غالیون کے قصے کہانیوں کا رد از استاد علی شرف الدین
"غرض یہ لوگ ولادت علی کعبہ میں ہونے کے بارے میں تشکیک کرنے والوں کو دشمن علی قرار دیتے ہیں تاکہ علی کی فضیلت آخر میں افسانہ بن جائے۔یہ علی کو تاریخ کا افسانہ بنا کر پیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں چنانچہ قصہ قتل مرحب میں ضربت علی کا زمین سے بھی گزر کر جبرئیل تک پہنچنے کی کہانیاں سناتے ہیں مثلا کہتے ہیں علی کی حیات اور موت میں علی کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا۔علی کی قبر پر آنے والے دست خالی نہیں جاتے یہ سب انہون نے شخصیت علی کو افسانہ بنانے کیلے گھڑا ہے۔انہیں اہل بیت محمد سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ یہ کسی اور اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اہل بیت اطہار سے انہیں کوئی محبت نہیں۔یہ زہرا کا ذکر بار بار اپنے اغراض کیلے کرتے ہین کہتے ہین زہرا کے گھر کا دروازہ توڑا گیا،محسن شہید ہوئے زہرا کے رخساروں پر تمانچے لگے ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔لیکن کبھی یہ نہیں بتاتے کہ ان کے چچا عباس ،ان کے چچازاد بھائی اور ان کے شوہر علی اس وقت کہاں تھے۔ان کے زخمی ہونے پر ان کو کوئی اعتراض نہیں ہوا کیا؟ انہیں ذرا بھر بھی زہرا سے ہمدردی نہیں تھی ؟ کیا بنی ہاشم زہرای کی تیمارداری تک کو نہیں آئے کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے انہون نے زہراء کے نام کو اپنے شوم مقاصد کیلے استعمال کرتے ہوئے ایک جھوٹ گھرا ہے۔کہتے ہیں حضرت علی رات کو گدھے پر اناج رکھ کر گھر گھر لے کر جاتے تھے جس طرح آج کل پاکستان میں دوغلی شناخت رکھنے والے سیکولر سیستمدار کرتے ہیں۔انہی کہانیوں میں سے ایک یہ کہنا کہ پیغمبر نے فرمایا یا علی اپنا کاندھا مجھے دیں تاکہ میں اس پر چڑھ کر کعبہ میں رکھے گئے بتوں کو توڑ سکوں پیغمبر سوار ہوئے علی دب گئے یہاں فاتح خیبر،باب خیبر کو اکھاڑنے والا پیغمبر کو برداشت نہیں کر سکا۔اس پر کہتے ہیں بار نبوت سنگین ہے۔بار نبوت سنگین ہوتا ہے تو پیغمبر جس اونٹ اور گھورے پر سوار ہوتے تھے انہیں بھی دبنا چاہیے تھا جب کہ ان گھوڑوں نے ان کے ساتھ دوسرے سوار کو بھی اٹھایا ہے غرض غالیوں نے اسی طرھ کی کہانیاں اورقصے گھڑے ہیں تاکہ دین اور دینی شخصیات کا چہرہ مسخ کریں۔"
(214 ،215 معجم حج و حجاج)
"غرض یہ لوگ ولادت علی کعبہ میں ہونے کے بارے میں تشکیک کرنے والوں کو دشمن علی قرار دیتے ہیں تاکہ علی کی فضیلت آخر میں افسانہ بن جائے۔یہ علی کو تاریخ کا افسانہ بنا کر پیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں چنانچہ قصہ قتل مرحب میں ضربت علی کا زمین سے بھی گزر کر جبرئیل تک پہنچنے کی کہانیاں سناتے ہیں مثلا کہتے ہیں علی کی حیات اور موت میں علی کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا۔علی کی قبر پر آنے والے دست خالی نہیں جاتے یہ سب انہون نے شخصیت علی کو افسانہ بنانے کیلے گھڑا ہے۔انہیں اہل بیت محمد سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ یہ کسی اور اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اہل بیت اطہار سے انہیں کوئی محبت نہیں۔یہ زہرا کا ذکر بار بار اپنے اغراض کیلے کرتے ہین کہتے ہین زہرا کے گھر کا دروازہ توڑا گیا،محسن شہید ہوئے زہرا کے رخساروں پر تمانچے لگے ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔لیکن کبھی یہ نہیں بتاتے کہ ان کے چچا عباس ،ان کے چچازاد بھائی اور ان کے شوہر علی اس وقت کہاں تھے۔ان کے زخمی ہونے پر ان کو کوئی اعتراض نہیں ہوا کیا؟ انہیں ذرا بھر بھی زہرا سے ہمدردی نہیں تھی ؟ کیا بنی ہاشم زہرای کی تیمارداری تک کو نہیں آئے کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے انہون نے زہراء کے نام کو اپنے شوم مقاصد کیلے استعمال کرتے ہوئے ایک جھوٹ گھرا ہے۔کہتے ہیں حضرت علی رات کو گدھے پر اناج رکھ کر گھر گھر لے کر جاتے تھے جس طرح آج کل پاکستان میں دوغلی شناخت رکھنے والے سیکولر سیستمدار کرتے ہیں۔انہی کہانیوں میں سے ایک یہ کہنا کہ پیغمبر نے فرمایا یا علی اپنا کاندھا مجھے دیں تاکہ میں اس پر چڑھ کر کعبہ میں رکھے گئے بتوں کو توڑ سکوں پیغمبر سوار ہوئے علی دب گئے یہاں فاتح خیبر،باب خیبر کو اکھاڑنے والا پیغمبر کو برداشت نہیں کر سکا۔اس پر کہتے ہیں بار نبوت سنگین ہے۔بار نبوت سنگین ہوتا ہے تو پیغمبر جس اونٹ اور گھورے پر سوار ہوتے تھے انہیں بھی دبنا چاہیے تھا جب کہ ان گھوڑوں نے ان کے ساتھ دوسرے سوار کو بھی اٹھایا ہے غرض غالیوں نے اسی طرھ کی کہانیاں اورقصے گھڑے ہیں تاکہ دین اور دینی شخصیات کا چہرہ مسخ کریں۔"
(214 ،215 معجم حج و حجاج)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔