Saturday, 26 December 2015

خلفائے راشدین

0 comments
"خلفاء راشدین کے بعد ماسوائے امام حسن کے جن کو موقع نہیں دیا گیا ان سے بہتر کوئی خلیفہ آج تک منتخب نہیں ہوا ہے کیونکہ خلفاء نہ کافر و مشرک تھے نہ منافق،اہل غلو کے لئے ان مسلمات عقلی و نقلی سے متصادم ہونے کی کوئی گنجائش ہے اور نہ اہل طعن و تشنیع کے سب و شتم کرنے کی سند قرآن و سنت میں ملتی ہے کیونکہ یہ حضرات رسول اسلام پر صدق دل سے ایمان لانے والے سچے مسلمان تھے ان میں بھی وہی صفات وحاجات اور ترجیحات تھین جو ہر مسلمان میں پائی جاتی ہیں۔جونہی آفتاب رسالت غروب ہوا تو ہر ایک کی ترجیھات نے سر اٹھایا،کیا آج کے مسلمان ارباب اقتدار حتی کہ فقہاء اور مجتہدین مرجع بننے کے بعد اقربا پروری نہیں کرتے؟؟اور سیاسی،اجتماعی و اقتصادی فوائد ملنے کے بعد یا اقتدار حاصل کرنے کے لئے سر نہیں اٹھاتے؟؟ کیا یہ لوگ امتیازات کو ایک محترم زندگی گزارنے کے نام سے نہیں اپناتے؟؟"

(کتاب محمد ؐمصطفی صفحہ 685 از علامہ سید علی شرف الدین موسوی شگری بلتستانی)

خلفاء کو برے انداز میں یاد کرنا اور ان پر سب و شتم کرنا چند خاص فرقوں کا کام ہے جس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں،ہم ان سب سے برآت کا اعلان کرتے ہیں۔جس کی تفصیلی بحث ہماری کتاب "قرآن میں امام و امت" کے عنوان "امامت امت" میں بیان کی گئی ہے۔اس کے علاوہ کتاب "شکوؤں کے جواب " ملاحظہ کرین۔

(کتاب محمد ؐمصطفی صفحہ 686 از علامہ سید علی شرف الدین موسوی شگری بلتستانی)

"دور حاضر میں شرعی احکام پائمال کرنے والے،اسراف و تبذیر کرنے والے،علماء و متدینین اور باغی و طاغی مسلمان حکام یقینا خلفاء سے ان کا کوئی تناسب نہیں اور وہ ان سے بہتر ہیں۔"

(کتاب محمد ؐمصطفی صفحہ 690 از علامہ سید علی شرف الدین موسوی شگری بلتستانی)

"غور و خوض اور اس کے اظہار کا حق خدا اور اس کے رسول کی طرف سے ہر کسی کو حاصل ہے۔علاوہ ازیں اس حق کو اظہار رائے کی آزادی کے نام سے عالمی سطح پر اور وطن عزیز کے رائج آئین میں بھی تسلیم کیا گیا ہے اگرچہ چند مفاد پرستوں کو ہماری باتیں بری لگتی ہیں۔اس کی بڑی وجہ ان کی بے جا توقعات اور مفادات ہیں۔ہم تو نہیں چاہتے کہ ان کے مفادات کو لازما نقصان پہنچے اور نہ ہی ان کے مفادات کو نشانہ بنانے کا ہمارا کوئی ارادہ ہے بلکہ ہم نے اسلام سے متعلق مسائل پر غور و خوض پر مشتمل نتائج کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔ہم بعض مشکوک النسل کتب جیسا کہ امامت و سیاست،احتجاج و تفسیر امام حسن عسکری اور تفسیر قمی وغیرہ کو بنیاد بنا کر تاریخ اسلام کی معروف شخصیات سے نفرت و عداوت نہیں برت سکتے۔"

(کتاب محمد ؐمصطفی صفحہ 691 از علامہ سید علی شرف الدین موسوی شگری بلتستانی)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔