- عوام کالانعام- اندھی تقلید یا تحقیق؟
- "ان علماء کو اتنے بے معنی غلط شعار اور نعرے اٹھانے کی ھمت اس لیے ھوئی ھے کیونکہ یہاں کے عوام اور نام نھاد دانشوروں نے فیصلہ کیا ھے کہ ھم نے دین کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرنا بلکہ دین کی مخالفت پر مبنی کسی سرگرمی اور اھانت و جسارت کے بارے میں ان علماء کی من وعن اطاعت کرنی ھے.اس عوام اور نام نھاد دانشوروں کی مثال کچھ اس طرح سے ھے کہ ایک آدمی نے بنی عباس کے دورمیں دعوی نبوت کیا تو اس کو گرفتار کر کے خلیفہ کے دربار میں حاضر کیا گیا.اور اس سے باز پرس کی گئی کیا تم نے دعوی نبوت کیا ھے؟ ان نے کہا ھاں میں نے دعوی کیا ھے.اس سے پوچھا گیا تمھارے پاس نبی ھونے کی کیا دلیل ھے تو اس نے کہا میں کل دلیل پیش کروں گا.دوسرے دن یہ اپنے گروہ اور اطاعت گزاروں کے ھمراہ آیا جو اس کے دائیں بائیں چل رھے تھے.اس نے دائیں طرف دیکھا اور بکری کی آواز نکالی پھر بائیں طرف دیکھا اور گوسفند کی آواز نکالی اور ساتھ ھی کہا میں انسانوں کا نبی نہیں بلکہ ان جیسے جانوروں کا نبی ھوں.یہ علماء بھی عوام کو انھیں جانوروں کے مثل سمجھتے ھیں ورنہ انہیں اتنی تیزی سے فکر خوارج پھیلانے کا موقع نہ ملتا.یقین کریں آپ لوگ اصلاح دین کے بارے میں سوچنے کیلے تیار نھیں گویا یہ جو دین آپ کے پاس ھے یا تو بذریعہ وحی اللہ سے ھے یا خود نبی کریم ص سے بطور مستقیم آپ نے لیا ھے.عقل وشرع کا حکم ھے جہاں کہیں خطرے کی گھنٹی بجے وھاں تحقیق کریں."
- آغا علامہ علی شرف الدین بلتستانی
Saturday, 26 December 2015
تقلید
Unknown
08:26
0
comments
08:26
0
comments
اس تحریر کو
احباب کی نظر میں,
تقلید
کے موضوع کے تحت شائع کیا گیا ہے










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔