"حضرت ابراہیم کے کارناموں میں سے ایک بتوں کو پاش پاش کرنا اور خرافات کا مذاق اڑانا ہے ۔یہاں سے ان روشن فکر روشن خیال علماء کا اساس دین سے بے بہرہ ہونا واضح ہو جاتا ہے جنہوں نے افغانستان میں بتوں کو توڑنے کی مذمت کی تھی کیونکہ ان کے بقول اسلام میں بت توڑنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تاریخ اسلام کو پڑھا نہیں ۔ان کی نظریں فتح مکہ کے بعد کعبہ اور گردو نواح کے بتوں اور بت خانوں کو مسمار کرنے کے واقعات پر نہیں پڑیں۔"
(آغا علی شرف الدین علی آبادی)
(آغا علی شرف الدین علی آبادی)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔