"شیخیہ اثنا عشری(12 اماموں والے شیعوں) کا وہ فرقہ ہے جو بارہویں صدی ہجری میں وجود میں آیا ہے۔ان کے بانی شیخ احمد احسائی ہیں،اس کے بعد سید کاظم رشتی ہیں انہیں شیخیہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ان کے بانی کے نام سے موسوم ہیں۔شیخیہ نظریہ کے حامل تناسخ اور حلول کے قائل ہیں اور شیخین کے سخت مخالف ہیں،چنانچہ انہوں نے زیارت جامعہ کی شرح میں اسے بیان کیا ہے۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی سابق رئیس جمہوریہ ایران اسلامی اپنی کتاب امیر کبیر میں لکھتے ہیں معلوم نہیں یہ شخص کہاں سے تعلق رکھتا ہے،یہ شخص اچانک حوزہ علمیہ نجف میں نمودار ہوا اور پھر ایران آکر بادشاہ قاچاریہ سے ملا اور پھر اچانک منظر شہود سے غائب ہوا۔اس نے زیارت جامعہ پر لکھی گئی شرح میں خلفائے مسلمین کے شان میں نازیبا کلمات استعمال کئے اور کتاب غلاظت سے پر ہے،جس کے انتقام میں حکمران آل سعود سعودی عرب نجد سے ایک گروہ لا کر کربلا پر حملہ کیا اور مصائب برپا کئے۔
بعض مستشرقین کا کہنا ہے ،شیخ احمد احسائی کو انڈونیشیا سے مشرق کی طرف بھیجا گیا،وہ ایک مسیھی عالم دین تھا جسے مسلمانوں کا عقیدہ خراب کرنے پر مامور کیاگیا تھا۔اس نے اپنے منصوبے کی تکمیل کیلے شیعوں میں سازگار ماحول دیکھا تو شیعت کا لبادہ اوڑھ لیا۔کہتے ہیں اس کا عقیدہ تھا خدا نے علی ع میں حلول کیا ہے جس طرح انبیاء اور پیغمبر اسلام ص میں حلول کیا،ان کے عقیدے کے مطابق شیخ احمد مومن کامل اور امام و امت کے درمیان رابطہ ہے۔اس کا ایک شاگرد مرزا علی محمد ہے جو فرقہ بابییہ کا بانی ہے،یہ عقیدہ تناسخ کے بھی قائل ہیں۔ (روضات الجنات ج 1،صفحہ 88،ش22)صاحب کتاب نے تین صفحے شیخ احمد کے فضائل و مناقب،ادب،فصاحت،تحریر و تقریر،لوگوں سے مدارت اور تصنیفات و تالیفات کے بارے میں رقم کئے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے اس میں موجود فضائل کسی ہستی میں نہیں پائے گئے۔
اس وقت ان کے مراکز پاکستان کے اندر ملتان اور کراچی میں ہیں۔بابی اور بھائی ان کی ترقی یافتہ شکل ہیں۔چنانچہ ہمارے ایک پرانے دوست جو عرصہ یہاں پر ہمیں یرغمال بنائے ہوئے تھے حوزہ مشہد سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد شیخ احمد احسائی کے مذہب کی ترویج و اشاعت کے عزم لے کر آئے وہ جناب بشیر عالمی صاحب ہیں۔"
شیعہ اہل بیت،صفحہ 151
مولف:علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی
Official website of Agha Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani
www.sibghtulislam.com










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔