Sunday, 27 December 2015

حجر اسود

0 comments
حجر اسود سے متعلق آغا علی شرف الدین بلتستانی کی تحریر

حجر الاسود

  "حجر اسود وہ پتھر ہے جو کعبہ مشرفہ کے رکن شرقی ڈیڑھ میٹر بلندی کے ارتفاع پر منصوب ہے۔جو اپنے آغآز نصب سے لے کر الی یومنا ھذا بوسہ گاہ انبیاء و مرسلین و صالحین و صیقین و موحدین ہے۔

اس پتھر کی کیا تاریخ ہے ،کس نوع کا پتھر ہے،اس کا بیان طویل و عریض ہے اس میں اجمال و ابہام ہے لیکن جو نقل اپنی سند اور معانی و مفاہیم میں ناقابل تردید و تشکیک ہے اسے ہم قارئین کرام کی خدمت میں پیش کریں گے۔جب حضرت ابراہیم ع خلیل اللہ تعمیر بیت میں ارتفاع دیوار کی حد تک پہنچے تو اسماعیل سے فرمایا،اچھی صفات والا ایک پتھر لائیں تو اسماعیل تلاش پتھر کیلے نکلے اور کالی ہاتھ واپس آئے تو ابراہیم ع نصب پتھر کرچکے تھے،پوچھا انی لک ھذآ؟ تو جواب دیا جس ذات نے مجھے تجھ سے بے نیاز بنایا ہے اسی نے دیا اور اسے جبرائیل لائے ہیں،لیکن جبرئیل اسے کہاں سے لائے تھے کہتے ہیں کوہ ابوقبیس میں امانت رکھا ہوا تھا وہاں سے لائے جنت سے لائے تھے۔جہاں تک اس پتھر کی رنگ یا جنس پہلے کیا تھی اور اس کو اسود کیون کہا اس سے کوئی خاطر خواہ معقول حکمت و فلسفہ نہیں نکلے گا خدانخواسطہ اگر یہ خبر درست قرار پائے کہ یہ یاقوت جنت میں سے تھا تو یقینا دولت اور مال و زر پرستی کی منطق کو تقویت ملے گی یا جواز ملے گا لیکن یہ منطق ناقابل نقاش رہے گی،اللہ سبحانہ نے ابتداء خلقت سے بندگان کو ایک پتھر سے جو کسی قسم کے نفع نقصان کا مالک نہیں آزمایا ہے۔حجر الاسود اپنی تاریخ میں منحرفین و ملحدین سے صدمات کا نشانہ بنا۔لشکر یزید یا حجاج کے گولوں سے یہ تین ٹکڑے ہوا۔

خصوصیات و امتیازات حجر اسود:
1-یہ بوسہ گاہ عباد الصالھین من لدن ادم الی یومنا ھذا تا الی یوم القیمۃ۔
2-جائے گاہ حجر اسود اشرف بیت اللہ کے رکن شرقی میں واقع ہے۔
3- یہ مطاف طائفین بیت اللہ واقع ہے۔
4- یہ نمونہ،ید اللہ سبھانہ ہے۔
5- حجر اسود نگین،بیت اللہ یعنی زینت بیت اللہ ہے۔
6-رمز بندگی نشان تسلیم للھی ہے،یہ اہل فکر و دانش و اہل منطق والوں کیلے لمحہ فکریہ ہے انسان سید و آقاؤں کا اپنے سے نیچے بلکہ اس سے بھی گذر کر ایک موجود و جامد پتھر کے سامنے خاضع ہو جانا ہے۔
  سورہ حج کی آیت 97 سے واجھ ہے کہ اللہ نے حج کو رمز عبادت و بندگی کی نشانی بتایا ہے لیکن بعض نے اسے اس نشانی سے نکال کر ایک سیاسی و سماجی اور اقتصادی و ثقافتی میلے کے طور پر پیش کرانے کی کوشش کی ہے۔ھجر اسود کو چومنا یا اس کے مقابل کھرے ہو کر تکبیر بلند کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کرنے والوں کا پول اس وقت کھل جاتا ہے جب جمرات کے پتھروں کو نفرت و انزجار کا سامنا ہوتا ہے اور ان پر پتھرون کی بارش برساتے ہیں جب کہ دین مقدس اسلام نہ پتھر کی تقدیس کرتا ہے نہ نفرت و انزجار بلکہ وہ صرف عبادت و بندگی الہی سکھاتا ہے۔

7- حجر اسود شعائر اللہ ہے ،یہاں سے طواف شروع کرنا اس کو بوسہ کرنا،یہاں سے گذرتے وقت اس کے مقابل کھڑے ہو کر تکبیر پڑھنا،اس کے شعائر اللہ ہونے کی نشانی ہے۔انسان مسلمان مراسم حج و عمرہ میں یہ اعمال اس لئے بجا لاتا ہے کیونکہ رسول اللہ ص نے ایسا کیا ،شعائر اللہ وہ ہے جسے اللہ یا رسول ص نے اللہ کی نشانی قرار دیا ہو یہاں سے ان حوزات و مدارس کے فارغ تحصیلات کی یہ بات جھوٹ ثابت ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ گھوڑا،جھنڈا،جھولا ،امام بارگاہ اور مخمل کی چادروں والی قبور سب شعائر اللہ ہیں،جیسا کہ امیر و فقیہ کارون حیدری کہتے ہیں۔

سنہ 319 ھجری کو ملحد و کافر دشمن اللہ ابا طاہر قرمطی نے گرز سے حجر اسود کو مارا،بعض نے کہا جعفر بن فلاح کے حکم سے مارا ہے اس کے بعد وہ اسے اپنی جگہ سے نکال کر اسے اپنے ساتھ بحرین کے شہر ھجر لے گیا اور وہاں لٹکا کر رکھا،یہاں تک کہ مطیع عباسی اسے تیس ہزار دینار میں قرامطہ سے خرید کر دوبارہ لایا اس میں فاطمین بھی واسطہ بنے تھے چنانچہ واپسی کے موقع پر قرمطی نے کہا اخذ نا بامرولا نروالا بامر کل۔حجر اسود تقریبا چار مہینے قرامطیوں کے قبضہے میں رہا اس مدت میں حجاج جائے حجر اسود کو چومتے تھے ،اسی طرح سنہ 314 ھجری میں پھر اس کو گرز سے مارا گیا،اس طرح یہ شعائر اللہ کافرین و ملحدین منافقین دشمنان اسلام کی آنکھوں میں خار بنا رہا۔"

صفحہ 95
معجم حج والحجاج
تالیف: علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔