"آپ اپنے خرافات و فرسودات کو تسلیم کرانے کیلے جلسہ اور کانفرنس منعقد کر کے قرارداد مذمت پیش کریں یا مظاہرہ کر کے عوام الناس کی املاک کو تہس نہس کریں،جلاؤ گھیراؤ کریں یا علماء اعلام کے موثر نسخے پر عمل کر کے اجتماعی و اقتصادی محاصرے میں محصور کریں . ہمارا روزگار تنگ کریں یا مشرکین کی سیرت و سنت پر عمل کر کے کانوں میں کپاس بھریں یا ہمارے دوست صمیمی صاحب کے خیال کے مطابق آغا صاحب کی کتابوں نے نسل جوان کے اذھان کو مشکوک کیا ہے،یہ کتابیں یہاں نہ بھیجیں یا جناب محترم آغا سید محمد طہ کے خطبہ جمعہ کے نصائح کے تحت اپنے بچوں کو تعلیم کیلے کراچی نہ بھیجیں کیونکہ سکردو اور پنجاب میں عقائد کو چھیڑ چھاڑ کئے بغیر تعلیم دی جاتی ہے لیکن ہم فریق مخالف کو مسترد کرنے کی بجائے اپنے عقائد و نظریات پر نظر ثانی کریں گے اور اپنے آپ کو اس بے بسی کے عالم میں تسلیم للہ کر کے حالات کا مقابلہ کریں گے کیونکہ غور کرنے کا صحیح طریقہ یہی ہے۔انسان جب مجبور ہو جاتا ہے تو قاتل کی تلوار کو ہاتھ سے بھی روکتا ہے۔
یہ دنیا ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ،یہاں سے جلد یا بدیر سب کو گزرنا ہے لیکن انسان کی جان دین سے عزیز نہیں ہے۔ہم نے اس سلسلے میں مصادر اولی اور مصادر ثانوی کا مطالعہ کیا،ہم اس مطالعے کے نتائج کو تحریر میں لا کر بچے کھچے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔اب قارئین کی مرضی ہے،وہ جو کچھ کرنا اور کہنا چاہیں کہ سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم نے نیام سے نکلنے والی مصقل تلوار کے ساتھ قابض الارواح کو دیکھ کر ہاتھ تلوار کو لگایا ہے۔جب عزرائیل بھی ہمارے پیچھے ہیں تو کیونکر ہم ظالم کے ہاتھ تسلیم ہو جائیں لہذا ہم نے اللہ کی دی ہوئی حجت باطنی یعنی عقل اور حجت ظاہری قرآن اور سنت و سیرت نبی کریم ص سے سہارا لیتے ہوئے اس مسئلے کو بنیاد اور جڑ سے اٹھانے کیلے عزم و اراداہ کیا۔ "
(صفحہ 80 باطنیہ و بناتہا ،آغا علی شرف الدین بلتستانی)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔