Sunday, 27 December 2015

یهودی ایجنٹ

0 comments
"جب دلنواز صاحب تیسری دفعہ ملے تو آپ کا موڈ بہت خراب ہوگیا تھا محسوس ہوا کہ آپ نے ان صفھات کو انتہائی دقت اور غور سے پڑھا ہے یا کسی پڑھنے والے نے آپ کو ہمارے خلاف اکسایا ہے،جس کی بنیاد پر آپ چہرہ عبوسی میں کہنے لگے سب حافظ بشیر نہیں بن سکتے ہیں۔آپ کی کتاب کوئی نہیں پڑھتا۔پھر کہنے لگے عرصہ دراز سے ہمارے فرقے میں یہودیوں سے پڑھے ہوئے افراد گھس گئے ہیں جو اس میں انتشار و افتراق پھیلا رہے ہیں۔وہ یہودیوں کیلے کام کرتے ہیں۔اس دن وہ بہت غصہ میں تھے۔آپ کا مزاج کچھ زیادہ ہی خراب تھا۔علامہ امینی صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے آپ نے یہ جملہ دو تین مرتبہ دہرایا جس کے بعد علامہ امینی جلدی سے حلقہ چھوڑ کر طواف میں تشریف لے گئے۔

جہاں تک دلنواز صاھب کا یہ کہنا کہ سب حافظ بشیر نہیں بن سکتے ہیں میں دلنواز سے نیز آیت اللہ مبلغ و خطیب غالین آیت اللہ غروی اور قارئین کرام کو یقین دلاتا ہوں اور مطمئن کرتا ہوں کہ میں خرافات و تحریفات کی تہہ سے نجات پانے کے بعد دین مقدس اسلام کے چہرہ مبارک سے گرد و غبار دھونے اور عمامہ و عباء جانے کے بعد دوبارہ امام و فقیہ خرافات قطعا نہیں بنون گا۔

جہاں تک آپ نے فرمایا میری کتابیں کوئی نہیں پڑھتا یہ بات بھی چند لحاظ سے درست نہیں تھی:
1-اگر میری کتابیں کوئی نہیں پڑھتا ہے تو آپ بمعہ طالب صاحب اور آپ کے مرشد آقائے رضی جعفر اس طرح دیگر علماء اعلام اکبر محترم محسن نجفی،سلمان نقوی،جعفری اور فقیہ سرگودھا کیوں غیض و طیش میں ہیں۔شاید کسی پڑھنے والے نے آپ حضرات کو کتابوں کا محتویٰ مضامین سے خبر دی ہوگی یا آپ نے خود پڑھی ہوں گی۔

2-میری کتابیں کیون نہیں پڑھتے ہیں شاید اس لئے نہیں پڑھتے ہونگے کہ یہ آپ کے عقائد قداحی اور غلو و شرک کو نیست و نابود کرتی ہوں گی۔جھوٹے قصے کہانیوں،تحریفات و خرافات اور من پسند و من گھڑت عقائد و رسومات پر مبنی آپ کا مذہب جو قرآن و سنت کے خلاف ہے وہ یقینا میری کتابوں کے مجامین کا تحمل نہیں کرنا ہوگا دین کا تسلسل صدوق اور کلینی سے اوپر جانے سے لنگڑا نہیں ہوگا لیکن ان سے اوپر جانے اور چودہ سو سال پہلے دور پیغمبر میں قرآن و سنت پیغمبر اسلام سے ملنے والے عقائد کو لینے اور ان پر عمل کرنے کیلے تیار نہیں اس لیے آپ ہماری کتابیں نہیں پڑھتے ہوں گے۔چنانچہ آپ جیسے علماء کی وجہ سے عاد و ارم جیسی تعمیر کی مانند درسگاہوں میں درس قرآن و سنت محمد ص پر پابندی ہے کیا یہ قرآن و سنت محمد ص کی توہین نہیں ہے۔

ہم قطعی طور پر نہیں کہ سکتے لیکن آپ کے خطابات کے سیاق و سباق میں مخاطب ہم ہی تھے چنانچہ یہاں کے علماء اعلام فرماتے ہیں میں وہابیوں کیلے کام کر رہا ہوں آپ نے وہابیوں کی جگہ یہودی استعمال کیا ہے ہم یہ نہیں کہ سکتے ہیں کہ ان کی مراد ہم ہی ہیں ان کی مراد کوئی بھی ہو سکتا ہے دونوں مفروجوں کیلے دلیل چاہیے لیکن ان جملات سے یہ سوچنے کا موقع ملا کہ بجائے اس کے کہ اس سے مراد مقصود کون ہو سکتا ہے ہمیں خود یہود کی کارکردگی کے بارے میں تحقیق کرنی چاہیے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہود کا طریقہ کار کیا ہے جس سے پتہ چلے گا کہ کون کس کے کہنے پر یہودیت کیلے کام کر رہا ہے۔اس وقت دنیا میں یہودیوں کی ان سازشوں کو کون کامیاب بنا رہا ہے اور کون ان کیلے سرگرم عمل ہے،یہودیوں کی اسلام و مسلمین کے خلاف سرگرمیوں کے بارے میں ہم بیان کریں گے  وہاں رجوع کریں۔"

         آغا علی شرف الدین علی آبادی

نوٹ:یہودی ایجنٹ کون اور کیا آغا صاحب یہودیون کیلے کام کر رہے ہیں کسی اور پوسٹ میں اس کا جائزہ لیں گے۔لیکن جو لوگ اور دینی راہنما   USAID اور AKRSP اور این جی اوز سے مذہبی مقامات کی construction اور reconstruction کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں ان کو آغا صاحب پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریباں میں جھانکنا چاہیے کہ پورے پاکستان اور خصوصا  گلگت بلتستان میں این جی اوز کو پیسے کون دیتا ہے اور ان کے پیسون سے مذہبی عمارتوں کی تعمیر اور تجدید کیا یہ یہودیون اور عیسائیوں سے دوستی اور ان کے ایجنٹوں کا آلہ کار بننا نہیں تو اور کیا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔