذا حاجیوں کی تعداد میں قلت اور کثرت سے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہوتے تھے ۔
ادھر یہ حال تھا کہ اطراف و اکناف سے آنے والے حاجی سخت سردی اور سخت گرمی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے چنانچہ حج کو معتدل مو سم میں رکھنے کی خاطر تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں حاجی جمع ہو سکیں ، قریش حج کی تاریخ کو قمری کی بجائے شمسی حساب سے معین کرنے لگے اس طرح وہ اپنی مرضی کے مطابق حج کی تاریخوں میں تبدیلی کر لیا کرتے تھے ، یعنی ایک سال محرم کے مہینے کو دوسرے سال صفر کو اور پھر تیسرے سال دوبارہ ذی الحجہ کو حج کا مہینہ قرار دیتے تھے ہر سال میدان عرفہ چھوڑتے وقت آئندہ سال حج کے لیے حج کی تاریخوں کا اعلان کر دیا جاتا تھا سورہٴ مبارکہ توبہ کی آیت ۳۷ میں اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو کفر قرار دیا ہے:
<انما لنسئی زیادة فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما و یحرمونہ عاما>
”حرمت کے مہینوں میں تقدیم و تاخیر تو کفر میں ایک مزید کافرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں کسی سال ایک مہینہ کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرام کر دیتے ہیں“
قبیلہ ”حمس“ کی طرف سے اعمال حج میں کی گئی ان تحریفوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذہب کے معاملے میں ان کی سختی اور شدت پسندی فروغ مذہب کے لیے نہیں تھی بلکہ ان تمام اقدامات کا مقصد صرف و صرف امتیاز کو ظاہر کرنا اور اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ تھا ۔
مندجہ بالا مثالوں سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ مذہب میں تشدد اور سختی کا مظاہرہ کرنا، ہر شخص کے لیے اور ہر وقت مستحسن عمل نہیں ہوتا ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ آیا مذہب میں تشدد اور سختی مستحسن ہے یا سہل انگاری، نرمی، فراخدلی اور وسعت نظری کا مظاہرہ کرنا بہتر ہے؟ اس بات کو سمجهنے کے لیے ایک مختصر سی وضاحت کی ضرورت ہے عام مشاہدہ کہ آج کل کی دنیا میں یہ دونوں رویے بظاہر ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہونے کے باوجود باہمی طور پر مل کر مذہب کو گرانے اور لوگوں کو مذہب سے بدظن کرنے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں اگرچہ ان دو متضاد رویوں کے حامل افراد بظاہر ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے نظر آتے ہیں لیکن تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ دونوں گروہ اپنا حق زحمت ایک ہی جگہ سے لیتے ہیں کیونکہ دونوں کا حتمی انجام ایک ہی ہے اگر ایک گروہ تشدد کے نام سے مذہب کو پیچھے رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے تو دوسرا ترقی اور تمدن کے نام سے مذہب کو اسکے بنیادی اصولوں سے منحرف کر کے ایک آزاد اور لبرل دین میں تبدیل کرنا چاہتا ہے لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تشدد اور وسعت نظری کے درمیان فرق کو واضح کیا جائے ۔
حماسہ یا تشدد کی دو قسمیں ہیں:
حماسہٴ مذموم یا نا پسندیدہ تشدد:
قدیم زمانے ہی سے سب لوگ اس قسم کے تشدد کی مذمت کرتے آئے ہیں جن لوگوں کے پاس اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول کے لیے کوئی دلیل اور منطق نہیں ہوتی وہ ان اہداف کے حصول کے لیے سختی پر اتر آتے ہیں اور تشدد کی راہ اپناتے ہیں اسکو مذموم یا نا پسندیدہ تشدد کہتے ہیں آج کل کی زبان میں اسے ڈکٹیٹر شپ، انتہا پسندی یا فرعونیت سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
دور قدیم کی قطاع الطریق کشور کشائی اور دور جدید کی استعمار گری یا دیگر چالیں ، سب مذموم تشدد کی مثالیں ہیں تاریخ انسانی اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے بطور مثال ہم یہاں پر چند تاریخی واقعات کا تذکرہ کریں گے :

۱- قتل ہابیل:
جب خداوند عالم نے ہابیل کی قربانی کو قبول کر لیا تو قابیل نے حسد کے مارے ہابیل سے فرمایا ”میں تمہیں قتل کر دوں گا“ ہابیل نے کہا ”تو اگر میری طرف ظلم و تعدی کا ہاتھ بڑھائے گا، تب بھی میں ایسا نہیں کروں گا“ جیسا کا قرآن مجید میں بیان ہوا ہے ۔
<اذ قربا قربانا فتقبل من احدھما ولم یتقبل من الآخر قال قتلنک قال انما یتقبل اللہ من المتقین لئن بسطت الیٰ یدک لتقتلنی ما انا بباسط یدی الیک لا قتلک >
”جب دونوں نے قربانی دی اور ایک کی قربانی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو وہ کہنے لگا میں تجھے قتل کردوں گا اس نے کہا اللہ تعالیٰ تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے اگر تم میری طرف قتل کے لیے ہاتھ بڑھاوٴ گے بھی تو میں تمہاری طرف ہرگز ہاتھ نہ بڑھاوٴں گا“ ( مائدہ / ۲۷ ، ۲۸ )

۲- برادران یوسف علیہ السلام
برادران یوسف علیہ السلام نے صرف اس بہانے کہ حضرت یعقوب حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ محبت کرتے ہیں آپس میں فیصلہ کیا کہ یا تو حضرت یوسف علیہ السلام کو قتل کردیا جائے یا انہیں کسی کنویں میں پھنک دیا جائے برادران یوسف کو اگر کوئی شکایت تھی بھی تو حضرت یعقوب علیہ السلام سے تھی ، حضرت یوسف سے کو ئی غلطی سرزد نہیں ہوئی تھی ، لیکن ان کے تشدد کا نشانہ حضرت یوسف علیہ السلام بنے اور انہیں کنویں میں پھینکا گیا: <اقتلو ا یوسف او اطرحو ہ ارضا یخل لکم وجہ ابیکم و تکونوا من بعدہ قوما صٰلحین> ( یوسف / ۹)

۳- حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا ؛
جب زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام سے عمل نا مشروع و نا معقول انجام دینے کی خواہش کی ظاہر کی تو جناب یوسف علیہ السلام نے اسے مسترد کرتے ہوئے فرمایا ”میں اس سلسلہ میں پناہ مانگتا ہوں “ اس انکار کی پاداش میں زلیخا نے امرائے سلطنت کی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس (یوسف علیہ السلام ) نے میری بات نہ مانی تو میں اسے سخت عذاب دوں گی ۔

۴- حضرت موسیٰ علیہ السلام
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا نے حکم دیا کہ فرعون کے دربار میں جا کر اسے ڈراوٴ اور کہو کہ خدا پر ایمان لے آوٴ ساتھ ہی یہ حکم دیا کہ دیکھو اس کے ساتھ اچھے اور نرم الفاظ میں گفتگو کرنا (سورہٴ طہٰ / ۴۳) چنانچه حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا لیکن اس کے باوجود خود فرعون نے کہا میں اسے قتل کر دوں گا (سورہٴ غافر / ۲۶) اور اس کے درباریوں نے بھی کہا کہ موسی علیہ السلام کو ایسے آزاد چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے ، ان کو قتل کر دیا جائے (سورہٴ اعراف / ۱۲۷ )

۵- حضرت علی علیہ السلام
حضرت علی علیہ السلام داماد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے برجستہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے سب سے پہلے ایمان لائے تھے آنکھ کھولتے ہی آپ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی اور انہی کے دامن میں پرورش پائی ان تمام فضیلتوں کے باوجود معاویہ نے آپ پر سب و شتم کو نا صرف جائز بلکہ خطبہ کا جزء لاینفک قرار دیا جبکہ تمام اسلامی فرقے اس کو ناجائز سمجھتے ہیں ۔
والی کوفہ اور خطیب امام جمعہ کو اس فعل قبیح سے روکنے کی پاداش میں حجر ابن عدی جیسے عظیم صحابی اور دیگر اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معاویہ کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا ، یہاں تک کہ انہیں موت کی سزائیں دی گئی حالانکہ انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ علی علیہ السلام پر سب وشتم نہ کرو اس جرم میں ان کا سر قلم کر کے شام بھیج دیا گیا ۔

6- خوارج
اسلام کی ابتدائی تاریخ سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ایک ایسا فرقہ وجود میں آیا جس سے طول تاریخ میں پوری ملت خوفزدہ اور نالاں رہی ہے اس فرقہ کی حیثیت اپنے ابتدائی دور میں جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کے لیے معاویہ اور عمرو بن عاص کی طرف سے پھینکے گئے ایک تیر کی سی تھی البتہ یہ تیر معاویہ کے ترکش میں نہیں تھا بلکہ خود حضرت علی علیہ السلام ہی کے لشکر میں تھا مگر اس کو بنانے والے معاویہ اور عمرو عاص تھے اگرچہ حضرت علی علیہ السلام کے مخالفین یہ تیر بنا کر اس وقت تو کامیاب رہے لیکن جہاں اس فرقہ نے حضرت علی علیہ السلام کو رلایا ، وہاں اس سے معاویہ بھی ہمیشہ خوفزدہ رہا اس فرقہ کو مارقین کہتے ہیں اور خوارج بھی کہا جاتا ہے ۔
اس فرقہ نے حضرت علی علیہ السلام کو دو مرتبہ شہید کیا پہلی مرتبہ جنگ صفین کے موقع پر جب انہوں نے صفوں کے پیچھے سے آکر حضرت علی علیہ السلام کے سینہ پر تلوار رکھ کر حضرت علی علیہ السلام کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا اور بصورت دیگر خلافت سے عزل کرنے ، معاویہ کے سپرد کرنے اور شہید کرنے کی دھمکی دی ، یہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کا پہلا قتل تھا دوسری مرتبہ اسی فرقہ کے ایک شقی انسان نے ۱۹ رمضان المبارک کو علی الصبح حضرت علی علیہ السلام کو محراب عبادت میں شہید کر کے جسم اسلام پر ایسی شدید ضرب لگائی جس نے تاریخ اسلام کا رُخ ہی موڑ دیا ۔
اس فرقہ کی خصوصیات کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لوگ:
۱- حضرت علی علیہ السلام، عثمان رضی اللہ تعالی عنہ، معاویہ، سب ہی کو کافر گردانتے ہیں
۲- گناہ کبیرہ کرنے والوں کو کافر اور واجب القتل سمجھتے ہیں
۳- غیر خوارج سے شادی کرنے کو نا جائز سمجھتے تھے
۴- اپنی جنگوں میں شریک نہ ہونے والوں کو بھی کافر سمجھتے تھے
۵- جہاں حضرت علی علیہ السلام کے دشمن تھے وہاں بنو امیہ کے بھی دشمن تھے.
خوارج، حضرت علی علیہ السلام اور ان کے پیروکاروں کو حکمین کے معاہدہ کو غلط ٹھرانے میں قتل کا مستحق گردانتے تھے اور اس بنیاد پر ان کے خون کو ہدر سمجھتے تھے ، چنانچہ انہوں نے حامل قرآن صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حباب اور ان کی زوجہ کو علی علیہ السلام سے دستبردار نہ ہونے کے جرم میں قتل کیا اس کے برعکس وہ یہود و نصاریٰ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معاہدہ ضمنی کا خیال کرتے ہوئے محترم سمجھتے تھے اور انہیں امانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گردانتے تھے گویا ان کی نظر میں مولا علی علیہ السلام امانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں تھے اور یہود و نصاریٰ امانت رسول تھے ۔
خوارج کی خاص سیرت یہ تھی کہ اصل کو چھوڑ کر فرع پر سختی سے کاربند ہونے کے احکام نافذ کرتے تھے آج امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام فرقے کم وبیش اسی سیرت پر عمل پیرا نظر آتے ہیں آپس میں افہام وتفہیم کے دروازے سب ہی بند کئے ہوئے ہیں ہر ایک فرقہ افہام و تفہیم کو وقت کا ضیاع اور اپنے خلاف سازش گردانتا ہے اور ہر کسی نے دہشت گردی کی سیاست کو اپنایا ہوا ہے ہر فرقہ نے یہی رویہ یہود ونصاریٰ اور کفر والحاد کی استعماری طاقتوں کے مقابل بھی اپنا ہوا ہے آج مسلمان یہود و نصاریٰ کو ، ایک کلمہ توحید پڑھنے والے ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو تسلیم کرنے والے ، کعبہ کے معتقد صوم و صلوٰة اور حج اور زکوٰۃ کے معتقد اپنے مسلمان بھائی سے بہتر قرار دیتے ہیں صرف یہی نہیں بلکہ خود اپنے ہی فرقہ میں کسی شخص کو اگر ان کے مزاج کا مخالف پاتے ہیں تو اسے بھی مخالف فرقہ سے منسوب کر کے خوفزدہ کراتے ہیں کچھ یہی صورتحال عزاداری امام حسین علیہ السلام میں خرافات کو رواج دینے والوں اور ان خرافات کے حامیوں کی بھی ہے وہ بھی ان جعلی رسومات کے منکرین کو اسی طریقہ سے متہم کرتے ہیں ۔

۷- امام حسین علیہ السلام:
یزید نے برسراقتدار آنے کے فورا بعد والی مدینہ ولید بن عتبہ کے نام ایک حکم بھیجا کہ اگر حسین بن علی علیہما السلام میری بیعت سے سرتابی کریں تو ان کا سر تن سے جدا کریں چنانچہ مروان ابن حکم نے بھی ولید کو یہی مشورہ دیا کہ امام حسین علیہ السلام کو واپس جانے نہ دیا جائے بلکہ آپ علیہ السلام کو گرفتار کرلیا جائے یا قتل کردیا جائے لیکن ولید نے یہ کہہ کر اس کی بات ماننے سے انکار کردیا کہ آیا امام حسین علیہ السلام کو صرف یہ کہنے پر کہ ”بیعت نہیں کروں گا“ قتل کیا جاسکتا ہے؟
صبح عاشورا امام حسین علیہ السلام کبھی اپنے اصحاب سے دشمن کے سامنے جا کر انہیں وعظ و نصیحت کرنے کو کہتے اور کبھی خود تشریف لے جاتے اور فرماتے تھے ”آخر تم لوگ کیوں میرے قتل کے درپے ہو، کس منطق کے تحت مجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟ آیا میں مسلمان نہیں ہوں کیا میں نے کسی کو بے گناہ قتل کیا ہے؟ یا میں دین سے منحرف ہوگیا ہوں، مرتد ہوگیا ہوں کیا میں نے شریعت میں کوئی تبدیلی کی ہے؟ آخر تمہارے پاس میرے قتل کا کیا جواز ہے؟“ لیکن لشکر عمر ابن سعد نے جواب دیا کہ ”ہم آپ علیہ السلام کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہیں ہم صرف ایک بات جانتے ہیں اور وہ یہ کہ آپ علیہ السلام یزید کی بیعت کریں“ ان کے پاس بس یہی جواز تھا جس کی پاداش میں وہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کو قتل کرنا چاہتے تھے ۔

۸- دربار عبیداللہ بن زیاد
اسیران آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دربار ابن زیاد میں پہنچے تو اس لعین نے امام سجاد علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا یہ کون ہے ؟ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: ”میں علی ابن حسین علیہ السلام ہوں“ تو اس نے کہا ”کیا علی ابن الحسین علیہ السلام کربلا میں قتل نہیں ہوئے تھے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”وہ میرے بڑے بھائی علی اکبر تھے جسے تمہارے لشکر والوں نے شہید کیا “ یہ سن کر ابن زیاد نے فورا جلاد کو حکم دیا کہ آپ علیہ السلام کا سر تن سے جدا کردے یہ سنتے ہی جناب زینب علیہا السلام نے خود کو آپ علیہ السلام کے اوپر گرا دیا اس نے حکم دیا کہ جناب زینب علیہا السلام کو بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ قتل کردیا جائے لیکن عمر ابن کریز نے اسے اس ظلم سے باز رکھا۔
اس قسم کے تشدد کی بہت سی مثالیں دور جدید میں بھی موجود ہیں بہت سے اعمال و افعال ایسے ہیں جن کی کوئی منطق نہیں ہے مگر پھر بھی انہیں انجام دینے پر نہ صرف اصرار بلکہ اکثر ضد بازی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، خواہ اس کے نتیجہ میں کتنی ہی قیمتی جانیں اور مال کا ضیاع ہی کیوں نہ ہو خود یہ موقف اس عمل میں تشدد کی دلیل ہے بطور مثال ہمارے ملک کے بعض علاقوں میں عید نوروز کے موقع پر جلوس نکالے جاتے ہیں حالانکہ عید نوروز کا مذہب اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں یہ تو ایران کے آتش پرست شہنشاہوں کی تاج پوشی کا دن ہے ایک ایسا تہوار جس کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہمارے وطن پاکستان سے کوئی رشتہ ہے، اس کو مذہب کا جزء قرار دینا کہاں کی عقلمندی ہے؟ خود ایران میں اس تہوار پر کوئی جلوس نہیں نکلتا پھر ہمارے یہاں اس موقع پر جلوس نکالنے، مخالفین سے ٹکڑاو اور تشدد آمیز رویہ اختیار کرنے کا کیا جواز ہے؟ جبکہ اس کی پاداش میں قیمتی جانیں تک ضائع ہو جاتی ہیں، یہ غیر منطقی تشدد نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح بعض علاقوں میں اعیاد مذہبی پر چراغاں کرنے اور نہ کرنے کے مسئلہ میں بھی کتنی ہی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں ۔
اسی طرح ایک کلمہ گو مسلمان کو جو خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری نبی بر حق مانتا ہے، کعبہ کو قبلہ سمجھتا ہے ، فروع دین پر عمل کرتا ہے فقط صحابہ کرام پر تنقید کرنے کی پاداش میں موت کا حقدار قرار دینا بھی ایک بدترین تشدد ہے گو کہ مذکورہ عمل مذموم ہے لیکن اسے بہانہ بنا کر ایک مسلمان کو قتل کرنا غیر منطقی تشدد کی ایک واضح مثال ہے گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے ملک میں تشدد کا یہ سلسلہ پوری شدو مد کے ساتھ جاری ہے ۔

تشدد مذموم اور عدم تفہیم
تشدد مذموم میں سب سے بُری حماسہ گیری فریق مخالف سے افہام و تفہیم کے دروازے کو بند کرنا ہے اس سے بدتر کوئی تشدد کا مظہر نہیں ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکین سے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنے کی پیش کش کرتے تھے جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے؛ ”ہم دونوں میں سے ایک گمراہ ہے اور ایک ہدایت پر، ایسا نہیں ہے کہ دونوں گمراہی پر ہوں یا دونوں حق پر ہوں آئیے ہم افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں“۔
مشرکین مکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیش کش کے جواب میں کیا کہتے تھے قرآن کی آیت ملاحظہ ہو:
<وقالو قلوبنا فی اکنۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاننا و قرو من بیننا و بینک حجاب فاعمل اننا عاملون> ”اور کہتے ہیں کہ ہمارے دل جن باتوں کی تم دعوت دیتے ہو ، ان کی طرف سے پردہ میں ہیں اور ہمارے کانوں میں بہرا پن ہے اور ہمارے درمیان پردہ حائل ہے ، لہٰذا تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کر رہے ہیں“ (فصلت / ۵)

مذموم تشدد اور تفسیر باطل
مذموم تشدد اپنانے والوں کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ کسی ایک کلمہ صحیح یا کلام مستند کو لے کر اس کی غلط تفسیر کرتے ہیں اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں چنانچہ فرقہ خوارج نے صفین ، مسجد کوفہ اور نہروان میں ایک ایسے ہی کلمہ کو اپنا شعار بنایا: لا حکم الا للہ (حکومت صرف اللہ کے لیے) کہہ کر کتنے فساد برپا کیے جس کے نتیجہ میں کس قدر خون بہایا گیا . امیرالمومنین علیہ السلام نے اس غلط تفسیر سے پردہ اٹھایا اور فرمایا کہ یہ کلمہ اپنی جگہ صحیح ہے حکومت اصل میں خدا ہی کی ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ حاکم صرف خدا ہے، جبکہ اس حکومت کو اس کے احکام کے مطابق چلانے والے انسان ہی ہوتے ہیں ۔
دور حاضر میں ہمارے ملک میں بھی ایک ٹولہ اہل بیت علیہم السلام کے مسئلہ نورانیت کی غلط تفسیر کے ذریعہ خوارج ہی کا کردار کر رہا ہے اس طرح سے یہ لوگ اہل بیت علیہم السلام کی حقانیت کو پس پشت ڈالنے کی مہم چلا رہے ہیں یہ بات ٹھیک ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے نور ہونے سے متعلق آیات اور روایات کثرت سے موجود ہیں لیکن یہاں نور سے مراد یہ ہے کہ خود بھی واضح اور روشن ہو اور دوسروں کو بھی واضح اور روشن کرے یہ ذوات ایسے نور ہیں اور حسب روایات اتنے جلی ہیں کہ وجہ اللہ قرار پائے یعنی ان کو دیکھ کر خدا کی یاد آتی ہے یہ ذوات دیگر انسانوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی دینے کے لیے آئے ہیں لیکن افسوس کے تشدد مذموم اپنانے والوں نے ان کے نور ہونے کی غلط تفسیر کر کے لوگوں کو ان کی نورانیت سے فائدہ اٹھانے سے باز رکھاہے ۔

تشدد مذموم کا نتیجہ: تمسک سے محرومی
تشدد مذموم وہی لوگ اپناتے ہیں جنہیں اپنے افعال حرکات و سکنات ، کردار اور گفتار اور دعویٰ کے بارے میں کوئی مستند دلیل نہیں ملتی ہے جس کے پاس اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے دلائل کی فروانی ہوتی ہے وہ انہیں کمال اطمنان کے ساتھ اور بغیر کسی جھجھک کے پیش کرتا ہے اور مخالفین کو ان کے ذریعہ سے چیلنج کرتا ہے اس لیے جو صحیح معنوں میں امام حسین علیہ السلام کا پیروکار ہے اسے حسینی سیرت کا مجسم بننا چاہیے ۔ اور دور حاضر میں اس سیرت کا ترسیم پیش کرنا چاہیے .
امام حسین علیہ السلام نے جب خود کو سفاک لشکر کے سامنے پیش کیا تو فرمایا:
”میں تمہارے سامنے آیا ہوں بتلاوٴ کس بنیاد پر تم میرے خون کے درپے ہو؟ آیا تمہیں میرے مسلمان ہونے میں شک ہے؟ کیا میں دین سے منحرف ہو گیا ہوں؟ آیا میرے ذمہ کسی کا قصاص ہے؟ کیا میں نے شریعت میں کوئی تبدیلی کی ہے؟“
امام کے ان سوالوں کے جواب میں لشکر عمر سعد میں سے کسی کے پاس بھی کوئی دلیل و منطق نہیں تھی آج عزاداری امام حسین علیہ السلام اور مراسم عزاداری کو خرافات سے پر کرنے والوں کے پاس اگر کوئی دلیل اور منطق ہے ، اگر وہ خرافات کو عزاداری میں روا رکھنے کے لیے کوئی سند رکھتے ہیں اور اگر وہ صحیح معنوں میں حسین علیہ السلام کے پیروکار ہیں تو کیوں حسین علیہ السلام بن کر کمال اطمنان سے پیش نہیں کرتے؟

حماسہ ممدوح یا پسندیدہ تشدد
حماسہ ممدوح یا پسندیدہ کا مطلب ہے حق و باطل کی راہیں واضح و روشن ہونے کے بعد بغیر کسی خوف و ہراس کے، بغیر کسی کی پرواہ کیے ، حق پر شدت اور سختی سے قائم و دائم رہے یہی انبیاء کی سیرت رہی ہے قرآن کریم میں ایسی ہی ہستیوں کی تعریف کی ہے ملاحظہ ہو:
<ان الذین قالو ا ربنا ثم استقامو تتنزل علیھم الملائکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون> ”بے شک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اس پر جمے رہے ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنت سے مسرور ہو جاوٴ جس کا تم سے وعدہ کیا جارہاہے “ (حم سجدہ / ۳۰) <ان الذین قالواربنا اللہ ثم استقامو فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون> ”بے شک جن لوگوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور اسی پر جمے رہے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہونے والے ہیں“ (احقاف / ۱۳)
اسی طرح خدا وند متعال سورہٴ یوسف میں یوسف صدیق علیہ السلام کی زبان سے فرماتا ہے: ”یہی میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اتباع کرنے والا بھی ہوں“ (یوسف / ۱۰۸)
صرف خوف و ہراس پھیلانے والوں اور ملامت کرنے والوں کے مقابلے میں اہل حق کا اپنے موقف پر ڈٹے رہنا حماسہ ممدوح نہیں ہے بلکہ باطل طاقتوں کی طرف سے پیش کیے جانے والے سمجھوتوں اور مصالحتی ایجنڈں کو مسترد کرنا ، اگرچہ ان میں صلح و آشتی کی فضاء قائم کرنے کی سفارش ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود اس قسم کے جالوں میں نہ پھنسنا اور سختی سے اپنے موقف پر ڈٹے رہنا حماسہ ممدوح یا پسندیدہ تشدد ہے یہ عقلی بات ہے باطل پر جب تک حق واضح نہ ہو اسے حق کی طرف بلانے کی ضرورت واضح رہتی ہے لیکن اس پر حق کو واضح اور روشن کردینے کے بعد اہل حق کی استقامت دکھانا اس لیے ضروری ہے کہ باطل چونکہ حق سے دشمنی رکھتا ہے اس لیے اس کی صلح طلبی یا نرم گوشہ اختیار کرنے کی درخواست حسن نیت پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کے ذریعہ کسی موقع کی تلاش میں ہوتا ہے وہ اہل حق کو نرم گوشہ اختیار کرنے کی دعوت اس لیے دیتا ہے تاکہ ان کے دین میں سستی پیدا ہوجائے اور وہ خود اس موقع سے فائدہ اٹھائے چنانچہ مشرکین جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت اسلام سے ہاتھ اٹھانے کے لیے قانع نہ کرسکے تو انہوں نے خدا اور بتوں کی پرستش میں سال کو تقسیم کرنے کی بات شروع کر دی اور، کہنے لگے، جب خدا کی پرستش کا موقع آئے گا تو ہم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خدا کی پرستش کریں گے اور جب ہمارے بتوں کی پرستش کا وقت آئے گا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ہمارے ساتھ بتوں کی پرستش کرنا ہوگی گویا ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ خود تو مشرک تھے ہی، اس لے خدا کی پرستش سے ان کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہونا تھا جبکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موحد تھے ، بتوں کی پرستش سےپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بخود توحید پرستی سے نکل کر شرک میں داخل ہو جائیں اور پھر وہ کہہ سکیں گے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے موقف سے منحرف ہو گئے ہیبں خدا نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان سازشوں کے سامنے خاضع ہونے اور ایسا نرم گوشہ رکھنے والوں کے آگے جھکنے کے تمام طریقوں سے منع فرمایا، سورہٴ مبارکہ کافرون اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہے اسی طرح سورہٴ یونس میں خداوند متعال نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کریں تو کہہ دیجیے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں“ (یونس / ۴۱)
اس سلسلے میں قرآن کریم میں اور بھی بہت سی آیات وارد ہوئیں ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
”اور جب لغو بات سنتے ہیں تو کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال“ (قصص / ۵۵) آپ کہہ دیجیے کہ اے جاہلو! کیا تم مجھے اس بات کا حکم دیتے ہو کہ میں غیر خدا کی عبادت کرنے لگوں اور یقینا تمہاری طرف اور تم سے پہلے والوں کی طرف یہی وحی کی گئی ہے کہ اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمہارے اعمال برباد کر دیے جائیں گے اور تمہارا شمار گھاٹے والوں میں ہوجائے گا تم صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بندوں میں سے ہوجاؤ “ (زمر / ۶۴ ، ۶۵ ، ۶۶) ”اور اگر ہماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ (بشری طور پر) کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ضرور ہو جاتے “ (اسراء / 74) اور خبردار تم لوگ ظالموں کی طرف جھکاوٴ اختیار نہ کرنا کہ جہنم کی آگ تمہیں چھو لے گی اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست نہیں ہو گا اور تمہاری مدد بھی نہیں کی جائے گی“ (ہود / ۱۱۳) ”ایمان والو! اپنے آس پاس والے کفار سے جہاد کرو اور وہ تم میں سختی اور طاقت کا احساس کریں“ (توبہ / ۱۲۳) ”اپنے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آوٴ“ (مریم / ۹ ) ”تم سے بہت سخت قسم کا عہد لیا ہے“ (نساء / ۲۱) اور ہم نے ان سے بہت سخت قسم کا عہد لیا ہے“ (احزاب / ۷ ) ”پیغمبر ! کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے“ (توبہ / ۷۳) قرآن کریم کی آیات یہی درس دیتی ہیں اور سیرت پاک انبیاء اور آئمہ طاہرین علیہم السلام میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ وہ کبھی بھی دلیل و برہان و منطق کے بغیر کسی تشدد کے قائل نہ تھے وہ نہ خدا اور اس کے عطا کردہ دین کو اپنی زندگی کے نشیب و فراز کی ہواوں کے زد میں رکھنے کے حق میں تھے اور نا ہی اس بات کے حق میں تھے کہ کسی کی خوش آمد میں آ کر دین کو قربان کیا جائے یا فلسفہ ضرورت کو اقدار بنا کے دین کو پس پشت ڈالا جائے ۔ سورہٴ مبارکہ فتح کی آیت ۲۹ میں خداوند عالم نے پیغمبر اور پیغمبر پر ایمان لانے والوں کے اوصاف واضح طور پر بیان فرمائے ہیں، ارد شاد ہوتا ہے:
”محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں آپ انہیں رکوع، سجود میں دیکھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے فضل اور خوشنودی کے طلبگار ہیں سجدوں کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نیشان پڑے ہوئے ہیں ان کے یہی اوصاف تورات میں بھی ہیں اور انجیل میں بھی ان کے یہی اوصاف ہیں وہ گویا ایک کھتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا اور موٹی ہوئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی اور کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ اس طرح کفار کا جی جلائے ۔“
اس آیت میں خداوند تعالیٰ نے واضح طور پر بتایا ہے کہ اہل حق کو کفر و الحاد کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا ہے اور خدا اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں اور دین خدا کے لیے سر و تن دینے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان اسی اصول کے تحت اگر دیکھیں کہ دین و مکتب کی بقاء ذلت اختیار کرنے اور دشمن کے آگے سر تسلیم خم کرنے میں ہے تو انہیں ایسا کرنا چاہیے تاکہ دین باقی رہے اور دین کے داعی بھی باقی رہیں لیکن اگر دیکھیں کہ ان کی بقاء سے دین باقی نہیں رہتا بلکہ ایسے حالات میں خود ان کی حیات دین کی کمزوری کی نشانی بن جاتی ہے تو اس وقت انہیں چاہیے کہ اپنے وجود کو داؤ پر لگا دیں، ہر قسم کی اذیت و تکلیف کر برداشت کریں اور اس ظاہری تذلیل سے خوف نہ کھائیں، تاکہ دین سربلند رہے ۔

حماسہٴ حسینی
تحریک و نہضت حسینی ، شروع سے لے کر آخر تک حسین علیہ السلام و حسینیوں کے حماسہ سازی کا مظاہرہ ہے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جانثاروں نے ان مخصوص حالات میں جس محیر العقول حماسہ کا مظاہرہ کیا ہے دنیا بھر کے مردان شجاع آج تک اس پر انگشت بدندان ہیں ۔
حماسہٴ حسینی، ادائے حقوق کی خاطر ایک ایسی حماسہ گری ہے جس کے کرداروں کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

۱- اس حماسہ کا مرکز خود امام حسین علیہ السلام ہیں اس تمام واقعہ میں آپ کو وہی مقام حاصل ہے جو منظومہٴ شمسی میں سورج کا ہے منظومہٴ شمسی کے دوسرے تمام ستاروں کی روشنی کا دار و مدار سورج کی روشنی پر ہوتا ہے اگر سورج کی روشنی نہ ہو تو باقی سب ستارے بے نور ہوجائیں گے ۔

۲- حماسہٴ حسینی علیہ السلام کا دوسرا کردار وہ جانثاران حسین علیہ السلام ہیں جو تمام تر خطرات دیکھتے بھالتے ، امام حسین علیہ السلام کے گرد پروانوں کی طرح چکر لگاتے رہے ، یہ دلیران بے مثل دشمن کی قوت اور درندگی کو چیلنج کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام خلیل کی طرح نار نمرود میں کود پڑے اور ہر موقع اور مقام پر انہیں ایسا دندان شکن جواب دیا کہ دنیا بھر کی حماسہ خواہوں کے لیے بہترین اسوہ اور مینار حماسہ بن گئے ، یہ ہیں اس منظومہ شمسی کے وه درخشان ستارے جس کا سورج امام حسین علیہ السلام ہیں ۔
اس گروہ میں چھوٹی چھوٹی عمروں کے نابالغ بچے ، نوجوان ، جوان اور بوڑھے ، غرض ہر عمر اور ہر سن کے افراد شامل تھے ان کے علاوہ چادر اسارت پہن کر دشمن کے ایوانوں میں آتشین خطبہ دینے والی سیدانیاں ، اہلبیت اطہار علیہم السلام اور جوانان بنو ہاشم بھی اسی گروہ کے اہم ارکان ہیں ۔
یہاں ہم اس معرکہٴ حق و باطل میں حماسہ عمومی کا مظاہرہ کرنے والی شخصیات کا ذکر کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ انہوں نے کس انداز میں حماسہ کی مظہر نمائی کی ہے ۔

۱- نمائندہ یا سفیر اولِ حسین علیہ السلام کا حماسہ
اکثر کتب مقاتل بالخصوص مقتل بحرالعلوم ص ۲۳۱ پر لکھا ہے کہ جب لشکر عبیداللہ بن زیاد نے حضرت مسلم علیہ السلام کی پناہ گاہ یعنی منزل طوعہ کا محاصرہ کیا تو مسلم بن عقیل انتہائی جراٴت و شہامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی طاقت اور قدرت سے بے پرواہ ہو کر گھر سے باہر نکلے آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”میں نے قسم کھائی ہے کہ اگر مروں تو آزاد مروں اگرچہ موت میرے لیے کڑوی ہی کیوں نہ ہو ہر انسان کو ابک نہ ایک دن موت سے ملاقات کرنی ہے بالکل ویسے ہی جیسے سردی کے بعد گرمی کا آنا یقینی ہے اگر مرنا ہی ہے تو آزاد کیوں نہ مروں !“
جب آپ کو اسیر کر کے دارالامارة لایا گیا اور ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے کمال بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا، عبیداللہ ابن زیاد کو سلام کیے بغیر داخل دربار ہوئے درباریوں کو آپ کی اس جراٴت پر بہت غصہ آیا کہنے لگے ”امیر کو سلام کرو“ آپ نے فرمایا: ”خاموش ہوجاوٴ! یہ میرا امیر نہیں ہے؟ میرا امیر حسین علیہ السلام ہے“۔
ابن زیاد نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا: ”اے عاق اے شاق ! تم نے وقت کے امام کے خلاف خروج کر کے وحدت امت کو پاش پاش کیا اور فتنہ اور فساد برپا کرنے کی کوشش کی“ آیئے دیکھتے ہیں اس موقع پر یہ اسیر کس قسم کے حماسہ کا مظاہرہ کرتا ہے آپ نے اس کو جواب دیتے ہوئے فرمایا:
”تم نے جھوٹ بولا ہے، وحدت کو ہم نے نہیں معاویہ اور اس کے بیٹے یزید نے پاش پاش کیا ہے فتنہ تم نے اور تمہارے باپ نے پھیلایا ہے میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے اس کے بدترین خلائق کے ہاتھوں شہادت نصیب کرے ۔“
ابن زیاد نے کہا:
”تم تو حکومت کی خواہش لے کر آئے تھے لیکن خدا تمہارے اور حکومت کے درمیان حائل ہوگیا تم حکومت تک نہیں پہنچ سکے اور حکومت کو خدا نے اس کے اہل کے لیے باقی رکھا “۔
آپ نے پوچھا: ”تمہاری نظر میں اہل سے مراد کون ہیں؟“
اس نے کہا: ”یزید ابن معاویہ“
پھر آپ سے پوچھنے لگا کہ: ”کیا تمہیں اس کے برحق ہونے کا گمان ہے؟“
آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”مجھے گمان نہیں بلکہ یقین ہے کہ وہ اس منصب کا سزوار نہیں ہے ۔“
اس طرح سے امام علیہ السلام کے اس نمائندے نے دیار غربت میں ہونے کے باوجود شقی ترین انسان کی شقاوت و جسارت کو چیلنج کیا یہ وہی شقی انسان تھا جس کے شقی باپ کو معاویہ نے محض اس کی شقاوت کی وجہ سے اہل کوفہ پر مسلط کیا تھا اس کے سینہ میں محبان علی علیہ السلام کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی آپ نے انتہائی بے جگری سے اس کا مقابلہ کیا اور اپنے ہدف پر یقین رکھتے ہوئے دشمن کے ظلم و ستم اور جنایتوں کا جواب دیا ۔

۲- حماسہٴ مسلم ابن عوسجہ
”مقتل بحر العلوم ص ۲۸۱ پر نقل ہے کہ: شب عاشورہ امام مظلوم علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے فرمایا: ”دشمن ہمارا محاصرہ کرچکا ہے اب بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی یہ لوگ صرف میرے خون کے پیاسے ہیں، لہٰذا آپ حضرات جو میرے باوفا اصحاب ہیں، رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں سے چلے جائیں دشمن آپ سے تعرض نہیں کرے گا، میری طرف سے آپ سب کو اجازت ہے“ یہ سننا تھا کہ مسلم بن عوسجہ اپنی جگہ سے اٹھے اور بولے:
”مولا علیہ السلام ہم ایسا کیوں کریں؟ خدا کبھی ہمیں وہ دن نہ دیکھائے کہ ہم ایسی شرمناک حرکت کے مرتکب ہوں میں اپنا نیزہ دشمن کے سینے کے آر پار کردونگا جب تک میرا ہاتھ سالم ہے جنگ کروں گا اگر اسلحہ ختم ہو گیا تو ہم پتھروں سے جنگ کریں گے لیکن کسی قیمت پر آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے آپ علیہ السلام کے ساتھ جئیں گے اور آپ کے ساتھ ہی مریں گے۔“

۳- حماسہٴ سعید بن عبداللہ حنفی
سعید بن عبداللہ حنفی امام حسین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
”اے فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم کبھی بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے، یہاں تک کے خدا کو گواہ بنا لیں کہ ہم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی حفاظت کی ہے اگر ہمیں ستر (۷۰) بار قتل کیا جائے، ہماری لاشوں کو جلا کر اس کی راکھ ہوا میں اڑائیں اور پھر ہمیں زندہ کیا جائے، تب بھی ہم آپ علیہ السلام سے جدا نہیں ہوں گے ہم اپنی جانیں آپ علیہ السلام پر نثار کریں گے ہم ایسا کیوں نہ کریں ، یہ ہمارے لیے آسان اور ختم نہ ہونے والی کرامت ہے “۔

۴- حماسہٴ زہیرا بن القین
زہیر نے کہا: فرزند رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میری خواہش ہے کہ اعداء مجھے قتل کریں، اسکے بعد مجھے زندہ کیا جائے پہر قتل کریں ،پہر زندہ کیا جائے اس طرح ہزار بار بھی ہوجائے تو مجھے منظور ہے اگر آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اہل بیت علیہم السلام بچ جائیں میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی نیکی نہیں ہو سکتی ہم اپنے ہاتھوں سے آپ کا دفاع کریں گے، اپنے خون سے آپ علیہ السلام کا دفاع کریں گے، اور اس وقت تک کرتے رہیں گے جب تک کہ ہمارا خدا ہم سے راضی نہ ہوجائے ۔“

۵- حماسہٴ علی اکبر علیہ السلام
حسین علیہ السلام کا یہ فرزند رشید میدان جنگ میں مثل شیر غضبناک اتر کے آیا دشمن کی کثرت کو خاطر میں لائے بغیر اپنے حماسہٴ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گرج کر بولا:
”میں علی علیہ السلام فرزند حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام ہوں ہم وہ ہیں جنہیں کعبۃ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے بلندی عطا ہوئی ہے خدا کی قسم ہمارے اوپر فرزند زانیہ حکومت نہیں کر سکتا میں اپنے نیزے سے تمہیں ماروں گا یہاں تک کہ موت آجائے اپنی تلوار سے بابا کا دفاع کروں گا اور علی مرتضیٰ علیہ السلام کی شجاعت کا مظاہرہ کروں گا“۔

۶- حماسہٴ عباس
لشکر حسین علیہ السلام کا علمدار با وفا ، امید و سہارائے اہل بیت علیہم السلام عباس علیہ السلام باوفا جب لشکر اعداء کے نرغے میں گر گیا تو اس عالم میں بھی انتہائی بے پروائی کے ساتھ یہ رجز پڑھا: ”میں موت سے نہیں ڈرتا اگر موت میری طرف آئے تو میں خود میدان جنگ میں کود جاوٴں گا میرا نفس وقف ہے نفس مصطفیٰ کی حمایت کے لیے، میں آج میدان جنگ سے خوف زدہ نہیں ہوں اگر یہ لوگ میرا دایاں ہاتھ قطع کردیں تب بھی میں دین کی حمایت نہیں چھوڑوں گا اور امام وقت کا دفاع کرتا رہوں گا اے نفس! کفار سے خوفزدہ نہ ہونا تیرے لیے رحمت جبار کی بشارت ہو“۔

حماسہٴ خواتین
اس معرکہٴ حق و باطل میں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں عمر رسیدہ افراد اور کم سن بچوں کے علاوہ خواتین نے بھی لشکر اعداء کی تعداد اور قوت سے بے پرواہ ہو کر دشمن کے نیزوں اور پتھروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت کو آب کوثر کی مانند نوش کیا ۔

حماسہٴ زینب سلام اللہ علیہا
عقیلہ قریش، پروردہ دامن عصمت حضرت زینب سلام اللہ علیہا جب پورے خاندان کی داغ جدائی لیے، اسیری کی مصیبتیں جھیلتے ہوئے حاکم کوفہ کے دربار میں پہنچیں تو فتح کے نشہ میں چور فرعون بن کر کرسی پر بیٹھنے والے نے بزعم خود آپ کو ذلیل کرنے اور زخموں پر نمک پاشی کرنے کے لیے کہا ”اس خدا کے لیے حمد ہے جس نے آپ کو شرمندہ کیا ، مردود قرار دیا اور آپ کی باتوں کو جھوٹا ثابت کردیا “ یہ جملے سنتے ہی وہ خستہ تن زینب سلام اللہ علیہا جس کا دل زخموں سے چور چور تھا، کمال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
”حمد ہے اس ذات کے لیے جس نے ہمیں نبوت سے نوازا اور رجس اور پلیدگی سے دور رکھا، شرمندگی فاسق کے لیے ہے، جھوٹ فاجر بولتا ہے اور وہ ہم نہیں ہیں“۔
آپ کا جواب سن کر عبیداللہ بن زیاد نے پوچھا: ”آپ نے اپنے بھائی اور اہل بیت سے متعلق خدا کے فیصلہ کو کیسا پایا؟“ ایک بار پھر آپ نے جراٴت مندی سے فرمایا:
” اے فرزند مرجانہ ! تیری ماں تیرے غم میں روئے میں نے تو بجز حسن و جمال کے کچھ نہیں دیکھا۔“
اس کے بعد جب دختر علی علیہ السلام کو دربار یزید میں لایا گیا تو آپ نے دیکھا کہ یزید تخت حکومت پر بیٹھا ہوا ہے اور سر حسین علیہ السلام اس کے سامنے رکھا ہے، کبھی وہ اپنے اس فعل قبیح پر خوشی کا اظہار کرتا ہے اور کبھی آپ کی شان میں شماتت کے کلمات ادا کرتا ہے جناب زینب سلام اللہ علیہا نے اس موقع پر یزید کے دربار میں ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا:
”اے یزید! تو اپنے تمام تر مکر و فریب کو بروئے کار لے آ، جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے کر لے لیکن یاد رکھ ہمارے ذکر کو کبھی نہیں مٹا سکے گا میں تجھے انتہائی حقیر سمجھتی ہوں میرے لیے یہ سب سے بڑی مصیبت ہے کہ آج میں تجھ سے مخاطب ہوں۔“

حماسہ سردار حماسہ گران
امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسین علیہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے جس دن آپ علیہ السلام نے اس بار امانت کو سنبھالا اسی روز سے دین کے دفاع اور بقاء کے لیے ہمیشہ حماسہ آفرینی کا عظیم مظاہرہ کیا ہے ۔ اس حماسہ آفرینی کی شعاعیں آپ علیہ السلام کے اہل بیت اطہار علیہم السلام اور یاران باوفا پر بھی پڑیں چنانچہ جیسا کہ ہم نے گزشتہ صفحات میں عرض کیا ان شخصیات ولا صفات نے بھی اپنے اپنے مقام پر بے مثل شجاعت اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے یہاں پر ہم امام حسین علیہ السلام کی حماسہ آفرینی کے چند نمونے قارئین اکرام کی خدمت پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں:

۱- معاویہ کی سر توڑ کوشش تھی کہ کسی طرح یزید کی ولی عہدی کے معاملہ میں امام حسین علیہ السلام کو قانع کر سکے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ہر قسم کے مکرو فریب دھوکہ اور چاپلوسی سے کام لیتا تھا چنانچہ اس سلسلہ میں ایک مرتبہ جب وہ مدینہ آیا تو کوشش کی کہ امام حسین علیہ السلام کو نظر انداز کرتے ہوئے ابن عباس کو خاندان رسالت کا سربراہ بنا کر ان سے یزید کی ولی عہدی کا اقرار لے لیں امام حسین علیہ السلام نے اسکے ارادوں کو بھانپتے ہوئے فرمایا: اے ابن عباس! تم خاموش رہو میں جواب دیتا ہوں “ پھر آپ علیہ السلام نے معاویہ سے فرمایا: ”تم ایک مجہول شخص کی تعریف کرنا چاہتے ہو گویا ہم اسے نہیں جانتے جبکہ یزید نے اپنے برے اعمال و کردار کے ذریعہ اپنا تعارف خود کرایا ہے“۔

۲- معاویہ نے امام حسین علیہ السلام پر فتنہ و فساد پھیلانے کی سازش کا الزام عائد کر کے آپ کو متہم کرنے کی کوشش کی تاکہ اس تہمت کے دفاع میں آپ علیہ السلام اس سے یہ وعدہ کریں کہ ہم تم سے کچھ نہیں کہہ رہے ہیں لیکن امام علیہ السلام نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے بیک وقت دو زاویوں سے حقیقت کو واضح کیا آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر میں تمہارے ساتھ جنگ نہیں کر رہا ہوں تو یہ میری تقصیر ہے اور اگر تم دھمکی دے رہے ہو تو جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر بیٹھو ۔“

۳- جب والی مدینہ نے امام علیہ السلام کو اپنے دربار میں بے وقت بلاکر بیعت کا سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے انتہائی جرائت مندانہ انداز میں اسے جواب دیا آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”ہمارا تعلق اہل بیت نبوة صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے معدن الرسالة سے ہے یزید فاسق و فاجر ہے مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔“

۴- جب بنو امیہ کے مقرر کردہ امیر حج عمر ابن سعید اشدق نے امام حسین علیہ السلام کو دوران حج شہید کرنے کی سازش کی تو آپ علیہ السلام مکہ سے دن کی روشنی میں یہ فرماتے ہوئے نکلے:
”بنو امیہ نے اس سرزمین امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے انہوں نے اس کے امن کو بدامنی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے اب میرے لیے یہاں امن نہیں رہا لہٰذا میں یہاں سے نکل رہا ہوں۔“

۵- جب والی بنو امیہ کے بھائی، یحیٰ ابن سعید نے مکہ سے باہر امام حسین علیہ السلام کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ آپ علیہ السلام فتنہ و فساد پھیلانے جا رہے ہیں، واپس چلیں تو امام علیہ السلام نے تلوار نیام سے نکالی اور مقابلے کے لیے تیار ہوگئے، آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”میرے اعمال میرے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے ، میں تم سے بری ہوں ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے۔“

۶- جب اثنائے سفر حر نے آپ علیہ السلام کا راستہ روکا اور مقابلہ کرنے کی صورت میں قتل کی دھمکی دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:
”تم مجھے موت کا خوف دلاتے ہو میں اپنے ارادہ پر قائم ہوں موت جوانمردوں کے لیے کوئی عار نہیں شرط یہ ہے کہ وہ ارادتا حق پر ہو اور دین کی راہ میں جہاد کے لیے آمادہ۔“
اسی طرح جب حر نے کوفہ سے آنے والے نافع بن ہلال اور ان کے ساتھیوں کو روکنا چاہا تو امام علیہ السلام نے فرمایا:
”ان کو چھوڑ دو اگر نہیں چھوڑو گے تو جس طرح میں اپنے اہل بیت کا دفاع کرتا ہوں ان کا دفاع بھی کروں گا “ حر نے جب امام کے عزم و ارادہ کو دیکھا تو ان کو چھوڑ دیا ۔

۷- کتب مقاتل میں لکھا ہے کہ جب سارے انصار اور بنو ہاشم کے تمام افراد درجہٴ شہادت پر فائز ہوگئے تو خود امام حسین علیہ السلام شوق لقاء اللہ میں کسی دولہا کی طرح موت سے معانقہ کرنے نکلے، آپ علیہ السلام ایسے مردانہ وار اور شجاعانہ انداز میں خیمے سے نکلے کہ دیکھنے والوں نے کیفیت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”واللہ! ایسا شخص ہم نے کبھی نہیں دیکھا جس کے اہل بیت و یاران سب شہید ہوئے ہوں اور وہ اتنا مطمئن اور پر سکون ہو اور ایسے درخشان چہرہ اور ایسی جراٴت و شہامت کے ساتھ میدان میں نکلا ہو“ میدان میں آکر آپ نے دشمنوں کو للکارا، جب دشمن قریب آنے کی جراٴت نہ کر سکا تو آپ علیہ السلام خود ان پر ٹوٹ پڑے، لکھا ہے کہ جس طرح شیر کو دیکھ کر بھیڑ بکریاں بھاگتی ہیں اسی طرح سے دشمن آپ کو دیکھ کر راہ فرار اختیار کرتے تھے کسی میں ہمت نہ تھی کہ قریب آئے اور آپ علیہ السلام سے جنگ کرے، جب عمر سعد نے دیکھا کہ لشکر پر شکست کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں تو اس نے ملامتی لہجے میں کہا: ”اے قوم! افسوس ہو تمہارے لیے تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ تم کس کے مقابل میں ہو ، جانتے ہو یہ کس کا فرزند ہے؟ یہ حسین علیہ السلام فرزند علی علیہ السلام ہیں، یہ قتال عرب کے فرزند ہیں ان کے ساتھ فرداً فرداً مقابلہ نہیں کر سکو گے ہر طرف سے گھیر کر ان پر حملہ کرو ادھر یہ شور تھا اور ادھر آپ علیہ السلام فرما رہے تھے:
”موت انسان کے لیے ننگ و عار سے بہتر ہے اور عار انسان کے لیے جہنم میں جانے سے بہتر ہے ۔“

شہید مرتضیٰ مطہری رحمۃ اللہ علیہ اور حماسہٴ سازی
شہید مرتضیٰ مطہری ایران اسلامی کے اس خطہ میں پیدا ہوئے جہاں مکتب اہل بیت علیہ السلام سے تعلق اور وابستگی رکھنے والوں کو غلبہ و اکثریت حاصل ہے جس زمانے میں آپ نے حصول و معارف اسلامیہ کا دور مکمل کیا ان دنوں ایران مغرب و امریکہ کی استعماری سازشوں کی ایسی آماجگاہ بن چکا تھا جو اس پورے خطے کے علمی و فکری اور دیگر اسلامی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے ایک کنٹرول روم کی حیثیت اختیار کر چکا تھا، دیگر منصوبہ جات کی طرح ایک کثیر الرقم بجٹ اسلام و تشیع کو مسخ کرنے کے لیے مختص کیا جاتا تھا ۔
ایک طرف دین اسلام کو دشمنی اور عداوت کا نشانہ بنا کے اس کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور دوسری طرف دوستی کی آڑ میں مختلف شعائر اسلامی میں خرافات داخل کی جاتی تھیں، حکیم و فیلسوف شہید مرتضیٰ مطہری رحمۃ اللہ علیہ نے ان حالات کو درک کرنے کے بعد ایک حکمت عملی تیار کی اور اسے عملی جامہ پہنانے میں نہایت سرگرمی کا مظاہرہ کیا آپ نے تمام تر دوراندیشی باریک بینی اور حکمت ستیزی کے ساتھ ہر موقع و مناسبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں رائج خرافات کے خلاف آواز بلند کی، وہ تمام خرافات جنہیں اسلام و مسلمین کو پسماندہ رکھنے کے لیے رواج دیا گیا تھا آپ نے ان کا انتہائی جراٴت مندی سے مقابلہ کیا اور ان کی جڑوں کو اس سرزمین سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کمر بستہ ہو گئے ان خرافات میں سے بعض کے آثار آج انقلاب اسلامی کو کامیاب ہوئے بیس سال گزرنے کے بعد بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں، اس کی ایک مثال عید نوروز کی ہے، آج ایران میں موجودہ قوم پرست عناصر اس تہوار کے مردہ جسم میں دوبارہ روح پھونکنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں انہیں خاصی کامیابی بھی ہوئی ہے یہ لوگ نوروز کے تیرہویں دن کو ”سزدہ بدر“ کہتے ہیں اس دن وہ اپنے گھروں کو قفل لگا کر کھلے آسمان کے نیچے دشت و بیابان میں نکل جاتے ہیں کیونکہ وہ اسے تمام دنوں میں سب سے زیادہ منحوس دن گردانتے ہیں شہید مطہری نے اس رسم کے خلاف جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، ببانگ دھل آواز اٹھائی اور اس فکر کا خوب مذاق اڑایا ۔
جس زمانے میں نجف اشرف مرکز فقہا و مجتہدین تھا ان دنوں میں بھی عالم تشیع ایران کو ہی اپنے لیے طاقت و قدرت کا سرچشمہ تصور کرتا تھا کیونکہ تشیع کی اکثریت یہیں پر تھی یہی وجہ ہے کہ یہاں کے معاشرہ میں عزاداری امام حسین علیہ السلام کو ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے، اس خطے کے لوگ ہمیشہ سے عزاداری کے فروغ کے طلبگار رہے ہیں ، زندگی کے دسرے شعبوں کی طرح اس مسئلہ میں بھی قانون و طلب و رسد کا اطلاق ہونا لازمی تھا عزاداری کی اس بڑھتی ہوئی مانگ سے جعل سازوں نے خوب فائدہ اٹھایا، دین فروشوں نے عزاداری میں اصل متاع فراہم کرنے کی بجائے جعلی متاع فراہم کرنے کی مہم شروع کردی عزاداری امام حسین علیہ السلام کے نام پر ایسی ایسی خرافات کا اجراء کیا گیا جو غیر مسلموں کی نظروں میں مسلمانوں کی بدنامی کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں ان ظالموں نے عزاداری امام مظلوم کو ہر پہلو سے گرانےکی کوشش کی، خواہ اس کا تعلق خطابت و روضہ خوانی سے ہو یا جلوسوں میں شبیہ سازی سے، ان لوگوں نے خرابی پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔
رفتہ رفتہ یہ خرافات سرحد پار کر کے برصغیر میں داخل ہو گئیں ان چیزوں کو دیکھ کر یہاں رہنے والے ان لوگوں کو جو مکتب تشیع کا کجھ درد رکھتے تھے بہت دکھ پہنچا، درد دل رکھنے والے ایسے ہی ایک بزرگ عالم دین نے ایران کے اس وقت کے ایک نابغہ علم و حدیث محدث نوری کے محضر میں ایک درخواست ارسال فرمائی ، اس مکتوب میں انہوں نے برصغیر میں خطباء اور ذاکرین کی خرافات سازی اور مصائب میں دروغ گوئی کی شکایت کی ، ساتھ ہی ان سے اس سلسلے میں اصلاحی اقدامات کرنے کی غرض سے اہل منبر کے وظائف و شرائط پر مشتمل کتاب تالیف کرنے کی غرض سے اہل منبر کے وظائف و شرائط پر مشتمل کتاب تالیف کرنے کی درخواست کی، مرحوم محدث نوری اعلیٰ اللہ مقامہ نے ان کی درخواست کی پذیرائی کرتے ہوئے ”لوٴلوٴ مرجان“ (اس کتاب کا اردو ترجمہ ”آداب اہل منبر“ کے نام سے دارالثقافۃ الاسلامیہ شائع کر چکا ہے ۔) کے نام سے ایک کتاب تالیف فرمائی اس کتاب میں اس عالم دل سوز کی فریاد کو تالیف کا محرک قرار دیتے ہوئے آپ لکھتے ہیں کہ ہند کا بیچارہ یہ عالم دین سمجھ رہا ہے کہ یہ خرافات اس کے علاقہ کی پیداوار ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ان خرافات کا اصل مصدر و مآخذ تو خود ایران ہے، نہ کہ برصغیر، امام حسین علیہ السلام کے بارے میں دروغ گوئیوں افتراء پردازیوں، کہانیوں اور افسانوں سے پر کتابیں اصل میں ایران ہی کی پیداوار ہیں جیسے: کتاب روضۃ الشہداء تالیف ملا کاشفی، اسرارالشہادۃ تالیف ملا دربندی، مخزن البقاء، طریق البقاء، محرق القلوب، ریاض القدس اور معالی السبطین وغیرہ ۔
علمائے کرام و مراجع عظام ان خرافات کے خلاف ہوتے ہوئے بھی بے بس نظر آتے تھے کیونکہ ایک جانب یہ خرافات ملک کے طول و عرض میں جڑ پکڑ چکے تھے اور دوسری جانب خود ان کے حاشیہ نشینوں نے اس سلسلے میں ایک غلط تجزیہ پیش کیا ہوا تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ان خرافات اور غلطیوں کو روکنے کا حکم دیا گیا تو لوگ مذہب ہی سے بدظن ہو جائیں گے، گویا ان حاشیہ نشینوں نے ابن حاجب کے گوسفند اور بھیڑیے کی مثال کو مراجع عظام کے حضور میں پیش کیا ہوا تھا، مراجع عظام کے حاشیہ نشین آج بھی انہیں ایسے ہی مشورے دیتے رہتے ہیں چنانچہ وقتا فوقتا اس سلسلے میں متضاد فتاویٰ سننے میں آتے رہتے ہیں ۔
یہ علماء حضرات ایک عجیب مخمصہ میں گرفتار نظر آتے ہیں ایک طرف تجزیہ نگاروں کے تجزیوں پر کان دھرتے ہوئے جراٴت و شہامت کے مظاہرے اور حماسہ گیری سے گریز کرتے ہیں اور دوسری طرف سے عزاداری امام حسین علیہ السلام اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کو لاحق خطرات سے پریشان ہو کر ان اجتماعات کے ذمہ داروں کو اپنے گھروں پر بلا کر سرگوشی کے عالم میں ان خرافات کو چھوڑنے کی درخواست کرتے ہیں چنانچہ امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی اپنے بیانات میں حوزہ علمیہ قم کے موٴسس و بانی آیت اللہ عبد الکریم حائری رحمۃ اللہ علیہ اور ان سے پہلے آیت اللہ برجردی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب سے کی گئی اس قسم کی کوششوں اور ان کی ناکامی کا ذکر فرمایا ہے تفصیلات کے لیے ملاحظہ فرمائے آپ کی کتاب ”قیام عاشورا“ جسکا اردو ترجمہ دار اثقافة الاسلامیہ شائع کر چکا ہے ۔
دور حاضر میں آیت اللہ شہید مرتضیٰ مطہری رحمۃ اللہ علیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے بے مثال جراٴت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور جان کی بازی لگا کر ببانگ دھل، زبان و قلم دونوں ذریعوں سے نہ صرف ان خرافات کے خلاف آواز اٹھائی بلکہ ان پر مہر باطل بھی ثبت کی ہے آپ کی قوت منطق کے ساتھ ساتھ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم رہبر کی پشت پناہی آپ کے قلم وبیان کے لیے مہر صحت ثابت ہوئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ایرانی قوم سے اس عظیم فیلسوف و حکیم کی کتابوں کو فروغ دینے کی بھر پور سفارش کی ہے ۔
شہید کے مستدل بیانات اور اس پر امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی مہر تائید نے تاجران مصائب امام حسین علیہ السلام کے عزائم پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ ایران اسلامی میں تو ان کی کمر ٹوٹ گئی اور ہمت قیام نہ کر سکی لیکن ایران سے باہر ہندوستان وغیرہ کے وہ علماء جن کے وسائل زندگی اور عزت و شرف سب انہی خرافات سے وابستہ تھے صبر کی تاب نہ لا سکے، ان لوگوں نے اپنے بغض و عناد کا اظہار کرنے کے لیے اس مرد مجاہد کا پتلا نذر آتش کرنے سے بھی گریز نہیں کیا آپ کی روح مطہر کے حق میں انتہائی جسارت آمیز زبان استعمال کی ان پر تشدد اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہندو پاک میں کسی کو ہمت نہ ہو سکی کہ شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ کی اس کتاب کو اردو زبان میں شائع کرنے کی کوشش کرے، یہاں تک کہ ایران میں موجود شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ کے آثار کا دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے والے ادارے بھی یہاں کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے گوسفند و بھیڑیے کی مثال دینے والوں کے جال میں پھنس کر ہمت ہار بیٹھے لہٰذا یہ نسخہ اسی طرح پڑا رہا اور یہاں تک کہا جانے لگا کہ فی الحال یہ کتاب اردو زبان میں ناقابل نشر ہے ۔
ان کی یہ گزارشات ایک لحاظ سے قرین قیاس بھی ہیں شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ اپنی تمام تر عظمتوں کے باوجود اس درجہ پر تو بہر حال نہیں تھے جس پر آج آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای فائز ہیں ، دور حاضر کے اس عظیم رہبر نے گذشتہ مراجع عظام کے ازمانوں کو اپنی قیادت و رہبری کی طاقت و قدرت سے بلند تر کرتے ہوئے مراسم عزاداری کے بارے میں اپنا تاریخی بیان صادر فرمایا آپ کا یہ بیان ایران کے تمام ذرائع ابلاغ سے نشر ہوا دیگر مراجع عظام نے بھی رہبر کے اس فتویٰ کی مکمل تائید کی لیکن بد قسمتی سے جس طرح انقلاب اسلامی ، ایران کے اندر مسدود ہو کر رہ گیا ہے اسی طرح رہبر کا یہ بیان بھی اس ملک کی حد تک ہی محدود رہا ۔
ایران اسلامی کے وہ نمائندے جو ایران سے باہر کے ملکوں میں اسلام ناب محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تشیع کے صحیح چہرے کو رواج دینے پر مامور کئے گئے ہیں انہوں نے بھی گوسفند اور بھیڑیے کا مسئلہ کھڑا کردیا اپنے زعم و گمان کے تحت انہوں نے دین کو بچانے کی خاطر رہبر معظم کے اس بیان ہی کی تردید کر دی تاکہ انہیں یہاں کے لوگوں کی حمایت و خوشنودی حاصل رہے اور ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھنے پائے ۔ اس سلسلے میں انہیں کچھ توانائیاں بھی صرف کرنا پڑیں تاکہ یہاں کی جمعیت پر قابض افراد ان کے خلاف زبان نہ کھول سکیں انہیں خطرہ تھا کہ اگر ان لوگوں نے زبان کھولی تو ان کے مقام کو صدمہ پہنچے گا اور اگر ان کا مقام گرا تو گویا اسلام کو دھچکا لگے گا گویا ان کے زعم میں اسلام کی بقاء ان کی شخصی عزت سے مربوط ہے ۔
اس کے برعکس ہم نے طے کر لیا ہے کہ اپنی تمام تر حیثیت کو بالائے طاق رکھ کر قیام امام حسین علیہ السلام کے اصل فلسفہ کو دنیا کے سامنے واضح و آشکار کرنے کے لیے کوئی دقیقہ بھی فرو گذاشت نہیں کریں گے اور مروجہ مراسم عزاداری پر چھائے ہوئے خرافات کے گرد و غبار کو اپنی مصنوعی عزت و احترام کے لباس سے پاک کرتے رہیں گے اپنی گذشتہ زندگی میں اس سلسلے میں ہم نے جو خاموشی اختیار کی ہوئی تھی حسب فرمان امام حسین علیہ السلام ہم اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ایک روز ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کے سامنے جانا ہے، امام حسین علیہ السلام کو منہ دکھانا ہے لہٰذا ہم نے تہیہ کرلیا ہے کہ اپنی تمام تر توانائیوں کو ان ذوات کی مرضی کو خریدنے میں صرف کریں گے ۔
ہم شہید کی تقاریر پر مشتمل اس کتاب کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی عرصہ سے خواہش رکھتے تھے لیکن بوجوہ اس پر عمل نہ ہو سکا تھا یہ تاخیر ہمارے ادارے میں کسی سقم کی وجہ سے نہیں تھی، تاہم انتظار کی گھڑیاں گزرتی گئیں، آخر جامعہ تعلیمات اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام یوسف نفسی صاحب نے اس کی پہلی دو جلدوں کا اردو ترجمہ جسے انہوں نے اپنے ادارے کے لیے کروایا تھا ہمیں عنایت فرمایا، ہم نے ان کی پیش کش کو بصد شکریہ قبول کیا اور سال گذشتہ اسے چھپوا کر قارئین کی خدمت میں پیش کیا الحمداللہ کتاب کے منظر عام پر آتے ہی قارئین کرام نے اس کی بہت پذیرائی کی اور اس سال اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا ۔
عزاداری امام حسین علیہ السلام کو خرافات اور جھوٹ سے پاک کرنے کی خواہش رکھنے والے طالبان حق اور اہل دانش و عقل نے اس کے بعد کتاب کی تیسری جلد کا اردو ترجمہ شائع کرنے کی خواہش کا اظہار کرنا شروع کردیا اگرچہ ہم اس کی توقع نہیں کر رہے تھے لوگوں کے اس استقبال نے ہمارا حوصلہ بھی بلند کیا جنانچہ ہم نے جلد از جلد تیسری جلد کو زیور طباعت سے آراستہ کر کے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کا تہیہ کیا اس سلسلے میں اپنے عزیز بھتیجے سید محمد سعید موسوی کو ترجمہ کے لیے زحمت دی اور مشفق و مہربان محترم بزرگ سید رسالت حسین کوثر صاحب سے اسکی تصحیح کرنے کی درخواست کی ماشاءاللہ ان دونوں حضرات کی کوششوں اور کاوشوں کے نتیجہ میں یہ کتاب قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے ۔
ہماری خوشی کا باعث یہ بات نہیں کہ کتاب کا ترجمہ ہمارے عزیز کے ہاتھوں ہوا ہے بلکہ خوشی ہمیں اس بات کی ہے کہ ہمارے حوزوں میں مصروف تعلیم طلباء کہ جو عزاداری امام حسین علیہ السلام میں شامل خرافات سے متعلق قلم و زبان سے متعلق کچھ لکھنے یا بولنے کو اپنی شان کے منافی سمجھتے ہیں الحمدواللہ موصوف نے اس عمومی رجحان کے برخلاف یہاں قیام کے دوران شب و روز کی ان تھک محنت سے اس کتاب کا ترجمہ مکمل کیا ہماری دعا ہے کہ خدا ان کو اس راہ پر گامزن رکھے اور ان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے تاکہ وہ اپنے قلم و زبان سے مقصد حسینی کے فروغ کے لیے بہتر سے بہتر انداز میں کوشاں رہیں ،رب کریم و غفور سے دعا ہے کہ وہ انہیں ہدایت سے نزدیک فرمائے اور گمراہی سے دور رکھے (آمین) دارالثقافۃ الاسلامیۃ ان کی اس کاوش کو اس لیے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ اس طرح انہوں نے ادارہ کے امام حسین علیہ السلام سے کیے ہوئے معاہدے کو آگے بڑھانے میں معاونت کی ہے ۔
خدا سے ہماری دعا ہے کہ اس چراغ کو مزید توانائی عطا فرمائے تاکہ اس کی روشنی پھیلے اور پھر یہ روشنی آسمان حسینی علیہ السلام پر چھائے خرافات کے بادلوں کو جلا ڈالے دارالثقافۃ الا سلامیۃ کی امام حسین علیہ السلام سے متعلق پیش کی جانے والی کتابوں میں یہ کتاب اپنی جگہ ایک نسخہ شاخص ہے اور ممتاز ترین مقام رکھتی ہے۔ امید ہے کہ انشاء اللہ یہ کتاب دوسری کتابوں کو بھی جلا بخشے گی۔
شہید مطہری رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں مراسم عزاداری امام حسین علیہ السلام سے متعلق انتہائی جراٴت و شہامت و بے باکی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں دیگر خرافات و موہومات کے خلاف بھی نہایت جراٴت آمیز رویہ اختیار فرمایا ہے مثلا آپ نے مراجع عظام کے بارے میں فرمایا کہ ان کی عظمت و کمال کا معترف ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی آراء کو مقدس قرار دے کر اختلاف رائے سے گریز کیا جائے آپ نے فرمایا کہ ہمارے مکتب کو جو افتخار حاصل ہے وہ باب اجتہاد کے کھلا رہنے کے سبب ہے اس افتخار کو دوام بخشنے کے لیے اختلاف نظر کا ہونا ضروری ہے ہمیں آپ کی اس فکر اور آپ کے ان اقوال زرین سے مکمل اتفاق ہے اسی اصول کے تحت ممکن ہے کہ ہم بھی اس کتاب میں موجود بعض نظریات سے شائد اتفاق نہ کریں ، ہمارے اس جملہ کا اطلاق ہر اس کتاب پر ہوتا ہے جسے ہم زیور طباعت سے آراستہ کرنے کے لیے منتخب کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کسی بھی کتاب میں موجود تمام کلمات الف سے ی تک مثل وحی مطلق یا ناقابل اعتراض نہیں ہوتے ہیں ۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔