"عصر حاضر کے مورخ کبیر تجزیہ و تحلیل علامہ عاملی نے "تاریخ صحیح" کے نام سے کئی جلدیں لکھی ہیں ان میں انہوں نے "ابوبکر کی سبقت ایمانی"،"سبقت ہجرت غار" اور "سفر ہجرت" کو جان فشانی کرتے ہوئے رد کرنے کی کوشش کی ہے ،جب کہ فرقہ کیسانیہ قداحیہ نے "حضرت زہراء س کے نام سے مسلمانوں میں تفرقہ" کے جو شعلے بلند کئے ہیں انہیں سراہا ہے۔
مرحوم " آیت اللہ فضل اللہ "نے احتیاطی کلمات میں خطاب کیا تھا کہ ان بحثوں کو عوامی اجتماع مین پیش کرنے کے بجائے درسگاہوں میں تحقیقاتی مجالس تک ہی محدود رکھنا چاہیے۔ان کے اس بیان کے خلاف انہوں نے "مآساۃ الزھراء"لکھ کر فضل اللہ کو دشمن زہراء گردانا۔نیز عاملی کی تائید میں علم فقہ و اصول کے موجودہ نابغہ کا دعوی رکھنے والوں نے اپنے مقلد بنانے کی خاطر اس کی مخالفت میں اپنی قیام گاہ سے پابرہنہ جلوس کا اہتمام کیا،لہذا جہاں دعوی سے بے بہرہ ہوتا ہے کوئی دلیل نہیں ہوتی تو وہاں اپنے مدعا کو جلسہ و جلوس ،گالم گلوچ سے ہی ثابت کیا جاتا ہے۔"
علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی
صفحہ 77،مدخل الدراسات تاریخ اسلامی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔