آغا صاحب خلفائے راشدین اور بالخصوص حضرت عمر کا دفاع کیوں کرتے هیں,دو ٹوک جواب
................
"
ھم ان سے کیوں دفاع کرتے هیں,ان سوالات کا جواب واضح هے جب سے میری بصیرت کی آنکھ میں روشنی آئی اور اس سے مجھے واضح هوا که اھل بیت کے نام سے دھوکه دے کر اھل بیت قداحی وغیره کی پیروی کروائی جارھی هے اور اھل بیت حقیقی کے نام پر مشرکین کی بت پرستی کا احیاء کیا جا رھا هے اور نت نئی بدعات اور خرافات کو فروغ دے کر ان کو دین محمد ص کا نام دیا جا رھا هے,یهاں سے مجھے یقین ھوا که حضرت عمر کے بارے میں گھڑی گئی باتیں اکاذیب وکهانیاں هیں,ان کا دامن پاک تھا وه مظلوم هیں,اور مظلوم سے دفاع کرنا ھماری ذمه داری اور فرض هے تاکه امت محمدیه جو ان جھوٹی کهانیوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کی دشمن بنی هے اس دشمنی کا خاتمه هو.
"
علامه آ غا سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی,کتاب رشد و رشادت صفحه 93










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔