Sunday, 27 December 2015

دشمن اهلبیت ع

0 comments
دشمن ِاہل بیت ع

سالار و علماے کاروان حجاج کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین میں نماز جماعت میں شرکت نہ کرنے  کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں کا امام دشمن اہل بیت ہے۔اس مسئلہ کے مختلف زاویے ہیں ہر زاویے سے بحث کرنے کی ضرورت ہے:۔
1۔اہل بیت ع سے مراد کون کون ہیں کہ جن سے یہ لوگ دشمنی کرتے ہیں؟
2۔اگر وہ ان سے دشمنی کرتے ہیں تو اس کے مظاہر کیا ہیں۔کیا وہ زبان سے اہل بیت سے دشمنی کرتے ہیں،عمل سے کرتے ہیں،تحریر سے کرتے ہیں،تقریر سے کرتے ہیں یا خفیہ طور پر دل میں دشمنی رکھتے ہیں۔آیا خود اہل بیت نماز پنجگانہ فرادی گھر میں پڑھتے تھے یا مسجد میں فرادی پڑھتے تھے؟یا مسجد میں امام کے پیچھے نماز پڑھتے تھے؟اہل بیت کی نظر میں امام جماعت کو کن شرائط و صفات کا حامل ہونا چاہیے؟ خود اہل بیت کس کس سے دشمنی رکھتے تھے۔قرآن کریم نے مسلمانوں سے کہا شیطان تمہارا دشمن ہے،یہود و نصاری تمہارے دشمن ہیں جب کہ یہ شیطان صفت لوگوں اور یہود و نصاری کے خدمت گزار ہیں اور ان میں گھل مل کر اور ان کی نوکری چاکری اور خدمت گزاری میں بہت خوش و خرم رہتے ہیں۔ان سے سوال ہے کہ آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ یہ لوگ دشمن اہل بیت ہیں تو جواب میں اکثر و بیشتر کہا جاتا ہے یہ لوگ خلفاء کے ماننے والے ہیں اور خلفاء دشمن اہل بیت  ع تھے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہل بیت نماز انہی خلفاء رض کی اقتدا میں نہیں پڑھتے تھے؟
3۔آیا سارے سنی دشمن اہل بیت یا سارے اہل حدیث و وہابی اور دیوبندی دشمن اہل بیت ہیں یا صرف حرمین شریفین کے امام جماعت ہی دشمن اہل بیت ہیں۔اگر یہ لوگ دشمن اہل بیت ہیں تو جمعہ و جماعت کے خطبے میں اہل بیت پر درود و سلام کیوں بھیجتے ہیں؟کیا یہی دشمن کی علامت ہے؟آپ کس بنیاد اور کس منطق کے تحت تمام اہل سنت کو دشمن اہل بیت گردانتے ہیں؟؟

                   آغا علی شرف الدین صاحب

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔