امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کی طرف جانے سے روکنے والوں کا کہنا ہے ایک ہدایت و نجات کنندہ آئے گا جو انسانیت کو بد بختی اور گمراہیوں سے نکالے گا۔ایسی توقع اور امید رکھنے کی کیا منطق ہوسکتی ہے جب کہ پیغمبر اسلام جیسی ہستی ہماری ہدایت کیلے ہی آئی تھی جو ہماری ہدایت کیلے قرآن جس میں باطل کسی سمت سے داکل نہیں ہوسکتا اور اپنی سنت جس پر عمل پیرا ہونے کا اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں حکم دیا ہے چھور گئے (نساء 59) کیا پیغمبر اکرم سے بہتر کوئی اور ہستی اور قرآن سے بہتر کوئی اور کتاب آسکتی ہے جو امت کی ہدایت و نجات کا باعث بنے؟قرآن و سنت کے ہوتے ہوئے ظلم و گمراہی سے نجات حاصل کرنے کے لئے کسی ہستی کے انتظار کیا معنی رکھتا ہے؟سوائے اس کے کہ امت کو کسی ہستی کے ظہور کا منتظر رکھ کر قرآن و سنت کے نظام سے دور کیا جائے۔ہم نے نیام سے نکلنے والی مصقل تلوار کے ساتھ قابض الارواح کو دیکھ کر ہاتھ تلوار کو لگایا ہے۔جب عزرائیل بھی ہمارے پیچھے ہیں تو کیونکر ہم ظالم کے ہاتھ تسلیم ہو جائیں لہذا ہم نے اللہ کی دی ہوئی حجت باطنی یعنی عقل اور حجت ظاہری قرآن اور سنتوسیرت نبی سے سہارا لیتے ہوئے اس مسئلے کو بنیاد اور جڑ سے اٹھانے کیلے عزم و ارادہ کیا۔۔۔اب قارئین کی مرضی ہے جو کچھ کرنا اور کہنا چاہتے ہیں کہ سکتے ہیں۔
(کتاب باطنیہ و اخوتہا صفحہ 81 سے صفحہ 182 تک آغا صاھب نے امام مھدی سے متعلق تمام روایات پر کھل کے بحث کیا ہے۔ )
نوٹ:امام مھدی سے متعلق روایات شیعہ کو علمی تحقیق سے گزارنے کا سہرا جناب آیت اللہ شریعت سنگلجی کو جاتا ہے انہوں نے اپنی کتاب "رجعت اور اسلام" میں اس نظریہ امام مھدی کا رد کیا اس کے علاوہ انہوں نے فرمایا کہ میں امام مھدی کا منتطر نہیں ہوں۔
آیت اللہ ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی نے اپنی مایہ ناز کتاب"بررسی علمی در روایات امام مھدی" یا امام مھدی سے متعلق روایات پر علمی تحقیق کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اس عقیدہ امام مھدی کو غیر مستند قرار دیا۔
حوزہ علمیہ سے ہی فارغ التحصیل مجتہد ڈاکٹر احمد الکاتب نے بھی دو کتابیں امام مھدی سے متعلق لکھیں ،جس میں ثابت کیا کہ امام مھدی جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی غائب ہوگئے /امام مھدی جو اب پیدا ہون گے دونوں نطریات درست نہیں۔اس موضوع پر سب سے زیادہ تحقیق بھی آپ نے ہی کی ہے۔الامام المهدي حقيقة تاريخية؟ أم فرضية فلسفية؟ "امام مھدی ایک تاریخی حقیقت یا فرضی افسانہ" آپ کی مشہور کتاب ہے۔آپ کی دوسری کتاب "حوارات أحمد الكاتب حول وجود الامام المهدي" امام مھدی کے وجود پر احمد کاتب کی بحث۔ہے۔ان کتابوں میں امام مھدی کے وجود یا مستقبل میں کسی امام مھدی کے آنے کا رد کیا ہے۔
اس کے علاوہ حوزہ کے فارغ التحصیل اور مشہور کتاب اسرار ہزار سالہ کے مصنف حکمی زادہ جس کی کتاب کا جواب امام خمینی نے کشف الاسرار کے نام سے دیا۔آپ نے بھی امام مھدی کے وجود کو فرضی قرار دیا۔
اور ان سب کے بعد آج کل کے معروف مفسر قرآن جو ایران میں قید ہیں،آیت اللہ آشتیاتی کے نواسے اور" آیت اللہ طاطبائی کتاب تفسیر المیزان" کے پوتے جناب ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی بھی اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ امام مھدی آئیں گے۔
پس آغا صاحب اکیلے انسان نہیں جنہوں نے امام مھدی سے متعلق روایات کو ناکافی قرار دیا ہو یا امام مھدی کے وجود یا مستقبل میں آمد کا انکار کیا ہو۔
والسلام علی من اتبع الھدی۔
(کتاب باطنیہ و اخوتہا صفحہ 81 سے صفحہ 182 تک آغا صاھب نے امام مھدی سے متعلق تمام روایات پر کھل کے بحث کیا ہے۔ )
نوٹ:امام مھدی سے متعلق روایات شیعہ کو علمی تحقیق سے گزارنے کا سہرا جناب آیت اللہ شریعت سنگلجی کو جاتا ہے انہوں نے اپنی کتاب "رجعت اور اسلام" میں اس نظریہ امام مھدی کا رد کیا اس کے علاوہ انہوں نے فرمایا کہ میں امام مھدی کا منتطر نہیں ہوں۔
آیت اللہ ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی نے اپنی مایہ ناز کتاب"بررسی علمی در روایات امام مھدی" یا امام مھدی سے متعلق روایات پر علمی تحقیق کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اس عقیدہ امام مھدی کو غیر مستند قرار دیا۔
حوزہ علمیہ سے ہی فارغ التحصیل مجتہد ڈاکٹر احمد الکاتب نے بھی دو کتابیں امام مھدی سے متعلق لکھیں ،جس میں ثابت کیا کہ امام مھدی جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی غائب ہوگئے /امام مھدی جو اب پیدا ہون گے دونوں نطریات درست نہیں۔اس موضوع پر سب سے زیادہ تحقیق بھی آپ نے ہی کی ہے۔الامام المهدي حقيقة تاريخية؟ أم فرضية فلسفية؟ "امام مھدی ایک تاریخی حقیقت یا فرضی افسانہ" آپ کی مشہور کتاب ہے۔آپ کی دوسری کتاب "حوارات أحمد الكاتب حول وجود الامام المهدي" امام مھدی کے وجود پر احمد کاتب کی بحث۔ہے۔ان کتابوں میں امام مھدی کے وجود یا مستقبل میں کسی امام مھدی کے آنے کا رد کیا ہے۔
اس کے علاوہ حوزہ کے فارغ التحصیل اور مشہور کتاب اسرار ہزار سالہ کے مصنف حکمی زادہ جس کی کتاب کا جواب امام خمینی نے کشف الاسرار کے نام سے دیا۔آپ نے بھی امام مھدی کے وجود کو فرضی قرار دیا۔
اور ان سب کے بعد آج کل کے معروف مفسر قرآن جو ایران میں قید ہیں،آیت اللہ آشتیاتی کے نواسے اور" آیت اللہ طاطبائی کتاب تفسیر المیزان" کے پوتے جناب ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی بھی اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ امام مھدی آئیں گے۔
پس آغا صاحب اکیلے انسان نہیں جنہوں نے امام مھدی سے متعلق روایات کو ناکافی قرار دیا ہو یا امام مھدی کے وجود یا مستقبل میں آمد کا انکار کیا ہو۔
والسلام علی من اتبع الھدی۔










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔