آغا صاحب آپ اپنوں کے خلاف کیوں لکھتے ہیں؟؟
آغا صاحب کا جواب:
میرے اوپر وارد اعتراض میں سے ایک یہ جملہ ہے کہ یہ اپنوں کے خلاف لکھتے ہیں یہ جملہ زمانہ جاہلیت کے اصول قبائل میں سے تھا جہاں انہوں نے اپنی طرف سے ایک اصول جعل کیا "انصر اخاک ظالما او مظلوم،ظالما مظلوما" اپنے بھائی چاہے ظالم ہو یا مظلوم دونوں حالت میں اس سے دفاع کرو تو اس کو آئین جاہلیت کہیں گے۔لہذا قرآن و سنت محمد میں یہ قانون منسوخ ہوگیا۔اگر ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکو چاہے وہ تمہارا بھائی ہی کیوں نہ ہو اور اگر مظلوم ہے تو ان سے دفاع کرو۔لہذا اگر کوئی گروہ میرے دین میں ہر آئے دن بے اسناد معاجز و فضائل کو دین کا حصہ بنانے اور تحریفات و خرافات اور غیر معقولات کے پہاڑ بنا دیں تو بتائیں وہاں ایک انسان مسلمان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔کیا یہاں نہی عن المنکر بہتر ہے یا خاموشی و سکوت؟؟؟
آغا صاحب کا جواب:
میرے اوپر وارد اعتراض میں سے ایک یہ جملہ ہے کہ یہ اپنوں کے خلاف لکھتے ہیں یہ جملہ زمانہ جاہلیت کے اصول قبائل میں سے تھا جہاں انہوں نے اپنی طرف سے ایک اصول جعل کیا "انصر اخاک ظالما او مظلوم،ظالما مظلوما" اپنے بھائی چاہے ظالم ہو یا مظلوم دونوں حالت میں اس سے دفاع کرو تو اس کو آئین جاہلیت کہیں گے۔لہذا قرآن و سنت محمد میں یہ قانون منسوخ ہوگیا۔اگر ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکو چاہے وہ تمہارا بھائی ہی کیوں نہ ہو اور اگر مظلوم ہے تو ان سے دفاع کرو۔لہذا اگر کوئی گروہ میرے دین میں ہر آئے دن بے اسناد معاجز و فضائل کو دین کا حصہ بنانے اور تحریفات و خرافات اور غیر معقولات کے پہاڑ بنا دیں تو بتائیں وہاں ایک انسان مسلمان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔کیا یہاں نہی عن المنکر بہتر ہے یا خاموشی و سکوت؟؟؟










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔