Sunday, 27 December 2015

فرقه پرستی

0 comments
"مسلمان
 ہونے کے بعد آپ اپنے آپ کو کسی بھی ہستی سے موسوم نہیں کر سکتے حتی 
محمدی بھی نہیں کہ سکتے ہیں چہ جائے کہ آپ اپنے آپ کو 
علوی،باقری،جعفری،حنفی،حنبلی،مالکی کہیں،کیونکہ یہ اسماء تفرقہ کیساتھ ثقل 
اکبر قرآن سے لاتعلق ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو محمدی نہیں کہتے
 بلکہ "مسلمان" کہتے ہیں اور اسی کو فخر سمجھتے ہیں کیونکہ محمد ص بندے اور
 اللہ کے درمیان رابط ہیں۔بندہ اور اللہ کے درمیان واسطہ نبی ہوتا ہے بنی 
اس دنیا سے گزرنے والے تھے اور گزر گئے،چنانچہ رحلت نبی ص کے موقع پر حضرت 
ابوبکر نے کہا کوئی محمد ص کی پرستش کرنے والے ہوں  تو سن لیں محمد ص گزر 
گئے ہیں۔اگر ربِ محمد ص کی پرستش کرتے ہو تو رب  محمد ص زندہ ہے۔
غرض جو بھی واسطہ میں رک جائے گا وہ مشرک ہوگا، لہذا ہمیں خود کو مسلمان 
کہنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس ھکم کے باوجود آج بعض مسلمان خود کو 
بریلوی،دیوبندی،صوفی،جعفری،شیکی اور مشہدی کہنے پر مصر ہیں جب کہ اللہ کا 
حکم ہے اسلام پر رہو اور مرتے وقت بھی مسلمان مرنا۔"

مدخل الدراسات تاریخ الاسلامی، آغا شرف الدین بلتستانی،صفحہ 49

www.sibghtulislam.com
https://www.facebook.com/AliSharfuddinPK

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔