ماه رمضان،روزہ اور شب قدر
شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا۟ ٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿١٨٥ بقرۃ﴾
ترجمہ:
ماه رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں لہٰذا جو شخص اس مہینہ میں حاضر رہے اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے اور جو مریض یا مسافر ہو وہ اتنے ہی دن دوسرے زمانہ میں رکھے. خدا تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا. اور اتنے ہی دن کا حکم اس لئے ہے کہ تم عدد پورے کردو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اقرار کرو اور شاید تم اس طرح اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ.
رمضان تقویم اسلامہ کے قمری سال کا نواں مہینہ ہے۔علمائے لغت فرماتے ہیں رمضان مادہ رمضی سے لیا گیا ہے۔رمض گرم پتھر کو کہتے ہین جہاں گرمی سے پاؤں جل جائیں۔بعض نے رمض کو مضمار کے معنوں میں لیا ہے کیونکہ مہینوں کی اسم گزاری کے موقع پر اس مہینہ میں سخت گرمی تھی۔اسی مناسبت سے اس کا نام رمضان رکھا گیا تھا۔
بعض علمائ نے رمضان کو اسمائے حسنہ میں سے قرار دیا ہے۔لہذا آئمہ فرماتے ہین یہ نہ کہو کہ رمضان آیا اور رمضان گیا۔بلکہ لفظ ماہ ساتھ لگا کر کہا کرو کہ ماہ رمضان آیا۔قمری مہینوں میں تنہا رمضان وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔اس کو شہر اللہ کہا گیا ہے۔رمضان کی شرافت و فضیلت کیلے یہی کافی ہے کہ اسے اللہ تعالی نے اپنا مہینہ قرار دیا۔
روزہ وہ عبادت ہے جو تمام ادیان میں مروج رہا ہے۔یہ ایک شعائر ہے جسے تمام گزشتہ اصحاب دیانت نے اپنایا ہے۔حتی غیر آسمانی ادیان نے بھی اپنایا حتی جیسا کہ قرآن کریم کی آیت وجوب صوم میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کما کتب علی الذین من قبلکم یہاں پر ادیان گزشتہ میں روزہ کی شکل و صورت کو بیان کرنے کی ضرورت محوس نہیں کرتے بلکہ یہاں اسلام میں روزہ کی قدر و قیمت اور اہمیت کو بیان کریں گے۔اللہ نے قرآن کو ماہ رمضان میں نازل کیا لہذا اس مہینے تلاوت قرآن کی تاکید کی گئی ہے۔نبی کریم زیادہ تر اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت فرماتے تھے۔ماہ رمضان کو دین میں وہ فضیلت و قدسیت حاصل ہے جو دیگر سال کے مہینوں کو حاصل نہیں ہے کیونکہ اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا ہے۔ماہ رمضان کا اولین عشرہ رحمت اوسط مغفرت اور اس کا آخر جہنم سے نجات ہے ۔روزہ واجب عبادت ہے نبی ص کا فرمان ہے روزہ سپر ہے کہتے ہیں روزہ دار کے منہ کو اللہ پسند کرتا ہے اللہ فرماتا ہے اس سے بوئے مشک آتی ہے۔حالت سفر میں یا بوڑھے،مریض پر روزہ معاف ہے لیکن اگر روزہ رکھیں تو فرماتے ہیں ان کیلے بہتر ہے۔
أَيَّامًا مَّعْدُودَٰتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّهُۥ ۚ وَأَن تَصُومُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١٨٤بقرہ﴾
ترجمہ:
یہ روزے صرف چند دن کے ہیں لیکن اس کے بعد بھی کوئی شخص مریض ہے یا سفر میں ہے تو اتنے ہی دن دوسرے زمانے میں رکھ لے گا اور جو لوگ صرف شدت اور مشقت کی بنائ پر روزے نہیں رکھ سکتے ہیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اور اگراپنی طرف سے زیادہ نیکی کردیں تو اور بہتر ہے— لیکن روزہ رکھنا بہرحال تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم صاحبانِ علم و خبر ہو
صوم بہت سے جرائم خلاف شرع مرتکبات کا کفارہ یا فدیہ ہے۔تعجب کی بات ہے کہ روزہ کہیں کسی گناہ کے ارتکاب کا کبھی مال کے بدلے ہے اور کبھی روزہ کے بدلے مال ہے۔
صوم یکے از ارکان اسلام ہے۔یہ ایک عبادت بدنی ہے جو گزشتہ ادیان میں بھی اللہ کی اطاعت میں تھی۔لیکن اس کی شکل و صورت کم و کیف ہمارے صوم سے مختلف تھی۔روزہ انسان مسلمان کیلے ضبط نفس کی ایک مشق ہے۔جہاں وہ حلال کو بھی اپنے لئے حرام کرتا ہے۔لہذا احادیث میں آیا ہے۔امرالمومنین سے نقل ہے ہر چیز کی ایک زکوۃ اور زکوۃ بدن صیامہے،وجوب صیام آزمائش و امتحان ہے کہ مخلوق اس کیلے کس حد تک مخلص ہے۔گرچہ تمام اوامر و نواھی الہی خلائق کیلے امتحان ہیں کہ وہ کس حد تک اس کے حکم کے سامنے مخلص ہیں ،ان میں سے صوم سب سے زیادہ انسان کیلے مشقت آور ہے کیونکہ اس میں غلبہ نفس کا جہاد ہے کہ کس حد تک نفس انسان پر غالب آسکتا ہے۔
اسرار صوم:
علماء نے صوم کی چند اقسام بیان کی ہیں:
1-صوم شہوات کھانے پینے کی چیزوں سے باز رہنا۔
2-صوم از عصیاں گناہوں سے اعضاء و جوارح کو بچانا۔
3-صوم خاص دل کو معاصی اللہ سے بچانا ہے یعنی آنکھزبان،کان ،ہاتھ،نفس کو برائی سے بچانا ہے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
شکم کو لقمات حلال سے بھی افطار تک بچانا ہے اور افطار کے پر زیادہ پیٹ نہ بھرجائے کیونکہ اللہ بھرے ہوا پیٹ کو پسند نہیں کرتا ،اگر انسان روزہ دار افطار کے موقع پر اپنی بھوک کا تدارک کرے تاکہ اپنی پہلی حالت میں آجائے تو یہ صوم کے منافی ہے۔کیونکہ صوم سے مراد و مقصود شہوات سے اپنے آپ کو بچانا ہے تاکہ تقوی کیلے آ
شَهْرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا۟ ٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿١٨٥ بقرۃ﴾
ترجمہ:
ماه رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں لہٰذا جو شخص اس مہینہ میں حاضر رہے اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے اور جو مریض یا مسافر ہو وہ اتنے ہی دن دوسرے زمانہ میں رکھے. خدا تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا. اور اتنے ہی دن کا حکم اس لئے ہے کہ تم عدد پورے کردو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اقرار کرو اور شاید تم اس طرح اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ.
رمضان تقویم اسلامہ کے قمری سال کا نواں مہینہ ہے۔علمائے لغت فرماتے ہیں رمضان مادہ رمضی سے لیا گیا ہے۔رمض گرم پتھر کو کہتے ہین جہاں گرمی سے پاؤں جل جائیں۔بعض نے رمض کو مضمار کے معنوں میں لیا ہے کیونکہ مہینوں کی اسم گزاری کے موقع پر اس مہینہ میں سخت گرمی تھی۔اسی مناسبت سے اس کا نام رمضان رکھا گیا تھا۔
بعض علمائ نے رمضان کو اسمائے حسنہ میں سے قرار دیا ہے۔لہذا آئمہ فرماتے ہین یہ نہ کہو کہ رمضان آیا اور رمضان گیا۔بلکہ لفظ ماہ ساتھ لگا کر کہا کرو کہ ماہ رمضان آیا۔قمری مہینوں میں تنہا رمضان وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔اس کو شہر اللہ کہا گیا ہے۔رمضان کی شرافت و فضیلت کیلے یہی کافی ہے کہ اسے اللہ تعالی نے اپنا مہینہ قرار دیا۔
روزہ وہ عبادت ہے جو تمام ادیان میں مروج رہا ہے۔یہ ایک شعائر ہے جسے تمام گزشتہ اصحاب دیانت نے اپنایا ہے۔حتی غیر آسمانی ادیان نے بھی اپنایا حتی جیسا کہ قرآن کریم کی آیت وجوب صوم میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کما کتب علی الذین من قبلکم یہاں پر ادیان گزشتہ میں روزہ کی شکل و صورت کو بیان کرنے کی ضرورت محوس نہیں کرتے بلکہ یہاں اسلام میں روزہ کی قدر و قیمت اور اہمیت کو بیان کریں گے۔اللہ نے قرآن کو ماہ رمضان میں نازل کیا لہذا اس مہینے تلاوت قرآن کی تاکید کی گئی ہے۔نبی کریم زیادہ تر اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت فرماتے تھے۔ماہ رمضان کو دین میں وہ فضیلت و قدسیت حاصل ہے جو دیگر سال کے مہینوں کو حاصل نہیں ہے کیونکہ اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا ہے۔ماہ رمضان کا اولین عشرہ رحمت اوسط مغفرت اور اس کا آخر جہنم سے نجات ہے ۔روزہ واجب عبادت ہے نبی ص کا فرمان ہے روزہ سپر ہے کہتے ہیں روزہ دار کے منہ کو اللہ پسند کرتا ہے اللہ فرماتا ہے اس سے بوئے مشک آتی ہے۔حالت سفر میں یا بوڑھے،مریض پر روزہ معاف ہے لیکن اگر روزہ رکھیں تو فرماتے ہیں ان کیلے بہتر ہے۔
أَيَّامًا مَّعْدُودَٰتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّهُۥ ۚ وَأَن تَصُومُوا۟ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١٨٤بقرہ﴾
ترجمہ:
یہ روزے صرف چند دن کے ہیں لیکن اس کے بعد بھی کوئی شخص مریض ہے یا سفر میں ہے تو اتنے ہی دن دوسرے زمانے میں رکھ لے گا اور جو لوگ صرف شدت اور مشقت کی بنائ پر روزے نہیں رکھ سکتے ہیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اور اگراپنی طرف سے زیادہ نیکی کردیں تو اور بہتر ہے— لیکن روزہ رکھنا بہرحال تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم صاحبانِ علم و خبر ہو
صوم بہت سے جرائم خلاف شرع مرتکبات کا کفارہ یا فدیہ ہے۔تعجب کی بات ہے کہ روزہ کہیں کسی گناہ کے ارتکاب کا کبھی مال کے بدلے ہے اور کبھی روزہ کے بدلے مال ہے۔
صوم یکے از ارکان اسلام ہے۔یہ ایک عبادت بدنی ہے جو گزشتہ ادیان میں بھی اللہ کی اطاعت میں تھی۔لیکن اس کی شکل و صورت کم و کیف ہمارے صوم سے مختلف تھی۔روزہ انسان مسلمان کیلے ضبط نفس کی ایک مشق ہے۔جہاں وہ حلال کو بھی اپنے لئے حرام کرتا ہے۔لہذا احادیث میں آیا ہے۔امرالمومنین سے نقل ہے ہر چیز کی ایک زکوۃ اور زکوۃ بدن صیامہے،وجوب صیام آزمائش و امتحان ہے کہ مخلوق اس کیلے کس حد تک مخلص ہے۔گرچہ تمام اوامر و نواھی الہی خلائق کیلے امتحان ہیں کہ وہ کس حد تک اس کے حکم کے سامنے مخلص ہیں ،ان میں سے صوم سب سے زیادہ انسان کیلے مشقت آور ہے کیونکہ اس میں غلبہ نفس کا جہاد ہے کہ کس حد تک نفس انسان پر غالب آسکتا ہے۔
اسرار صوم:
علماء نے صوم کی چند اقسام بیان کی ہیں:
1-صوم شہوات کھانے پینے کی چیزوں سے باز رہنا۔
2-صوم از عصیاں گناہوں سے اعضاء و جوارح کو بچانا۔
3-صوم خاص دل کو معاصی اللہ سے بچانا ہے یعنی آنکھزبان،کان ،ہاتھ،نفس کو برائی سے بچانا ہے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
شکم کو لقمات حلال سے بھی افطار تک بچانا ہے اور افطار کے پر زیادہ پیٹ نہ بھرجائے کیونکہ اللہ بھرے ہوا پیٹ کو پسند نہیں کرتا ،اگر انسان روزہ دار افطار کے موقع پر اپنی بھوک کا تدارک کرے تاکہ اپنی پہلی حالت میں آجائے تو یہ صوم کے منافی ہے۔کیونکہ صوم سے مراد و مقصود شہوات سے اپنے آپ کو بچانا ہے تاکہ تقوی کیلے آ










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔