Sunday, 27 December 2015

خمس

0 comments
"لیکن اس خمس کے واجب ہونے کی سند کیا ہے؟یہ وصول کرنے کا حق مجتہدین کو کس نے دیا ہے؟اگر پیغمبر اسلام،خلفائے راشدین اور امام حسن و حسین نے کھیتی باڑی،ملازمت،دوکانداری وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدن پر خمس لیا ہے تو ثابت کریں جب کہ  تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے ایسا خمس نہیں لیا تو پھر سوال یہ ہے کہ کس دلیل سے آپ یہ خمس لیتے ہیں؟یہ سوالات ان کے لئے انتہائی ناگوار ہوتے ہیں،یہاں ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کیا آپ مجتہد ہیں،جو کہ یقینا میں نہیں ہوں،تو پھر کہتے ہیں چونکہ آپ مقلد ہیں لہذا آپ کو چپ چاپ یہ خمس ادا کرنا چاہیے۔"
                   (صفحہ 117 معجم حج و حجاج)
نوٹ:
آغا صاحب خمس کو عام آمدنی کی بجائے جنگی غنائم سے مخصوص سمجھتے ہیں،دیگر روشن فکر علماء میں احمد الکاتب،حیدر علی قلمداران،ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی،آیت اللہ برقعی قمی،آیت اللہ الموید اور ڈاکٹر موسی الموسوی بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ خمس مخصوص بہ غنائم جنگ ہے۔اور یہ عام مسلمانوں کی آمدنی سے لینا ان پر ایک ظلم ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔