Sunday, 27 December 2015

امامت اور علامه حلی کی تاویلات متشابھات

0 comments

ایک من گھڑت حدیث کساء

0 comments

سابقون الاولون

0 comments


ارکان اسلام

0 comments
اسلام کے پانچ ارکان ہیں جو یہ ہیں:
کلمہ شہادتین،صوم،صلاۃ،زکوۃ،و حج
اس کتاب میں ان ارکان میں سے ایک اہم رکن حج کی بابت گفتگو کی گئی ہے۔وہ حج کہ جس میں اللہ کی وحدانیت تلبیہ لبیک اللھم لبیک میں واضح نظر آتا ہے۔

معجم حج و حجاج
تالیف آغا علی شرف الدین علی آبادی

یہ آغا علی شرف الدین کی ایک بہترین تصنیف جس میں حج اور اس کے متعلق قرآن و سنت کے احکام  اور آج کے دور میں حج میں امپورٹ کی گئی بدعات و خرافات،،اور حج کے کاروانون و حج کے موقع پر مکتب تشیع کے حاجیوں کو توحید کی بجائے شرک آمیز دعاؤں اور بے سند زیارات کے تحت گمراہ کی جاتی ہے اس پر بہترین تبسرہ موجود ہے۔

نیز حج کے مختلف کاروانوں کا پول کھول کے رکھ دیا ہے۔اس کے علاوہ حج کے اصطلاحات اور متعلقات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

آغا صاھب کی آفیشل ویب سائیٹ صبغۃ الاسلام پر یہ کتاب اپ لوڈ کی گئی ہے۔احباب ضرور پڑھیں۔بہت معلوماتی کتاب ہے۔

http://sibghtulislam.com/downloads.aspx

انشاء اللہ مزید کتب آغا صاھب کی اس ویب سائیٹ پر اپ لوڈ ہو جائیں گی۔اس سائیٹ کو وزٹ کرتے رہیں۔

مصلحت

0 comments
"اگر آپ برائی اور منکرات کو دیکھتے ہوئے خاموشی اختیار کرتے ہیں،تو یہ احتیاط اور خاموشی بھی خلاف شریعت ہے۔"
                  (آغا علی شرف الدین علی آبادی)

بت شکن

0 comments
"حضرت ابراہیم کے کارناموں میں سے ایک بتوں کو پاش پاش کرنا  اور خرافات کا مذاق اڑانا ہے ۔یہاں سے ان روشن فکر روشن خیال علماء کا اساس دین سے بے بہرہ ہونا واضح ہو جاتا ہے جنہوں نے افغانستان میں بتوں کو توڑنے کی مذمت کی تھی کیونکہ ان کے بقول اسلام میں  بت توڑنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے تاریخ اسلام کو پڑھا نہیں ۔ان کی نظریں فتح مکہ کے بعد کعبہ اور گردو نواح کے بتوں اور بت خانوں کو مسمار کرنے کے واقعات پر نہیں پڑیں۔"

                  (آغا علی شرف الدین علی آبادی)

خمس

0 comments
"لیکن اس خمس کے واجب ہونے کی سند کیا ہے؟یہ وصول کرنے کا حق مجتہدین کو کس نے دیا ہے؟اگر پیغمبر اسلام،خلفائے راشدین اور امام حسن و حسین نے کھیتی باڑی،ملازمت،دوکانداری وغیرہ سے حاصل ہونے والی آمدن پر خمس لیا ہے تو ثابت کریں جب کہ  تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ انہوں نے ایسا خمس نہیں لیا تو پھر سوال یہ ہے کہ کس دلیل سے آپ یہ خمس لیتے ہیں؟یہ سوالات ان کے لئے انتہائی ناگوار ہوتے ہیں،یہاں ان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کیا آپ مجتہد ہیں،جو کہ یقینا میں نہیں ہوں،تو پھر کہتے ہیں چونکہ آپ مقلد ہیں لہذا آپ کو چپ چاپ یہ خمس ادا کرنا چاہیے۔"
                   (صفحہ 117 معجم حج و حجاج)
نوٹ:
آغا صاحب خمس کو عام آمدنی کی بجائے جنگی غنائم سے مخصوص سمجھتے ہیں،دیگر روشن فکر علماء میں احمد الکاتب،حیدر علی قلمداران،ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی،آیت اللہ برقعی قمی،آیت اللہ الموید اور ڈاکٹر موسی الموسوی بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ خمس مخصوص بہ غنائم جنگ ہے۔اور یہ عام مسلمانوں کی آمدنی سے لینا ان پر ایک ظلم ہے۔

کتب علی شرف الدین

0 comments

  1. 1-قرآن سے پوچھو  

2-انبیاء قرآن(محمد مسطفی)
3-مکتب تشیع اور قرآن
4-سوالات و جوابات معارف قرآن
5-قرآن اور مستشرقین
6-قرآن میں مذکر و مونث
7-قرآن میں شعر و شعراء
8-انبیاء قرآن(آدم،نوح،ابراہیم)
9-انبیاء قرآن(موسی ،عیسی)
10-اہل ذکر کے جوابات
11-قرآن میں امام و امت
12- تفسیر عاشورا
13- تفسیر سیاسی قیام امام حسین
14-  قیام امام حسین کا جغرافیائی جائزہ
15-  اسرار قیام امام حسین
16-  عزاداری کیوں؟
17-  انتخاب مصائب۔ترجیحات-ترمیمات
18-  مثالی عزاداری کیسے منائیں؟
19-  عنوان عاشورا
20-  قیام امام حسین غیر مسلم دانشوروں کی نظر میں
21-  معجم کتب مولفین امام حسین
22- حج و عمرہ قرآن و سنت کی روشنی میں
23-  عقائد و رسومات شیعہ
24-  مسجد
25-  آمریت کے خلاف آئمہ طاہرین کی جدو جہد
26-  افق گفتگو
27-  مدارس دینی و حوزات علمیہ پر نگارشات
28-  ہماری ثقافت و سیاست کیا ہے؟اور کیا ہونی چاہیے؟
29-  شکوؤں کے جواب
30-  مجلہ اعتقاد
31-  شکوہ جواب شکوہ
32-  فصل جواب
33-  جواب سے لاجواب
34-  عوامی عدالت کے شمارے
35-  مجلہ فصلنامہ عدالت
36-  موضوعات متنوعہ
37-  تعدد قرآت  مترادف تحریفات
38-  فرقوں میں جذور شرک و الحاد
39-   ادوار تاریخ اسلام
40- اصول عزاداری
41- مکتب تشیع اور قرآن
42- تفسیر دعائے ندبہ
43- کشور اعتقاد
44- فلسفہ دعا
45- فلسفہ نماز
46- قرآن شناسی
47- سیرت  شناسی انبیاء  و آئمہ طاہرین
48- علم اور دین
49- دفاعیات
50- متفرقات
51- معجم حج و حجاج
52۔ دور شدور  شادت
53- مدخل الدرسۃ التاریخ
54- دور ضالہ
55- دور لحادہ
56- انبیاء قرآن(لوط،صالح،یعقوب،یوسف)
57۔ دارالثقافہ سے عروۃ الوثقی
58۔  تفسیر شہید الصدر
59- حضرات حسنین
60۔ ترجمات
 61- مکتوبات شرف الدین
62- صرخہ حق
63۔۔ جوابات صارخۃ
64۔ قرآنیات
65-تحفہ منورین

یا علی مدد کا انکار کس لیے

0 comments
"علامہ غلام مہدی نے کراچی آنے کے بعد ایک ملاقات میں مولانا شیخ عبداللہ رضوانی سے کہا میدان عرفات و مزدلفہ وہ جگہ ہے جہان صرف اللہ کی یاد ہوتی ہے تکبیر کی صدا بلند ہوتی ہے پھر کیوں آپ نے یہاں" نعرہ حیدری "لگایا تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا ہمیں پتا چلا تھا کہ" شرف الدین" یہاں آئے ہوئے ہیں چنانچہ ہم نے ان کی ضد میں نعرہ کو بلند کیا۔

یقینا سرپرست اعلی نے انہیں بتایا ہوگا کہ ہم یا علی مدد کے منکر ہیں۔
ہم اس نعرہ کے اس وقت منکر ہوئے جب سندھ اور پنجاب میں لوگ ہمیں مصافحہ کے موقع پر یا علی مدد کہتے ہوئے ہاتھ ملاتے تھے۔اس وقت ہم نے درک کیا کہ یہ قرآن و سنت کے خلاف ہے کیونکہ قرآن فرماتا ہے ایک دوسے سے ملتے ہوئے سلام کرو یقینا یہ قرآن کو پیچھے چھورنے کی سازش ہے۔

 ایک اور ذرائع سے ہمارے علم میں آیا کہ اس یا علی مدد سے ان کی مراد علی علیہ السلام نہیں بلکہ آغا خانہے جسے یہ پکارتے ہیں لیکن شیعہ اثنا عشری جو خود کو آغا خان اور اسماعیلیوں کے خلاف گردانتے ہیں وہ بھی یا علی مدد کہتے ہیں۔چنانچہ ایک آغا خانی نے علامہ جعفری(قائد بلتستان) سے کہا سنیوں کی نسبت ہم آپ سے قریب ہیں ہم اور آپ یا علی مدد میں مشترک ہیں۔یہ ایک کھلا دھوکہ ہے انہیں کہنا چاہیے تھا ہمارا اشتراک نہیں بلکہ پورے کا پورا نعرہ آپ کا ہے کیونکہ شیعوں میں اس کا کوئی پس منظر نہیں پایا جاتا۔اس لھاظ سے شیعہ ان کے صحافی بنتے ہیں۔اسی طرح ہمیں یہاں بھی دھوکا ہوا کہ سندھ میں زیادہ موالی پائے جاتے ہیں یعنی یا علی مدد کہنے والی تنظیمیں وجود میں آئی ہیں۔حوزہ علمیہ قم سے فارغ التحصیل اور پڑھنے والے عمامہ پوش آئے ہیں۔ہم سمجھتے تھے یہ لوگ احیاء دین کے داعی ہیں جب ہم نے یا علی مدد کے خلاف اصول عزاداری میں لکھا تو اصغریہ کو نشانہ بنایا گیا کہ آپ بھی کہیں شرف الدین کی بات تو نہیں مانتے ان سے اتفاق نظر تو نہیں رکھتے تو ان کے اساتید نے ان سے کہا کہ ہم ان کی بات کو نہیں مانتے یہان سے ہمیں ان کا اور حیدر علی جوادی کا مذہب پتہ چلا کہ یہ لوگ درحقیقت آغا خانیوں کے صحافی ہیں اور خود کو اثنا عشری متعارف کروا کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔"

(آغا علی شرف الدین،کتاب معجم حج و حجاج،صفحہ 127 و 128)

نوٹ:یا علی مدد نعرہ قرآن و سنت اور تعلیامت اہل بیت سے متصادم ہے۔اس پر تفصیلی بحث علامہ محمد حسین زیدی برستی کی کتب "شعار شیعہ اور رمز تشیع کیا ہے اور کیا نہین ہے ؟؟" " اور ان کی دیگر کتب شیعہ اور دوسرے اسلامی فرقے" "تبصرۃ المغموم علی اصلاح الرسوم"میں ملاحظہ کیجے جہاں "یا علی مدد" سے متعلق انہوں نے تفصیل سے بات کی ہے۔اور ان کا بھی کہنا ہے کہ یہ اسماعیلوں کا شعار ہے۔

سب و شتم

0 comments
(آغا صاحب شبیر کوثری کے الزامات کا رد یوں کرتے ہیں)

"حقیقت میں آپ کے مذہب کے ستون جھوٹ تہمت گالی لعن تبراء پر قائم ہیں اور یہ کسی بھی وقت ان تین قبائح سے آزاد نہیں ہو سکتے۔آپ کے مذہب میں یہ صلاحیت نہیں اگر دینی غیرت و حمیت رکھتے ہیں آپ نمک حلال ہیں تو مل کر میرے عقائد کے بارے میں کچھ تحریر میں لائیں شاید میری ہدایت یا رسوائی ہو جائے۔پوچھنا چاہتے ہیں پوچھ سکتے ہیں اگر مرد ہیں میری زندگی میں بات کریں لیکن میں اپنے عزیزوں کو متنبہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ دنیا و آخرت دونوں میں ہمیشہ ذلیل  ہونے والے لوگ وہ ہیں جو بغیر زحمت دوسرون پر بوجھ بن کر عیش و نوش کرتے ہیں۔علی ای حال "فکیدو کیدکم واجمعو امرکم وادعوا شہداکم انی غدت بربی و ربکم ان ترجمون۔"

    (معجم حج و حجاج،صفحہ 158،آغا علی شرف الدین)

فرقے

0 comments
"کلمہ سنت کے تناسب سے یہاں چند اور زی اہمیت نکات بھی ذکر کرنا مناسب بلکہ ضروری ہیں۔قرآن کریم میں اہل قرآن سے خطاب ہے لا تغلو فی دینکم اپنے دین میں غلو کرو نہ  رہبران میں نہ واجبات میں  نہ مستحبات میں۔غلو کا مطلب ہے کسی کو اس کے دائرے سے تجاوز دینا۔اگر کسی نے سنت میں غلو کر کے خود کو اہل سنت سے تعارف کیا تو گویا جس نام کو اللہ نے مسلمان کیلے پسند کی ہے ھوالذی سماکم المسلمین اس کی بجائے اہل سنت نام رکھنا اللہ کے انتخاب کردہ نام پر اپنے منتخب نام کو  ترجیح دینا ہے۔یہ عمل بھی  ایک قسم کی بدعت تصور ہوگا۔کیونکہ بدعت کا معنی قرآن کے نص سے متصادم کوئی خبر وضع کرنا ہے۔"

(معجم حج و حجاج،صفحہ 146،آغا علی شرف الدین)

شرک بدعت

0 comments
“بیت اللہ کے ابتکارات میں سے ایک شب 18 ذی الحجہ کو شب  شعر گوئی منانا ہے اس کے لئے انہون نے مکہ مکرمہ،امریکا،برطانیہ،ہندوستان،پاکستان اور خود سعودی عرب کے دیگر صوبوں سے شعراء منگوائے اور پوری رات شب شعر کے ساتھ شب عیش و نوش منائی حجاج بیت اللہ کو اس شب میں کاروان کے مقاصد میں غریب کو عیاش بنانے کی تربیت،شعر جسے قرآن نے ممنوع قرار دیا،پیغمبر کیلے شاعری کو نازیبا و ناسزا قرار دیا اور آپ نے اسے مسجد میں پڑھنے سے منع فرمایا اس کی ترویج کرنا شامل ہے۔شعر و شعراء کے ذریعے غدیر منائی گئی۔لیکن  جب یہ کہتے ہیں کہ غدیر کے اعلان پر عمل نہیں ہوا اور علی گھر بیٹھے تو یہاں علی مظلوم ہیں۔چنانچہ یہاں خوشی منانا کس منطق کے تحت ہے؟
 انہون نے ہم سے کہا آغا صاحب آپ کو بھی غدیر کی دعوت ہے۔ہم نے کہا آپ کی دعوت بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ آپ نے علماء کو نہیں بلکہ شعراء کو بلایا ہے۔غرض منی و عرفات میں بھی چائے اور دودھ تقسیم کر کے اپنی قارونیت فخر فی قومہ حجاج کو کاروان میں کھنچنے کا اشتہار دیا ان کے پروگرام میں حجاج کو تعیش کی طرف  مائل کیا جاتا ہے، ان ابتکارات مین سے ایک حجاج کو مکہ میں دعا و مجالس کے بہانے حرم جانے سے روکنا اور کلفاء کے خلاف حجاج کے دلون کو حسد و کینہ و عداوت سے بھرنا ہے چنانچہ انہون نے اس کے لئے دعا "صنمی قریش"کو انتخاب کیا ہے جس کو پڑھ کر وہ روتے رلاتے ہیں۔
ان کی تاسی کرتے ہوئے ہمارے ایک دوست محترم جناب دلنواز صاحب نے بھی اسی سیرت کو اپنای۔آپ نے ہم سے کہا آغا صاحب آپ غدیر کے دن دعائے ندبہ پرھیں۔لیکن ہم نے دعا کے درمیان حجاج کو متوجہ کرتے ہوئے کہا آیا آپ غدیر سنی منا رہے ہیں یا غدیر شیعہ-کیونکہ غدیر شیعی کا اصول و اساس امامت بیان کرنا ہے جب کہ غدیر سنی کھانا پینا اور ذکر و فضائل پر اکتفا کرنا ہے۔اس کے بعد انہون نے ایک غالی مولانا کو بلایا ان کے لئے کرسی لگائی جس نے اشعار مین علی کی الوہیت کو بیان کیا،جو ہم سے برداشت نہ ہو سکا چنانچہ ہم نے اس کے سامنے جا کر کہا کعبہ مین شرک بکنا چھوڑ دو۔اس کے بعد ہم نے ایک دفعہ دلنواز صاحب سے پوچھا اس دفعہ کتنے گانا گانے والے ساتھ لائے ہیں۔شرک پر مبنی اشعار گانے سے بھی بدتر ہیں گانا عصیان ہے جب کہ شرک ناقابل معافی گناہان کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔"

(معجم حج و حجاج،صفحہ72،آغا علی شرف الدین)

نوٹ:
یہ آغا صاحب کی کتاب 2،3 سال قبل لکھی گئی ہے،اس کی عبارت ہے۔
الحمدللہ ہم نے اس پیج پر مشہد کے عالم دین جناب علی احمد موسوی اور آیت اللہ ابو الفجل برقعی اور حیدر علی قلمداران کے حوالے سے  گزشتہ پوسٹس میں لکھا ہے کہ دعائے ندبہ غیر مستند اور قرآن و سنت سے متصادم ہے،ڈاکٹر علی شریعتی نے بھی اس دعائے ندبہ پر اعتراضات وارد کئے تھے کما قال علی اصغر الغروی۔

اس کے علاوہ آج کے ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ سید کمال الحیدری نے بھی دعائے صنمی قریش کو اہل بیت سے منسوب کرنے کو غلط قرار دیا ہے۔انہون نے فرمایا کہ اہل بیت کی سیرت کے منافی ہے کہ ان سے ایسے کلمات وارد ہوں۔ان سے قبل آیت اللہ فضل اللہ اور آیت اللہ ابوالفضل ابن الرضا برقعی بھی دعا صنمی قریش کو گھڑی ہوئی دعاؤں میں شمار کر چکے ہیں۔
والسلام علی من اتبع الھدی۔

تقلید

0 comments
برادر انیس الحسن نے اس کی روئیداد میں بتایا کہ روانگی حج سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں حافظ نذیر حسین سے ان کی ملاقات ہوئی تو حافظ صاحب نے حج پر اٹھنے والے تمام خرچ پر ان سے خمس کا مطالبہ کیا اور فرمایا کہ آپ دونون خمس 162500 روپے بنتا ہے یہ ادا کر کے جانا چاہیے تو انیس بھائی نے کہا کہ ہمیں زکوۃ کے بارے میں بتائیں تو مولانا صاحب نے کہا کہ ہمارے یہان زکوۃ نہیں کمس ہے تو اس پر انیس بھائی نے کہا کہ قرآن میںزکوۃ پر بہت سی اٰیات ہیں تو اس پر مولانا نزیر نے کہا کہ کمس غریب و مسکین اور ابن سبیل پر خرچ ہوتا ہے اور ہم مولوی بھی اس مین آتے ہیں اس پر ہمارا بھی حق ہے،انیس بھائی نے کہا اس مسئلے کو ہم کراچی کے ایک عالم دین جن کا نام شرف الدین ہے ان سے دریافت کرین گے تو مولانا وہان سے خاموشی سے چل پڑے۔
ارشد شیرازی نے بتایا مولانا حافط نذیر حسین کارواں سلمان فارسی(ڈیرہ اسماعیل خان) سے مورخہ 8 ذیقعدہ سے 1433 ھجری کو بمطابق 2012 کو برادر سید انیس الحسن شیرازی اور ان کی اہلیہ کے سفر حج کی روانگی سے پہلے حاجی کیمپ راولپنڈی کے داکلی دروازے پر ملاقات ہوئی۔سلام دعا کے بعد ارشد شیرازی نے مولانا صاھب کی خدمت میں عرج کیا جناب یہ میرے بہنوئی ہیں آپ کے قافلے میں حج پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ جا رہے ہیں یہ دونون احرام نذری باندھنے کے قائل نہیں ہیں لہذا آپ سے درخواست کرنے کیلے حاضر ہوا ہوں کہ احرام میقات سے باندھنے میں ان کی مدد کریں۔
تو مولانا نے فرمایا:
"احرام میقات سے باندھیں گے تو آپ کو رقم خرچ کرنی پرے گی۔تو انیس بھائی نے کہا آپ پیسوں کی فکر نہ کریں انشائ اللہ ہم ادا کریں گے"۔
پھر مولانا صاھب نے کہا:
"یہ لوگ تو صرف دو ہیں جب کہ سارے لوگ ائیرپورٹ سے احرام باندھین گے صرف دو افراد کو کیسے میقات لے کر جا سکتا ہوں یہ تو بہت مشکل ہے"۔
فقہاء کہتے ہیں آپ مجبوری میں احرام نذری باندھ سکتے ہیں۔
پھر مولانا نے پوچھا:
"آپ کس کے مقلد ہیں؟" تو بھائی انیس نے کہا مولانا صاحب"ہم کسی کے مقلد نہیں ہیں ہم تابع قرآن و سنت ہیں،مسلمان ہیں جو بھی قرآن و سنت سے کسی مسئلے میں سند و دلیل دے دے ہم تابع دلیل ہیں اور تقلید کو نہیں مانتے"۔
تو مولانا صاحب نے انہیں جواب دینے کی بجائے شیرازی سے کہا:
"یہ شرف الدین کی بات ہے آپ شرف الدین کی بات کو ہر کسی پر نہ ٹھونسیں اور سچ سچ بتائیں یہ کس کی تقلید کرتے ہیں؟"۔
تو بھائی انیس نے ان سے مخاطب ہو کر کہا مولانا صاحب میں جو آپ کو کہ رہا ہوں کہ میں مقلد نہیں ہوں ہم تابع قرآن و سنت ہون، جو بھی قرآن و سنت سے کسی مسئلے میں سند و دلیل دے دےتو ہم اسی قول کی تاسی و اتباع کرتے ہیں۔"
تو مولانا نذیر نے پوچھا:
"کیا آپ آئمہ معصومین کو حجت نہیں مانتے؟تو شیرازی نے مداخلت کرتے ہوئے مولانا سے سوال کیا کہ جناب معصوم کا لفظ قرآن کریم میں کس جگہ آیا ہے اور اس کے کیا معنی ہیں۔؟"
تو مولانا صاحب نے کہا:
آپ سے بحث نہیں ہو سکتی ہے۔تو شیرازی نے ان سے کہا کہ مولانا ہم سے بات اس لئے نہیں ہو سکتی ہے کہ ہم آپ کی طرح مراجع کی آنکھ بند کر کے تقلید کے قائل نہیں ہزار ہزار فٹ اونچا جھنڈالگانے کے قول کو اجتہاد قرار نہیں دیتے گھورے اور جھنڈے سے تقلیدیون کے ہمراہ نوکریان اور بیٹے نہیں مانگتے۔تو پھر مولانا صاحب نے کہا کہ ہم تو مقلد ہیں اور آخری امام مہدی کے فرمان کی روشنی میں مراجع ہم پر حجت ہیں پھر بولتے چلے گئے کہ علم کو ہم لگائیں گے چومیں گے آنکھون سے لگائیں گے آپ کی بات کو ہم نہیں مانتے ہیں آپ کا عمل آپ کو مبارک ہو اور ہمارا عمل ہمیں مبارک۔
برادر ارشد شیرازی جب بھائی انیس الحسن اور ان کی اہلیہ کو ان کے برادران و خواہران کے ہمراہ ائیرپورٹ چھوڑنے گئے تو درج ذیل سوالات جو بذریعہ شیرازی مولانا حافظ نذیر صاھب سے دریافت کئے تھے انہیں شیرازی نے ہم سے ٹیلی فون پر پوچھ کر کاغذ پر تحریر کیا اور اس کی دس فوتو کاپیان انیس الحسن کے ہاتھ میں دیں انہوں نے قافلہ والون کو بھی دیں اور خود حافظ نذیر صاحب کو بھی دیں۔
(سوال جواب طوالت کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کئے،کتاب میں پڑھ لیں)
یہاں ان حضرات کو متوجہ کرنا چاہتا ہون کہ علماء کی ذمہ داری دین اسلام میں حلال و حرام کی نشاندہی ہے دین اسلام نے حرام خوری سے منع کیا ہے دھوکہ فریب سے لوگوں سے مال بٹورنے سے منع کیا ہے یہ اکل با الحرام ہے ۔

عبادات جن کے اداء صرف قرآن کریم اور سنت و سیرت محمد ص کے مطابق انجام  دینا ہے ورنہ وہ اعمال بدعت باطل ہونگے۔جناب حافظ نذیر صاحب کی دونوں طریقہ کار کو مندرجہ بالا سطور میں سب نے ملاحظہ کیا ہے مال کے حساب سے انہوں نے بنام حق زحمت چار ہزار روپے لئے۔وہ ان کیلے حلال ہیں باقی جتنی رقوم انہوں نے حجاج سے لیں وہ کہ دیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے نہیں دی ہیں،حرام ہے کیونکہ ان کو اغفال میں رکھا گیا ہے۔"

 (معجم حج و حجاج،صفحہ41،42،43،آغا علی شرف الدین)

اللہ قرآن و سنت کے متبعین کو سلامت رکھیں اور تقلید کی بجائے تحقیق کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

حجت خدا

0 comments
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں،کسی بھی وقت نداء حق کو لبیک کہ سکتا ہوں،لہذا میں چاہتا ہوں کہ یہ کلمات ہر خاص و عام تک پہنچا دوں۔اسی طرح میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حقیر کوئی دعوی اجتہاد و فقاہت نہیں رکھتا۔لیکن قرآن و سنت محمد کے علاوہ کسی کو حجت نہیں سمجھتا ہوں کیونکہ آیت"رسلا مبشرین و منذرین لان لایکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل وکان اللہ عزیز حکیما۔"یہ سارے رسول بشارت دینے والے اس لئے بھیجے گئے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد انسانوں کی حجت خدا پر قائم نہ ہونے پائے اور خدا سب پر غالب اور صاحب حکمت ہے(نساء 165) اور خطبہ 133،104 نہج البلاغہ کے تحت اسلام کے بنیادی مسائل کے بارے میں قرآن کریم اور سنت نبی کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔
(صفحہ 2)

ولادت علی ع کیا کعبه میں هوئی

0 comments
غالیون کے قصے کہانیوں کا رد   از استاد علی شرف الدین

"غرض یہ لوگ ولادت علی کعبہ میں ہونے کے بارے میں تشکیک کرنے والوں کو دشمن علی قرار دیتے ہیں تاکہ علی کی فضیلت آخر میں افسانہ بن جائے۔یہ علی کو تاریخ کا افسانہ بنا کر پیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں چنانچہ قصہ قتل مرحب میں ضربت علی کا زمین سے بھی گزر کر جبرئیل تک پہنچنے کی کہانیاں سناتے ہیں مثلا کہتے ہیں علی کی حیات اور موت میں علی کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں گیا۔علی کی قبر پر آنے والے دست خالی نہیں جاتے یہ سب انہون نے شخصیت علی کو افسانہ بنانے کیلے گھڑا ہے۔انہیں اہل بیت محمد سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ یہ کسی اور اہل بیت سے محبت کرتے ہیں اہل بیت اطہار سے انہیں کوئی محبت نہیں۔یہ زہرا کا ذکر بار بار اپنے اغراض کیلے کرتے ہین کہتے ہین زہرا کے گھر کا دروازہ توڑا گیا،محسن شہید ہوئے زہرا کے رخساروں پر تمانچے لگے ان کی پسلی ٹوٹ گئی۔لیکن کبھی یہ نہیں بتاتے کہ ان کے چچا عباس ،ان کے چچازاد بھائی اور ان کے شوہر علی اس وقت کہاں تھے۔ان کے زخمی ہونے پر ان کو کوئی اعتراض نہیں ہوا کیا؟ انہیں ذرا بھر بھی زہرا سے ہمدردی نہیں تھی ؟ کیا بنی ہاشم زہرای کی تیمارداری تک کو نہیں آئے کیونکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے انہون نے زہراء کے نام کو اپنے شوم مقاصد کیلے استعمال کرتے ہوئے ایک جھوٹ گھرا ہے۔کہتے ہیں حضرت علی رات کو گدھے پر اناج رکھ کر گھر گھر لے کر جاتے تھے جس طرح آج کل پاکستان میں دوغلی شناخت رکھنے والے سیکولر سیستمدار کرتے ہیں۔انہی کہانیوں میں سے ایک یہ کہنا کہ پیغمبر نے فرمایا یا علی اپنا کاندھا مجھے دیں تاکہ میں اس پر چڑھ کر کعبہ میں رکھے گئے بتوں کو توڑ سکوں پیغمبر سوار ہوئے علی دب گئے یہاں فاتح خیبر،باب خیبر کو اکھاڑنے والا پیغمبر کو برداشت نہیں کر سکا۔اس پر کہتے ہیں بار نبوت سنگین ہے۔بار نبوت سنگین ہوتا ہے تو پیغمبر جس اونٹ اور گھورے پر سوار ہوتے تھے انہیں بھی دبنا چاہیے تھا جب کہ ان گھوڑوں نے ان کے ساتھ دوسرے سوار کو بھی اٹھایا ہے غرض غالیوں نے اسی طرھ کی  کہانیاں اورقصے گھڑے ہیں تاکہ دین اور دینی شخصیات کا چہرہ مسخ کریں۔"

                                 (214 ،215 معجم حج و حجاج)

دشمن اهلبیت ع

0 comments
دشمن ِاہل بیت ع

سالار و علماے کاروان حجاج کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین میں نماز جماعت میں شرکت نہ کرنے  کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہاں کا امام دشمن اہل بیت ہے۔اس مسئلہ کے مختلف زاویے ہیں ہر زاویے سے بحث کرنے کی ضرورت ہے:۔
1۔اہل بیت ع سے مراد کون کون ہیں کہ جن سے یہ لوگ دشمنی کرتے ہیں؟
2۔اگر وہ ان سے دشمنی کرتے ہیں تو اس کے مظاہر کیا ہیں۔کیا وہ زبان سے اہل بیت سے دشمنی کرتے ہیں،عمل سے کرتے ہیں،تحریر سے کرتے ہیں،تقریر سے کرتے ہیں یا خفیہ طور پر دل میں دشمنی رکھتے ہیں۔آیا خود اہل بیت نماز پنجگانہ فرادی گھر میں پڑھتے تھے یا مسجد میں فرادی پڑھتے تھے؟یا مسجد میں امام کے پیچھے نماز پڑھتے تھے؟اہل بیت کی نظر میں امام جماعت کو کن شرائط و صفات کا حامل ہونا چاہیے؟ خود اہل بیت کس کس سے دشمنی رکھتے تھے۔قرآن کریم نے مسلمانوں سے کہا شیطان تمہارا دشمن ہے،یہود و نصاری تمہارے دشمن ہیں جب کہ یہ شیطان صفت لوگوں اور یہود و نصاری کے خدمت گزار ہیں اور ان میں گھل مل کر اور ان کی نوکری چاکری اور خدمت گزاری میں بہت خوش و خرم رہتے ہیں۔ان سے سوال ہے کہ آپ کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ یہ لوگ دشمن اہل بیت ہیں تو جواب میں اکثر و بیشتر کہا جاتا ہے یہ لوگ خلفاء کے ماننے والے ہیں اور خلفاء دشمن اہل بیت  ع تھے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہل بیت نماز انہی خلفاء رض کی اقتدا میں نہیں پڑھتے تھے؟
3۔آیا سارے سنی دشمن اہل بیت یا سارے اہل حدیث و وہابی اور دیوبندی دشمن اہل بیت ہیں یا صرف حرمین شریفین کے امام جماعت ہی دشمن اہل بیت ہیں۔اگر یہ لوگ دشمن اہل بیت ہیں تو جمعہ و جماعت کے خطبے میں اہل بیت پر درود و سلام کیوں بھیجتے ہیں؟کیا یہی دشمن کی علامت ہے؟آپ کس بنیاد اور کس منطق کے تحت تمام اہل سنت کو دشمن اہل بیت گردانتے ہیں؟؟

                   آغا علی شرف الدین صاحب

اپنوں کے خلاف

0 comments
آغا صاحب آپ اپنوں کے خلاف کیوں لکھتے ہیں؟؟

آغا صاحب کا جواب:

میرے اوپر وارد  اعتراض میں سے ایک یہ جملہ ہے کہ یہ اپنوں کے خلاف لکھتے ہیں یہ جملہ زمانہ جاہلیت کے اصول قبائل میں سے تھا جہاں انہوں نے  اپنی طرف سے ایک اصول جعل کیا "انصر اخاک ظالما او مظلوم،ظالما مظلوما" اپنے بھائی چاہے ظالم ہو  یا مظلوم دونوں حالت میں اس سے دفاع کرو تو اس کو آئین جاہلیت کہیں گے۔لہذا قرآن و سنت محمد میں یہ قانون منسوخ ہوگیا۔اگر ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکو چاہے وہ تمہارا بھائی ہی کیوں نہ ہو اور اگر مظلوم ہے تو ان سے دفاع کرو۔لہذا اگر کوئی گروہ میرے دین میں ہر آئے دن بے اسناد معاجز و فضائل کو دین کا حصہ بنانے اور تحریفات و خرافات اور غیر معقولات کے پہاڑ بنا دیں تو بتائیں وہاں ایک انسان مسلمان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔کیا یہاں نہی عن المنکر بہتر ہے یا خاموشی و سکوت؟؟؟

یهودی ایجنٹ

0 comments
"جب دلنواز صاحب تیسری دفعہ ملے تو آپ کا موڈ بہت خراب ہوگیا تھا محسوس ہوا کہ آپ نے ان صفھات کو انتہائی دقت اور غور سے پڑھا ہے یا کسی پڑھنے والے نے آپ کو ہمارے خلاف اکسایا ہے،جس کی بنیاد پر آپ چہرہ عبوسی میں کہنے لگے سب حافظ بشیر نہیں بن سکتے ہیں۔آپ کی کتاب کوئی نہیں پڑھتا۔پھر کہنے لگے عرصہ دراز سے ہمارے فرقے میں یہودیوں سے پڑھے ہوئے افراد گھس گئے ہیں جو اس میں انتشار و افتراق پھیلا رہے ہیں۔وہ یہودیوں کیلے کام کرتے ہیں۔اس دن وہ بہت غصہ میں تھے۔آپ کا مزاج کچھ زیادہ ہی خراب تھا۔علامہ امینی صاحب بھی آپ کے ساتھ تھے آپ نے یہ جملہ دو تین مرتبہ دہرایا جس کے بعد علامہ امینی جلدی سے حلقہ چھوڑ کر طواف میں تشریف لے گئے۔

جہاں تک دلنواز صاھب کا یہ کہنا کہ سب حافظ بشیر نہیں بن سکتے ہیں میں دلنواز سے نیز آیت اللہ مبلغ و خطیب غالین آیت اللہ غروی اور قارئین کرام کو یقین دلاتا ہوں اور مطمئن کرتا ہوں کہ میں خرافات و تحریفات کی تہہ سے نجات پانے کے بعد دین مقدس اسلام کے چہرہ مبارک سے گرد و غبار دھونے اور عمامہ و عباء جانے کے بعد دوبارہ امام و فقیہ خرافات قطعا نہیں بنون گا۔

جہاں تک آپ نے فرمایا میری کتابیں کوئی نہیں پڑھتا یہ بات بھی چند لحاظ سے درست نہیں تھی:
1-اگر میری کتابیں کوئی نہیں پڑھتا ہے تو آپ بمعہ طالب صاحب اور آپ کے مرشد آقائے رضی جعفر اس طرح دیگر علماء اعلام اکبر محترم محسن نجفی،سلمان نقوی،جعفری اور فقیہ سرگودھا کیوں غیض و طیش میں ہیں۔شاید کسی پڑھنے والے نے آپ حضرات کو کتابوں کا محتویٰ مضامین سے خبر دی ہوگی یا آپ نے خود پڑھی ہوں گی۔

2-میری کتابیں کیون نہیں پڑھتے ہیں شاید اس لئے نہیں پڑھتے ہونگے کہ یہ آپ کے عقائد قداحی اور غلو و شرک کو نیست و نابود کرتی ہوں گی۔جھوٹے قصے کہانیوں،تحریفات و خرافات اور من پسند و من گھڑت عقائد و رسومات پر مبنی آپ کا مذہب جو قرآن و سنت کے خلاف ہے وہ یقینا میری کتابوں کے مجامین کا تحمل نہیں کرنا ہوگا دین کا تسلسل صدوق اور کلینی سے اوپر جانے سے لنگڑا نہیں ہوگا لیکن ان سے اوپر جانے اور چودہ سو سال پہلے دور پیغمبر میں قرآن و سنت پیغمبر اسلام سے ملنے والے عقائد کو لینے اور ان پر عمل کرنے کیلے تیار نہیں اس لیے آپ ہماری کتابیں نہیں پڑھتے ہوں گے۔چنانچہ آپ جیسے علماء کی وجہ سے عاد و ارم جیسی تعمیر کی مانند درسگاہوں میں درس قرآن و سنت محمد ص پر پابندی ہے کیا یہ قرآن و سنت محمد ص کی توہین نہیں ہے۔

ہم قطعی طور پر نہیں کہ سکتے لیکن آپ کے خطابات کے سیاق و سباق میں مخاطب ہم ہی تھے چنانچہ یہاں کے علماء اعلام فرماتے ہیں میں وہابیوں کیلے کام کر رہا ہوں آپ نے وہابیوں کی جگہ یہودی استعمال کیا ہے ہم یہ نہیں کہ سکتے ہیں کہ ان کی مراد ہم ہی ہیں ان کی مراد کوئی بھی ہو سکتا ہے دونوں مفروجوں کیلے دلیل چاہیے لیکن ان جملات سے یہ سوچنے کا موقع ملا کہ بجائے اس کے کہ اس سے مراد مقصود کون ہو سکتا ہے ہمیں خود یہود کی کارکردگی کے بارے میں تحقیق کرنی چاہیے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہود کا طریقہ کار کیا ہے جس سے پتہ چلے گا کہ کون کس کے کہنے پر یہودیت کیلے کام کر رہا ہے۔اس وقت دنیا میں یہودیوں کی ان سازشوں کو کون کامیاب بنا رہا ہے اور کون ان کیلے سرگرم عمل ہے،یہودیوں کی اسلام و مسلمین کے خلاف سرگرمیوں کے بارے میں ہم بیان کریں گے  وہاں رجوع کریں۔"

         آغا علی شرف الدین علی آبادی

نوٹ:یہودی ایجنٹ کون اور کیا آغا صاحب یہودیون کیلے کام کر رہے ہیں کسی اور پوسٹ میں اس کا جائزہ لیں گے۔لیکن جو لوگ اور دینی راہنما   USAID اور AKRSP اور این جی اوز سے مذہبی مقامات کی construction اور reconstruction کرنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں ان کو آغا صاحب پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریباں میں جھانکنا چاہیے کہ پورے پاکستان اور خصوصا  گلگت بلتستان میں این جی اوز کو پیسے کون دیتا ہے اور ان کے پیسون سے مذہبی عمارتوں کی تعمیر اور تجدید کیا یہ یہودیون اور عیسائیوں سے دوستی اور ان کے ایجنٹوں کا آلہ کار بننا نہیں تو اور کیا ہے۔

یهودی ایجنٹ کون

0 comments
"دلنواز صاحب نے مجھے حج میں کرنے والے انحراف ردوبدل کے بارے میں کاروانوں کی شکایت کی بنیاد پر یہودی کہا ہے گرچہ بدکلامی،گالی و تہمت جو یہودیون اور مسیحیوں سے ثقافت و ورثے میں انہیں ملی ہے۔لیکن ہم گالی گلوچ تہمت الزام تراشی کی جلاد گرانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔کیونکہ  اس سے کسی مسئلے کا حل نہیں سمجھتے ہیں۔ہم حقائق کو بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ہم یہاں پر تہمت الزام تراشی نہیں کریں گے بلکہ جو کچھ قرآن نے یہودیوں کے بارے میں فرمایا ہے اور جو شناخت قرآن نے دی ہے اس پر اکتفا کر رہے ہیں کہ کون یہودیوں کے راستے  پر گامزن ہے۔آپ ان کی خصوصیات و امتیازات جاننے کے بعد معلوم کر سکیں گے کہ کون یہودیوں کے نقش قدم پر چل رہا ہے:

شناختھائے مخصوص یہود:
------------------------------------
1۔عام مسلمانوں سے عداوت و نفرت  لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ‌ٰوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَ‌بَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَـٰرَ‌ىٰ ۚ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُ‌هْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ ﴿٨٢﴾ آپ دیکھیں گے کہ صاحبانِ ایمان سے سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور ان کی محبت سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں …._ یہ اس لئے ہے کہ ان میں بہت سے قسیس اور راہب پائے جاتے ہیں اور یہ متکبر اور برائی کرنے والے نہیں ہیں

2۔مغرور وحاسود  وَدَّ كَثِيرٌ‌ۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَوْ يَرُ‌دُّونَكُم مِّنۢ بَعْدِ إِيمَـٰنِكُمْ كُفَّارً‌ا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَٱعْفُوا۟ وَٱصْفَحُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِ‌هِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‌ۭ ﴿١٠٩﴾  بہت سے اہلِ کتاب یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی ایمان کے بعد کافر بنالیں وہ تم سے حسد رکھتے ہیں ورنہ حق ان پر بالکل واضح ہے تو اب تم انہیں معاف کردو اور ان سے درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا کوئی حکم بھیج دے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے
ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَآ أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَ‌سُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْ‌بَانٍ تَأْكُلُهُ ٱلنَّارُ‌ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُ‌سُلٌ مِّن قَبْلِى بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَبِٱلَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ﴿١٨٣﴾ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آسمانی آگ کھا جائے تو ان سے کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمہاری فرمائش کے مطابق صداقت کی نشانی لے آئے پھر تم نے انہیں کیوں قتل کردیا اگر تم اپنی بات میں سچےّ ہو
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُ‌سُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُو بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلزُّبُرِ‌ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُنِيرِ‌ ﴿١٨٤﴾اس کے بعد بھی آپ کی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے جو معجزات, مواعظ اور روشن کتاب سب کچھ لے کر آئے تھے

3-دوسروں کے بات سنے اور غور کرنے پر پابندی   فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـٰقَهُمْ وَكُفْرِ‌هِم بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ‌ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِ‌هِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٥٥﴾پس ان کے عہد کو توڑ دینے ,آیات هخدا کے انکار کرنے اور انبیائ کو ناحق قتل کر دینے اور یہ کہنے کی بنا پر کہ ہمارے دلوں پر فطرتا غلاف چڑھے ہوئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ خدا نے ان کے کفر کی بنا پر ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے اور اب چند ایک کے علاوہ کوئی ایمان نہ لائے گا

4۔بے رحم شقاوت کے حامل ہیں۔

5-حقائق چھپانے والے ہیں۔

6۔جھوٹ پر جھوٹ ان کا دین ہے۔
 ٱنظُرْ‌ كَيْفَ يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًا مُّبِينًا ﴿٥٠﴾  دیکھو تو انہوں نے کس طرح خدا پر کھّلم کّھلا الزام لگایا ہے اور یہی ان کے کھّلم کّھلا گناہ کے لئے کافی ہےأَلَمْ تَرَ‌ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا۟ هَـٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا ﴿٥١﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جن لوگوں کو کتاب کا کچھ حصہّ دے دیا گیا وہ شیطان اور بتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کفار کو بھی بتاتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔
بات کرنے کے بعد مکر جاتے ہیں۔

7۔یہود ہی جنت میں جائیں گے۔ وَقَالُوا۟ لَن يَدْخُلَ ٱلْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَـٰرَ‌ىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْ‌هَـٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ﴿١١١﴾یہ یہودی کہتے ہیں کہ جنّت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا. یہ صرف ان کی امیدیں ہیں. ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم سچّے ہو تو کوئی دلیل لے آؤ۔
یہ علاوہ بر منافی عدل الہی چند ن آیات سے متصادم ہے جن میں اللہ نے بہت سے اہل کتاب منجمینہ صائبین کی نجات اور جنت جانے کا ذکر کیا ہے۔

8۔آیات الہی کی سودہ بازی تحریف گرائی۔فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ ٱلْكِتَـٰبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ لِيَشْتَرُ‌وا۟ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ ﴿٧٩﴾وائے ہو ان لوگوںپر جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ اسے تھوڑے دام میں بیچ لیں. ان کے لئے اس تحریر پر بھی عذاب ہے اور اس کی کمائی پر بھی ۔

جس طرح علماء یہود نے اپنے مفادات کی خاطر کتاب اللہ میں تحریف کی اسی طرح علماء اسلام نے بھی قرآن میں تحریف کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن اللہ کے ارادے کو شکست نہ دے سکے۔

9۔حرام خوری:خاص کر حرام خوری ربا خوری یہود کی شناخت ہے کاروان خمس دومجالس کے چندے 3 فاتحوں کے فیس مکہ مدینہ کے مقیم شیعوں کے نام سے چندے گاڑی میں سوار ہونے کی مد میں زیارتوں کی فیس

10۔خیانت
11۔اپنے اندر اور دوسرے ادیان سے تفرقہ و انتشار کا سہرا یہود کو جاتا ہے۔
1)یہ جو کہتے ہیں کہ صرف ہمارے فرقے والے ہی ناجی ہیں اور باقی جہنمی ہیں یہ ایک یہودی منطق ہے۔
2)جو عام مسلمانوں سے عداوت و دشمنی برتے وہ یہودی ہوگا۔

3)جو طرح طرح کے بہانوں سے حاجیون سے پیسہ بنائے اورریہ کے نام سے جھوٹ بولے۔

12۔بت پرستی:یہود کے بت پرستی میں مستغرق ہونے کا ذکر قرآن میں آیا ہے اللہ سبحانہ نے انہیں دریا شگاف کر کے پار کیا انہوں نے اپنے دشمن فرعون کو دریا میں غرق ہونے کا مظاہرہ اپنی آنکھون سے دیکھا لیکن اس کے باوجود جب انہوں نے بت پرستیوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھا تو موسی سے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے اس جیسا بت بنائیں
وَجَـٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ ٱلْبَحْرَ‌ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَـٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿١٣٨﴾اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار پہنچا دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو اپنے بتوں کے گرد مجمع لگائے بیٹھی تھی -ان لوگوں نے موسٰی علیھ السّلامسے کہا کہ موسٰی علیھ السّلامہمارے لئے بھی ایسا ہی خدا بنادو جیسا کہ ان کا خدا ہے انہوں نے کہا کہ تم لوگ بالکل جاہل ہو

13۔حضرت موسی قوم کو چھوڑ کر طور پر درگاہ الہ میں مناجات کیلے گئے تو ان کے غیاب میں اس قوم نے بچھڑا(حیوان) بنایا۔
وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ‌ ۚ أَلَمْ يَرَ‌وْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ ﴿١٤٨﴾ اور موسٰی علیھ السّلامکی قوم نے ان کے بعد اپنے زیورات سے گوسالہ کا مجسمہ بنایا جس میں آواز بھی تھی کیاان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ بات کرنے کے لائق ہے اور نہ کوئی راستہ دکھا سکتا ہے انہوں نے اسے خدا بنالیا اور وہ لوگ واقعاظلم کرنے والے تھے

قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنۢ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِ‌ىُّ ﴿٨٥﴾
ارشاد ہوا کہ ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کرڈالا۔"

            (آغا علی شرف الدین علی  آبادی  )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: آغا صاحب نے  13 بنیادی نکتے یہودیوں اور یہودیوں کی سیرت پر عمل پیرا لوگوں کی پہچان سے متعلق ذکر کئے ہیں۔ان میں سے ہر ایک نکتے کو قرآن سے ثابت کیا ہے۔اب ان نکتوں کو سامنے رکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ آغا صاحب یہودی ایجنٹ ہیں یا وہ جو دین میں حیوان پرستی، علم،جھولے اور جھنڈے و گھوڑے کو شعائر بتاتے ہیں۔
دین اسلام میں سچ بولنے کی تعلیم دینے والا یہودی ایجنٹ یا جھوٹ کو دین کی اساس کہنے والا شخص ایجنٹ؟؟

ہر قسم کی خیانت اور دیگر امانت کے منافی کام کرنے والے؟؟(تفصیل آگا کی کتاب شکوؤں کے جواب۔۔۔جواب سے لاجواب۔۔۔فصلنامہ عدالت وغیرہ میں پڑھیں)

جو لوگ عام عوام سے خمس جو صرف جنگی غنائم سے مخصوص ہے عام عوام کے مال کو حرام   کھانے والے عالم یہودی ایجنٹ ہیں؟؟(تفصیل آغا کی کتاب معجم حج و حجاج میں ملاحظہ کیجے)

وہ جو قرآن میں مختلف آیتوں میں تحریف کر کے من گھڑت دعاؤن اور زیارت ناموں اور متعہ کو ثابت کر رہے ہیں یا وہ جو صرف قرآن کی اصل تعلیمات سے روشناس کرا رہے ہیں؟؟

وہ علماء جو کہتے ہیں صرف ولایت علی کے اقراری ہی جنت میں جائیں گے یا یا علی انت و شیعتک فی الجنۃ جیسی روایات کو لے کر عام امت کو جہنمی اور صرف ولایت و امامت کے اقرار کرنے والے چاہے کتنے ہی گناہوں کا منکر ہو!! شیخی ولایت تکوینی اور علی اللہ کہنے والے نصیریوں اور قرامطیوں کو جنتی کہنے والے وہ یہودیوں کی سیرت پر عمل پیرا ہے یا آغا شرف الدین صاھب جو کسی فرقے کی بجائے صرف اسلام ناب محمدی کو ہی جنت میں جانے کو کافی کہتے ہیں اور شرک و بدعات و خرافات سے روکتے ہیں۔

وہ جو قرامطہ حمدان اور اشعث بن قیس جیسے دین فروشوں کے عقائد کو اسلامی عقائد قرار دے اور ابوالخطاب اور مغیرہ کے فکر عصمت و منصوصیت من اللہ اور میمون قداح کے عقائد کا پرچار کرے یا وہ جو صرف قرآن و سنت کی دعوت دے۔ہر عقیدے کی بنیاد قرآن و حدیث کو بنائے،کون ایجنٹ ہوگا؟؟(آغا کی کتاب باطنیہ و اخوتہا ملاحظہ کیجے)

ان تمام نکتوں کی تفصیل کیلے آغا صاھب کی کتابیں "عقائد و رسومات شیعہ" ،"شیعہ اہل بیت" ،"موضوعات متنوعہ"، "معجم حج و حجاج اور کتاب دارالثقافہ سے دارالوثقی ملاحظہ کیجے۔

فاعتبوا یا اولی الابصار

امام مھدی

0 comments
امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کی طرف جانے سے روکنے والوں کا کہنا ہے ایک ہدایت و نجات کنندہ آئے گا جو انسانیت کو بد بختی اور گمراہیوں سے نکالے گا۔ایسی توقع اور امید رکھنے کی کیا منطق ہوسکتی ہے جب کہ پیغمبر اسلام جیسی ہستی ہماری ہدایت کیلے ہی آئی تھی جو ہماری ہدایت کیلے قرآن جس میں باطل کسی سمت سے داکل نہیں ہوسکتا اور اپنی سنت جس پر عمل پیرا ہونے کا اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں حکم دیا ہے چھور گئے (نساء 59) کیا پیغمبر اکرم سے بہتر کوئی اور ہستی اور قرآن سے بہتر کوئی اور کتاب آسکتی ہے جو امت کی ہدایت و نجات کا باعث بنے؟قرآن و سنت کے ہوتے ہوئے ظلم و گمراہی سے نجات حاصل کرنے کے لئے کسی ہستی کے انتظار کیا معنی رکھتا ہے؟سوائے اس کے کہ امت کو کسی ہستی کے ظہور کا منتظر رکھ کر قرآن و سنت کے نظام سے دور کیا جائے۔ہم نے نیام سے نکلنے والی مصقل تلوار کے ساتھ قابض الارواح کو دیکھ کر ہاتھ تلوار کو لگایا ہے۔جب عزرائیل بھی ہمارے پیچھے ہیں تو کیونکر ہم ظالم کے ہاتھ تسلیم ہو جائیں لہذا ہم نے اللہ کی دی ہوئی حجت باطنی یعنی عقل اور حجت ظاہری قرآن اور سنتوسیرت نبی سے سہارا لیتے ہوئے اس مسئلے کو بنیاد اور جڑ سے اٹھانے کیلے عزم و ارادہ کیا۔۔۔اب قارئین کی مرضی ہے جو کچھ کرنا اور کہنا چاہتے ہیں کہ سکتے ہیں۔

(کتاب باطنیہ و اخوتہا صفحہ 81 سے صفحہ 182 تک آغا صاھب نے امام مھدی سے متعلق تمام روایات پر کھل کے بحث کیا ہے۔  )

نوٹ:امام مھدی سے متعلق روایات شیعہ کو علمی تحقیق سے گزارنے کا سہرا جناب آیت اللہ شریعت سنگلجی کو جاتا ہے انہوں نے اپنی کتاب "رجعت اور اسلام" میں اس نظریہ امام مھدی کا رد کیا اس کے علاوہ انہوں نے فرمایا کہ میں امام مھدی کا منتطر نہیں ہوں۔

آیت اللہ ابوالفضل ابن الرضا برقعی قمی نے اپنی مایہ ناز کتاب"بررسی علمی در روایات امام مھدی" یا امام مھدی سے متعلق روایات پر علمی تحقیق کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں اس عقیدہ امام مھدی کو غیر مستند قرار دیا۔

حوزہ علمیہ سے ہی فارغ التحصیل مجتہد ڈاکٹر احمد الکاتب نے بھی دو کتابیں امام مھدی سے متعلق لکھیں ،جس میں ثابت کیا کہ امام مھدی جو اپنی پیدائش سے پہلے ہی غائب ہوگئے /امام مھدی جو اب پیدا ہون گے دونوں نطریات درست نہیں۔اس موضوع پر سب سے زیادہ تحقیق بھی آپ نے ہی کی ہے۔الامام المهدي حقيقة تاريخية؟ أم فرضية فلسفية؟ "امام مھدی ایک تاریخی حقیقت یا فرضی افسانہ" آپ کی مشہور کتاب ہے۔آپ کی دوسری کتاب "حوارات أحمد الكاتب حول وجود الامام المهدي" امام مھدی کے وجود پر احمد کاتب کی بحث۔ہے۔ان کتابوں میں امام مھدی کے وجود یا مستقبل میں کسی امام مھدی کے آنے کا رد کیا ہے۔

اس کے علاوہ حوزہ کے فارغ التحصیل اور مشہور کتاب اسرار ہزار سالہ کے مصنف حکمی زادہ جس کی کتاب کا جواب امام خمینی نے کشف الاسرار کے نام سے دیا۔آپ نے بھی امام مھدی کے وجود کو فرضی قرار دیا۔

اور ان سب کے بعد آج کل کے معروف مفسر قرآن جو ایران میں قید ہیں،آیت اللہ آشتیاتی کے نواسے اور" آیت اللہ  طاطبائی کتاب تفسیر المیزان" کے پوتے جناب ڈاکٹر مصطفی حسینی طباطبائی بھی اس نظریہ کو نہیں مانتے کہ امام مھدی آئیں گے۔

پس آغا صاحب اکیلے انسان نہیں جنہوں نے امام مھدی سے متعلق روایات کو ناکافی قرار دیا ہو یا امام مھدی کے وجود یا مستقبل میں آمد کا انکار کیا ہو۔

والسلام علی من اتبع الھدی۔

قرآن کانفرنس

0 comments
آغا علی شرف الدین صاحب کے ادارہ "دارالثقافہ الاسلامیہ پاکستان" کا ایک اہم مقصد قرآنی علوم کی نشر و اشاعت ہے۔قرآن سے متعلق مختلف کتب آغا صاحب نے تالیف کی ہیں جن کی تعداد 10 سے 12 کے قریب ہیں۔

رمضان 1407ھجری میں پہلا سیمینار یوم القرآن منعقد کر کے اولین قدم اٹھایا گیا جس کے تحت آٹھ 8 سال تک مسلسل اس سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں علماء و دانشوروں کو مختلف موضوعات پر قرآن کی روشنی میں اظہار خیال کی دعوت دی جاتی تھی۔

رمضان 1415 ھجری میں پہلی مرتبہ ملکی سطح پر مقابلہ معارف قرآن کا انعقاد کیا گیا تاکہ کراچی شہر کی حدود سے نکل کر ملک کے دور دراز تک کے علاقوں کے لوگون تک قرآنی تعلیمات کی جانب  توجہ اور اس کے حصول کی ترغیب دی جائے۔اور یوں پورے ملک میں قرآن شناسی کی فضا و ماھول پیدا ہو۔

1414 اور 1415 ھجری کے مقابلوں  میں پوچھے گئے سوالات  کے جوابات پر مشتمل آغا صاحب کا یہ ایک کتابچہ معارف قرآن سوالات جوابات پر مشتمل ہے۔

خلفائے راشدین

0 comments
"آپ سنیوں سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ان سنیوں کی برگزشت خلفاء پر ہوتی ہے یہ خلفاء آپ کے غالیوں کے نزدیک فرعون،ہامان،گورباچوف،گاندھی،نہرو سے بھی بدتر ہیں لیکن میں یہاں آپ کو دقت و باریک بینی کو استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہوں کہ آپ اس حوالے سے کیا اظہار نظر فرماتے ہیں،ایک شخص یا گروہ جس نے کلمہ اسلام پڑھا،مسلمانوں کی نماز پڑھی،روزہ رکھا،جنگ و جہاد میں شریک ہوا،کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہو،وہ گوربا چوف اور گاندھی سے کیسے بدتر ہو سکتا ہے؟ اگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔دل سے نماز نہیں پڑھی ،دل سے روزہ نہیں رکھا بلکہ دل سے جنگ میں شریک نہیں ہوئے اور اسی بنا پر یہ لوگ منافق تھے۔تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا نبی کریم ص نے سربراہ منافقین عبداللہ ابن ابی کو ایسا ہی سمجھا تھا اور اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا تھا اسے واضح کریں۔"

                        آغا علی شرف الدین علی آبادی

مهدی

0 comments
"امام مہدی کا فکر و عقیدہ چاہے فکر و عقیدہ شیعہ ہو ،یا سنی ہو دونوں کی ڈوریاں خانہ باطنیہ کے ستون سے بندھی ہوئی ہیں۔اس کی پیدائش اور غیبت اور ظہور تینوں قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔اس عقیدہ کا نہ سر ہے نہ پیر۔ا س کی روایتیں صدوق غالی،فقیہ آل بویہ و بحرانی غالی سے لی گئی ہیں۔ان کی اسناد مقطوع صدر،وسط و آخر ہیں لہذا علماء کو امام کے بارے میں آیات و روایات سے استناد سے زیادہ ڈنڈے اور گالی کا استعمال موثر لگا۔اسی لئے وہ اسی سے سہارا لیتے ہیں۔جہاں تک یہ عقیدہ کہ امام مھدی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور زمین گہوارہ امن ہوگا یہ صریح آیات قرآن کے خلاف ہے کیونکہ وہاں بیان ہوا ہے کہ فتنہ و فساد قیام قیامت تک رہے گا۔"

                   آغا علی شرف الدین علی آبادی

جھنڈا

0 comments
"کسی ملک میں تاریخ میں ڈننڈے اور کپڑے کی اتنی اہمیت نہیں جتنی ان(شیعہ)کے جھنڈےکی ہے۔انہوں نے پہلے مرحلے میں اسے یادگار نشانی کے طور پر نصب کیا اور دوسرے مرحلے میں حاجت و نیاز لینے کے نام سے اسے تقدس دیا۔مجوس اور مشرکین کا ایک ٹولہ جمع کیا جو اس کی طرف ہاتھ بلند کر کے مانگ رہا ہے۔اور عمامہ پوش جو اس سے حاجت مانگنے کے بعد جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم جھنڈے سے نہیں مانگتے۔یہ پرچم اپنی جگہ سامری کے بچھڑے کا کردار ادا کر رہا ہے۔1428ھ کو یہ ارتقائی منازل طے کرتے کرتے پاکستان کے شہر میانوالی روانہ ہوا اور سکردو میں ایک میلے کی شکل اختیار کر گیا۔اس جھنڈے کی پوجا یہاں کے علماء کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جو صفحہ تاریخ پر ثبت ہو گیا ہے اور اہل بیت کے ماننے والوں کو دوسرے مسلمانوں کے روبرو ضلیل و خوار کیا۔ انہیں مرجعیت۔قیادت،مقتدر سب کی حمایت حاصل تھی۔عبا اور عمامہ پوش حجت اسلام مرجین اسلام مروجین احکام بوتلوں میں بطور تبرک اس جھندے کے دھون کو ڈال کر اپنے گھروں میں لے گئے شاید وہ ابھی اس بات سے انکار کریں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا جس طرح اس سے پہلے گھوڑا کا دھون بطور تبرک پیا تھا کوئی بات نہیں کیونکہ اس سے ان کی سو خرافات و جعلیات میں ایک ہی کمی واقع ہوگی۔لہذا ہم اس دن کو مرجعیت قیادت بڑے چھوٹے علماء دین کی پاسداری کا پول کھلنے اور بوکھلاہٹ کا دن سمجھتے ہیں اور اس دن کو ان کے چہروں پر سیاہ دھبے کے طور پر یاد رکھیں گے۔"

( علامہ علی شرف الدین موسوی علی آبادی)
0 comments
"ہمارے بہت سے مولانا حضرات جو امیر و فقیہ کاروان حج بیت اللہ ہیں بغیر کسی جھجک تردد ہچکچاہٹ کے اپنے علاقے میں منسوب جعلی ضریحو،سیاہ پرچم جھنڈے،گھوڑے اور جھولے  سب کو شعائر کہتے ہیں اور انہیں چومنا عبادت و بندگی شمار کرتے ہیں۔جیسا کہ قبلہ زیدی صاھب منبر کو جس پر چڑھ کر تقریر کرتے ہیں جس پر قدم رکھتے ہیں جس پر بیتھتے ہیں اس کو بوسہ دیتے ہیں کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہے۔
امیر کارواں حیدری کہتے ہیں گھوڑا،جھنڈا تابوت کو بوسہ دینا ایسا ہی ہے جیسے کعبہ کو بوسہ دینا،کعبے کے گرد گھومنا ان کی نظر میں شریعت اللہ،قرآن  اور اس کے رسول کے ھکم تک نہیں بلکہ یہ جو ہم بھی چاہیں شعائر اللہ تعین کر سکتے ہیں۔یہ حضرات اللہ کے ساتھ تو تو میں میں کرتے ہیں کہ اگر اللہ کہ سکتا ہے تو ہم کیو ں نہیں کہ سکتے اگر ایسا ہو سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔"

                     آغا علی شرف الدین
                     کتاب معجم حج و حجاج 154
http://sibghtulislam.com/downloads.aspx

کیا فقه جعفری فقه اھل بیت ع هے

0 comments
"تیسرے فریق نے ان دونوں(اہل قرآن اور اہل حدیث) کے روش کو مسترد کرتے ہوئے ایک طرف قرآن کو ناقص مبہم،مجمل اور منحرف کتاب قرار دیا اور دوسری طرف سے سنت رسول کے بارے میں بانگ دھل واشگاف الفاظ میں کہا رسول کی سنت حجت ہے لیکن ہم رسول کی سنت  اصحاب سے نہیں لیتے کیونکہ تمام اصحاب عادل نہیں ہیں۔یعنی اصحاب میں فسق و فجور کے مرتکب افراد بھی تھے لہذا ہم سنت کو  زہل بیت سے ہی لیتے ہیں۔اس طرح یہ گروہ اسلام کے دونوں مصدر قرآن و سنت نبوی سے لنگڑا ہے ۔ان دونوں مصادر کے انکار کے بعد مندرجہ ذیل  سوالات استبصارات پیش آتے ہیں:
اہل بیت سے مراد کون ہیں اس میں کون کون سی ذوات اور ہستیاں آتی ہیں لیکن اس سوال کے جواب میں مضطرب پراگندگی سے دوچار ہیں ۔کہتے ہیں اہل بیت سے مراد حضرات امیرالمومنین حضرات حسنین فاطمہ زہراء امام سجاد یک بعد دیگر اہل بیت کے مصداق ہیں۔لیکن آپ ان کے 51 ابواب فقہ میں امیرالمومنین سے جو سب سے پہلے اہل بیت کے مصداق ہیں جو رسول اللہ کی بعثت سے پہلے  ان کے ساتھ رہے۔آپ کے پروردہ ہیں آپ کے حضر و سفر میں آپ کے ساتھ رہے ہیں۔آپ کے بعد تیس سال زندگی گزاری ہے اور چار سال خلافت پر رہے بتائیں ان سے کتنی احادیث منسوب ہیں؟
2-حضرت فاطمہ زہراء جو بعثت سے پہلے یا ابتدائی سالوں میں پیدا ہوئی ہیں۔تمام ادوار رسالت میں آپ کو دیکھا ہے آپ کی کتابوں میں حضرت زہراء سے کتنی احادیث موجود ہیں؟
3۔آپ قطعی طور پر بعض اصھاب کے عادل ہونے کے معتقد ہیں آپ بتا دیں آیا ان سے سنت رسول لینے میں کیا جھجک ہے مثلا سلمان سے اباذر مقداد سے ابن عباس سے آپ نے کتنی روایات نقل کیا ہے؟
4۔حضرات حسنین جنہوں نے ہجرت کے آخری سالوں کو کمال درک و بصر و بصیرت کے ساتھ درک کیا ،ان دو ذوات سے کتنی احادیث فقہ میں موجود ہیں۔اس کے بعد تابعین میں امام سجاد ہیں  ان کی طرف سے ان سے منسوب کتنی احادیث ہیں۔
ان تمام ابواب فقہ کیلے ایک معتد بہ مقابل مقدار کافی احادیث نہ ملنے کے بعد انہوں نے چھلانگ مار کر کہا کہ تقیہ اور سخت پابندیوں کی وجہ سے اندرون خانہ  محصور ہونے کی وجہ سے یہ ذوات احکام شرعیہ کو بیان نہیں کر سکے۔اور یہ کام کرنے کا موقع صرف امام جعفر صادق کو نصیب ہوا۔

بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان جاری اقتدار کی رسہ کشی سے آپ کو ایک قسم کی آزادی ملی جس میں آپ نے بھرپور طریقہ سے حکم شریعت کو بیان کیا۔لہذا ہم دین کو امام جعفر صادق سے لیتے ہیں۔اسی وجہ سے ہم خود کو جعفری سے انتساب کرتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ:
آپ دین و شریعت کو امام جعفر صادق سے لیتے ہیں لیکن نام سب اہل بیت کا لیتے ہیں اس کی کیا منطق ہے؟امام جعفر صادق رسول اللہ سے نہیں ملے۔تو آپ نے یہ تمام احکام شرعی کہاں سے اخذ کئے۔اگر کہتے ہیں امام نے یہ سب ازروئے وحی اللہ سے لیا چنانچہ اس سلسلہ میں گروہ آئمہ کے وحی سے متصل ہونے کا سلسلہ باقی رہنے کا دعوی بھی کرتے ہیں۔جب کہ تسلسل وحی تسلسل نبوت کی ایک کڑی ہے اور قرآن اور امت کی وحدت اجماع کے تحت تسلسل نبوت سورہ نساء آیت 165 کے تحت منقطع ہے۔نہج البلاغہ میں امیر المومنین فرماتے ہیں حجت نبی کے بعد ختم ہوئی ہے۔لہذا امام جعفر صادق نے اتنی احادیث کس سے سنی ہیں؟؟
اگر امام محمد باقر اور امام سجاد سے مروی ہیں تو کیوں امام باقر اور امام زین العابدین سے اتنی احادیث نہیں،اگر امام زین العابدین نے امام حسین سے سنی ہیں تو کیوں امام حسین سے اتنی احادیث مروی نہیں ہیں۔یہ کہنا کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں انہیں موقع ملا اور آپ نے درس کا بندوبست کیا۔ایسی کوئی تاریخ بتائیں جب اتنے افراد مدینہ میں آپ کے حلقہ درس میں شریک ہوئے۔ان افراد اور جائے درس کا ذکر کریں،مسجد نبوی پر بنی امیہ کے دور میں انہی کا قبضہ تھا اور بنی عباس کے دور میں بنی عباس کا تو کیا امام صادق نے کوفہ کی مسجد میں درس دیا ہے اگر ایسا ہے تو وہ تاریخ بتایں جب امام کوفہ آئے اور کیوں کوفہ تشریف لائے اور کس سن میں تشریف لائے اس کا تاریخی حوالہ دیں۔

اگلا سوال امام جعفر صادق سے نقل کرنے والے راوی کتنے ہیں ان راویوں کا حال بھی بیان کریں۔ہم نے اس کی وضاحت اپنی کتاب "شیعہ اہل بیت" میں بیان کی ہے۔جن راویوں کو آپ نے امام جعفر صادق سے اتنی ضحنیم احادیث نقل کرنے کا دعوی کیا ہے ان راویوں کا نام آپ کے معاجیم رجال میں یا مجہول یا مہمل ہے یا ان کا نام ہی نہیں پایا جاتا۔اس کے علاوہ امام صادق فرماتے ہیں ہم جو کچھ حکم شرعی تمھیں بیان کریں اس کی سند ہم سے قرآن اور سنت رسول سے طلب کریں کہ یہ قرآن میں کہاں اور سنت رسول میں کہاں ذکر ہوا ہے اگر سند نہ مل سکے تو سمجھ لیں ہم سے منسوب احادیث کا حکم غلط ہے۔
ہر حکم شرعی کا قرآن یا سنت رسول سے انتساب ضروری اور ناگزیر ہے چنانچہ اصول کافی ج 1 صفحہ 59 باب فصل علم میں حدیث الرد الی الکتاب والسنہ میں آٹھ یا نو احادیث نقل کی گئی ہیں۔ان کے پاس امام جعفر صادق کے بعد پھر خاموشی چھا جاتی ہے اور اچانک شیخ صدوق کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے جنہوں نے جعلی راویوں سے مستند احادیث کی خود ساختگی کی شرمندگی سے بچنے کیلے تمام اسناد کو حذف کر کے خود ضمانت دی اور حدیث بلا سند کو پیش کیا ہے۔آپ کے بعد والوں نے ان احادیث کو بھی حذف کیا اور اپنی مرضی سے فتوی دینے کا سلسلہ شروع کیا اور یقین دہانی کرائی کہ ہم آپ کو قرآن و سنت سے مستنبط فتوی دیں گے۔جب ان سے سند کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو یہ فقیہ اور ان کے وکلاء چڑ جاتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں۔اس غوغا اور چڑ کی چھتری سے استفادہ کرتے ہوئے یہ قرآن و سنت کے خلاف فتوی دینے میں سرگرم ہوئے ہیں چنانچہ مناسک حج و عمرہ میں اپنی مصلحت تراشی سہولتوں کے بہانے حج کو قرآن و سنت کے دائرے سے نکال کر اپنی خواہشات کے کنارے لگایا ہے۔اب جو بھی شخص اس بارے میں زبان کھولتا ہے سوال کرتا ہے تو عتاب کا نشانہ بنتا ہے۔یہ اپنے ساتھ لائے ہوئے حجاج کو بکرا بنا کر بیوقوف بھی بناتے ہیں۔انہیں یہ احکامات سنائے جاتے ہیں کہ کسی کی بات نہ سنیں کسی کی مجلس و محفل میں نہ بیٹھیں۔حرم میں نہ جائیں۔یہاں تک کہ ہمارے دوست   دلنواز صاحب کا کہنا ہے جو ان کی کارکردگی کے خلاف بات کرتے ہیں وہ علمائے یہود ہیں"۔

(صفحہ 138 معجم حج و حجاج استاد علی شرف الدین صاحب)

اھل حق

0 comments
قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَـٰقُوا۟ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَ‌ةًۢ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّـٰبِرِ‌ينَ ﴿٢٤٩سورہ بقرہ﴾ ایک جماعت نے جسے خدا سے ملاقات کرنے کا خیال تھا کہا کہ اکثر چھوٹے چھوٹے گروہ بڑی بڑی جماعتوں پر حکم خدا سے غالب آجاتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

"ہم علماء کے قیل و قل جمع کرنے کے ھق میں نہیں کیونکہ ہم کثرت حمایت کنندگان کو حقانیت  ثابت کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھتے۔یہ دور جاہلیت کا مظہر ہے کہ ہمیں اتنے علماء اکابرین کی حمایت حاصل ہے۔قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ نے قلت کو حق کی مدح اور کثرت اوباش مذمت کی ہے۔نہ ہی ہم سلف صالح کی بے جاتنقیص و مذمت کرتے ہیں خاص طور پر صدر اسلام میں نبی کریم ص کے مکہ و مدینہ کے یاران باوفاکی۔ہم نہ تو ان کی تنقیص کرتے ہیں نہ ان کے  سر پر تاج حجت رکھتے ہیں۔ہماری حجت دو ہی ہے ایک کتاب اللہ اور دوسری سنت طیبہ جو ہمیں مستند معتبر مسلسل راویان صدق کے ذریعے سے ملی ہے۔
"
آغا علی شرف الدین علی آبادی

تقیه

0 comments
فضائل اہل بیت کے بہانے غالیوں نے ایسی احادیث گھڑیں کہ ان کی جب اہل بیت کو خبر ملتی تو وہ اس کی مذمت کرتے۔اس وقت کسی بھی قسم کے ذرائع و ابلاغ نہیں تھے اور نہ ہی تحریری۔اس دور میں مدینہ سے کوفہ کوئی خبر پہنچنا اور پھر اس کا جواب پہنچنے میں کتنی دیر لگتی یہ واضح ہے۔اس سے یہ لوگ استفادہ کرتے۔یہ لوگ امام محمد باقر کے نام سے امام جعفر صادق کے نام سے احادیث جعل کرتےتھے امام محمد باقر اور امام جعفر صادق تک پہنچتے پہنچتے مہینوں گزر جاتے جس پر وہ ان کی رد فرماتے،انہوں نے ایک اور حربہ استعمال کیا اور کہا امام نے تم سے تقیہ کیا ہے۔پھر انہوں نے تقیہ کو جزء دین گرداننے کے لئے خود امام سے ضرورت اور فضیلت تقیہ کے بارے میں احادیث جعل کیں تقیہ کی حقیقت معلوم ہونے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ غلات نے اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے تقیہ وضع کیا ہے آئمہ سے کوئی سروکار نہیں تھا۔

ہشام ابی شاکر کے غلاموں میں سے تھا اور ابی شاکر زندیق تھا-ہشام بن حکم مومن طاق جس نے اس فکر کی تشھیر کی انہی افراد نے تقیہ کو جعل کیا تقیہ یعنی جھوٹ ۔جب ایسی باتیں پھیلاتے تو اس کے برے نتائج نکلتے اور جب برے نتائج نکلتے تو یہ لوگ اپنی حرکتوں سے انکار کرتے تھے اور تقیہ کو ڈھال بناتے۔

انصار و مهاجرین کرام

0 comments
"حمد و ثناء اس ذات کے لئے لائق سزاوار ہے جسے ہمیں نبی کریم ص کی دعوت میں سبقت و حدت میں،خلوت و جلوت میں انیس مہاجر و مجاہد ایثار و قربان ہونے والوں سے نفرت و بیزار کرنے والوں میں شمار نہیں کیا۔جن کی شان میں یہ آیات ہیں:

وَمِنَ ٱلْأَعْرَ‌ابِ مَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ‌ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُ‌بَـٰتٍ عِندَ ٱللَّهِ وَصَلَوَ‌ٰتِ ٱلرَّ‌سُولِ ۚ أَلَآ إِنَّهَا قُرْ‌بَةٌ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ ٱللَّهُ فِى رَ‌حْمَتِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ‌ۭ رَّ‌حِيمٌ ﴿٩٩ توبہ﴾
ان ہی اعراب میں وہ بھی ہیں جو ا للہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے انفاق کو خدا کی قربت اور رسول کی دعائے رحمت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں اور بیشک یہ ان کے لئے سامانِ قربت ہے عنقریب خدا انہیں اپنی رحمت میں داخل کرلے گا کہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ہے
وَٱلسَّـٰبِقُونَ ٱلْأَوَّلُونَ مِنَ ٱلْمُهَـٰجِرِ‌ينَ وَٱلْأَنصَارِ‌ وَٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُم بِإِحْسَـٰنٍ رَّ‌ضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَ‌ضُوا۟ عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِ‌ى تَحْتَهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ‌ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۚ ذَ‌ٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴿ توبہ١٠٠﴾
اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا ہے ان سب سے خدا راضی ہوگیا ہے اور یہ سب خدا سے راضی ہیں اور خدا نے ان کے لئے وہ باغات مہیا کئے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَ‌ىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَ‌ٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَ‌ىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْ‌ءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُ‌وا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَ‌ٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ﴿ توبہ١١١﴾
بیشک اللہ نے صاحبانِ ایمان سے ان کے جان و مال کو جنّت کے عوض خریدلیا ہے کہ یہ لوگ راہ هخدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر خود بھی قتل ہوجاتے ہیں یہ وعدئہ برحق توریت ,انجیل اور قرآن ہر جگہ ذکر ہوا ہے اور خدا سے زیادہ اپنی عہد کا پورا کرنے والا کون ہوگا تو اب تم لوگ اپنی اس تجارت پر خوشیاں مناؤ جو تم نے خدا سے کی ہے کہ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَـٰجِرِ‌ينَ وَٱلْأَنصَارِ‌ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَ‌ةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِ‌يقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١١٧ توبہ﴾
بیشک خدا نے پیغمبر اور ان مہاجرین و انصار پر رحم کیا ہے جنہوں نے تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا ہے جب کہ ایک جماعت کے دلوں میں کجی پیدا ہورہی تھی پھر خدا نے ان کی توبہ کو قبول کرلیا کہ وہ ان پر بڑا ترس کھانے والا اور مہربانی کرنے والا ہے

 وَلَا يُنفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَ‌ةً وَلَا كَبِيرَ‌ةً وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ﴿١٢١توبہ ﴾
اور یہ کوئی چھوٹ یا بڑا خرچ راسِ خدا میں نہیں کرتے ہیں اور نہ کسی وادی کو طے کرتے ہیں مگر یہ کہ اسے بھی ان کے حق میں لکھ دیا جاتا ہے تاکہ خدا انہیں ان کے اعمال سے بہتر جزا عطا کرسکے

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿ سورہ حشر٨﴾ 
یہ مال ان مہاجر فقرائ کے لئے بھی ہے جنہیں ان کے گھروں اور اموال سے نکال باہر کردیا گیا ہے اور وہ صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خدا و رسول کی مدد کرنے والے ہیں کہ یہی لوگ دعوائے ایمان میں سچے

ابتدائے اسلما کے کٹھن دور میں انہی ذوات نے انتہائی فراخدلی اور حوصلے کے ساتھ نبی کریم کا ساتھ دیا۔یہی وہ ذوات تھیں جو بغیر کسی لالچ اپنی جان دینے کیلے فراخدلی سے آگے بڑھیں اور درخت کے نیچے رسول اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی جس پر اللہ تبارک وتعالی نے ان کی شان میں یہ آیت نازل کی۔

جاری ہوں گی اور جو روگردانی کرے گا وہ اسے دردناک عذاب کی سزا دے گا
لَّقَدْ رَ‌ضِىَ ٱللَّهُ عَنِ ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ ٱلشَّجَرَ‌ةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ ٱلسَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَـٰبَهُمْ فَتْحًا قَرِ‌يبًا ﴿١٨فتح﴾
یقینا خدا صاحبانِ ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے پھر اس نے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو ان کے دلوں میں تھا تو ان پر سکون نازل کردیا اور انہیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی۔

رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ ۔(سورہبینہ آیت 8)
 اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔

"
(کتاب اٹھو قرآن کا دفاع کرو 21 و 22 آغا علی شرف الدین علی آبادی)

اھل بیت ع

0 comments
"اس کے بعد نبی کریم ص ندائے حق کو لبیک کہتے ہوئے امت کو رخصت کرتے ہوئے رب جلیل کی طرف یکسو ہوگئے۔حمد و ستائش اس ذات بابرکت کیلے ہیں جس نے ہمیں ایک ایسی اہل بیت اطہارع سے وابستہ رکھا جو قرآن عظیم اور نبی کریم ص کی سیرت طیبہ کی پیکر مجسم اور نمونہ کامل ہے۔انہوں نے آپ کے بعد تمام نشیب و فراز اور تلخ اور ناگوار حالات میں اپنی ذاتیات انانیت سے گزر کر اسلام و مسلمین کی عزت کرامت اور وحدت کی پاسداری کی اور اپنے طرف سے اسلام اور مسلمین کو کوئی آسیب لگنے سے پرہیز کیا اور فرمایا(واللہ لاسآلھن فقرہ نھج البلاغہ) حمد و ستائش اس ذات کیلے مخصوص ہے جس نے ہمیں اس اہل بیت سے دور رکھا جو تمام صفات  خالقیت،رازقیت،احیاء اماتہ کل کائنات کا مظہر پیش کر کے ہمیشہ اپنے انانیت کو مقدم  رکھا ہے۔"

(کتاب اٹھو قرآن کا دفاع کرو 20 ، آغا علی شرف الدین علی آبادی)

خلفائے راشدین

0 comments
"ایک انصاف پسند مسلمان کو اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا چاہیے کہ جو ہستیاں اس منصب پر یک بعد دیگرے آئیں وہ انہیں افراد میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کے شروع ہوتے ہی یک بعد دیگر ایمان بہ نبوت و رسالت محمد پر پیعت کی،جنہوں نے نبی کریم ص کے فرمان پر اللہ کی راہ میں خانہ و آشیانہ و عزیز و اقارب اور والدین و  اولاد چھوڑ کر دیار اجنبی میں بے سر و سامانی کے عالم میں ہجرت کی۔اللہ تعالی نے کثیر بار اپنی کتاب میں ان کی مدح سرائی کی ہے جنہون نے اپنے خانہ و آشیانہ کو اسلام کی خاطر خیر باد کہا ۔
سلام ہو ان انصار پر جنہوں نے مہاجرین کی معاونت و ہمکاری میں بے نظیر مثالیں قائم کیں۔
رضی اللہ عنھم و رضو عنہ (سورہ بینہ آیت 8)

اگر نبی کسی سفر پر جاتے تو انہیں کو اپنی جگہ پر معین فرماتے اور بعد میں انہیں میں سے یکے بعد دیگرے اس مقام پر فائز ہوتے۔

ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنے میں کوئی ججھک نہیں ہونی چاہیے کہ  پیغمبر اسلام کے بعد خلفائے راشدین کا دور خلافت ہمارے لئے 1400 سال گزرنے کے بعد اب بھی عدالت و انصاف اور صداقت کے حوالے سے ستاروں کی مانند روشن و تابناک اور بہترین و منفرد دور حکومت ہے،چنانچہ فلیسوف اسلام  و شرق شہید محمد باقر الصدر نے فرمایا:

"اس 30 سالہ حکومت اسلامی کے  بے مثال و بے نظیر ہونے کے بارے میں ہمیں اعتراف کرنے میں کوئی جھجک یا ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔"
(شہید محمد باقر الصدر،فدک فی التاریخ)

مفکر بزرگ مرحوم مہدی شمس الدین رئیس مجلس اعلی شیعی لبنان اسلامی سالانہ برسی کے موقع پر دئے گئے خطاب میں جسے مجلہ المنطق صادر از لبنان نے شائع کیا ہے فرماتے ہیں کہ:

"  بنی امیہ و بنی عباس  سلاطین صفوی ،عثمانی اور آل بویہ کی بہ نسبت خلفائے راشدین کے دور حکومت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔خلیفہ دوئم کی فارس پر لشکر کشی کے ثمرات میں سے ہے کہ اس وقت ہم یہاں پر (ایران) جمع ہیں۔"

لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ذوات کا انتخاب کسی اصول و ضوابط کے تحت انجام نہیں پایا چنانچہ خلیفہ دوم کا تصریح ہے امت میں قرآن و سنت و سیرت رسول کے ہوتے ہوئے جانشین رسول کے انتخاب میں بے ضابطگیوں کا پایا جانا ایک حسرت ہے اور یہ حسرت ہمیشہ رہے گی۔

لہذا ہم یہاں واشگاف الفاظ میں یہ واضح کرتے ہیں کہ ان خلفاء سے دشمنی علی و اہل بیت ع سے محبت کا اظہار نہیں بلکہ ان سے دشمنی اسلام و قرآن و محمد اور اہل بیت سے دشمنی ہے۔اس کی واضح مثال یہ ہے کہ جو لوگ شیخین کو عداوت و نفرت  اور سب و شتم کا نشانہ بناتے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے تاریخ اسلام میں کفر و الحاد اور شرک کو ہی فروغ دیا ہے۔یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انہیں اسلام و قرآن سے دشمنی ہے لیکن ان کا یہ کہنا کہ:

"اللہ اور اس کے رسول کو پتہ نہیں چلا کہ ان کے دلوں میں کفر و بت پرستی اور ہوس اقتدار چھپا تھا" اس سے بڑی جسارت اور اہانت اللہ اور اس کے رسول کی شان میں نہیں ہوسکتی۔کیا ایسے لوگ اللہ و رسول سے زیادہ دور اندیش بنتے ہیں لیکن ان کی اس دور اندیشی کا دعوی نبی کریم ص کی شان میں تطبیق نہیں ہوتا کیونکہ آپ ص نے بار بار انہیں عزت و افتخار بخشا ہے۔

کیا یہ افراد خلفائے مسلمین حضرت ابوبکر رض،عمر رض،عثمان رض اور علی ع کے دور خلافت جیسا کوئی نمونہ لا سکتے ہیں تاکہ ہم اسے تمام عالمین اسلام کے سامنے پیش کر سکیں۔؟؟؟"

(کتاب اٹھو قرآن کا دفاع کرو 23،24صفحات ، آغا علی شرف الدین علی آبادی)

حرم میں عزاداری

0 comments
مجالس عزاداری
-----------------------------
"مجالس عزاداری حرمین شریفین میں قیام کے دوران انجام دینے والے اعمال میں سے ایک  مجلس عزاداری ہے۔جو بیس دن مسلسل رہتی ہے جس کے لئے مختلف نام سے یہیں سے چندہ وصول کرتے ہیں ان مجالس میں سوائے سینہ کوبی کے باقی تمام مراسم عزاداری انجام پاتے ہیں۔

پہلے مرثیہ خوانی بعد میں مصائب گریہ و زاری ،لہذا یہاں بھی وہی خطیب کامیاب رہتے ہیں جو مصائب بیان کرنے میں جھوٹ سچ میں فرق رکھنے میں آزاد و خود مختار ہوں۔یہاں مجالس منعقد کرنے کے بنیادی مقاصد دو ہی ہیں ایک کاروان والوں کے پیسہ کمانے کا ذریعہ ہیں۔

دوسرا حجاج کے اذہان کو اسی غلاظت میں محو رکھنا کہ علی کی الوہیت کے علاوہ اور کسی کی عظمت کے بارے میں بات نہ سننا۔

تیسری مقصود مسجد الحرام اور عامۃ المسلمین سے مل ملاقات سے روکنا ہے!!!
ورنہ اس کی قرآن اور سنت نبی کریم ص اور آئمہ طاہرین کی سیرت کےحوالے سے کوئی سند نہیں ملتی،یہ مراسم اور یہ انداز بیان سب آل بویہ اور نوابان لکھنوی کی اختراع ہے۔"

(215معجم حج و حجاج)

رجب کے کونڈے اور امام ضامن

0 comments

اسلام کا کلمه شهادتین

0 comments

حضرت اویس قرنی

0 comments

شیگر والوں کی ناراضگی

0 comments

پندره شعبان,شب برات اور عریضے ڈالنا

0 comments
اس مہینے میں بہت سی مذہبی مناسبات و واقعات موجود ہیں لیکن ان میں سے ایک اہم دن اس مہینے کی پندرھویں تاریخ یعنی نیمہ شعبان ہے۔اس دن زیارت امام حسین کی خاص تاکید ہے،نیمہ شعبان میں قبر امام حسین پر اپنے آپ کو پہنچانے،زیارت کرنے اور دعائیں کرنے کے بارے میں کثیر روایات موجود ہیں ۔جب کہ یہ امام زمان کی ولادت باسعادت کا دن بھی ہے۔اس دن کا بذات خود اہمیت و فضیلت کا حامل ہونا اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس دن کو شب قدر گرداننا آیات  قرآنی سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ سورہ قدر میں قرآن کے نزول سے متعلق موجود آیات  کی رو سے شب قدر رمضان میں ہے،لہذا 15 شعبان شب قدر نہیں ہو سکتی۔البتہ یہ ایک قیمتی شب ضرور ہے ،جس میں کثرت دعا،زیارت امام حسین ع اور یاد امام زمان ع کی تاکید کی گئی ہے۔لیکن صد افسوس کہ ہم اس کی بجائے خرافات،فرسودہ اور غیر عقلی و غیر شرعی چیزوں میں خود کو مصروف رکھتے ہیں۔مثلا اس کو شب برآت کہنا یا عریضہ ڈالنا،یہ سب آئمہ کو نہ پہچاننے اور ان کو اپنے عقل و منطق سے دور دکھانے اور مذہب کو فرسودہ دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ہمارے یہاں جو اس کو  شب برات کہتے ہیں اس کی ہمیں کوئی سند نہیں ملتی ہے اور یہ جو عریضہ دریا میں ڈالنے کا رواج ہے اس بارے میں بھی نہ کوئی سند ہے،نہ روایات میں ہے اور نہ ہی عقلا اس کی کوئی منطق ہے۔ 

مجلہ اعتقاد جلد اول شمارہ سوم
، آغا علی شرف الدین بلتستانی

نوٹ:یہ آغا صاحب کا ایک پرانا مجلہ ھے.

ماه رمضان,روزه اور شب قدر

0 comments
ماه رمضان،روزہ اور شب قدر

شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْ‌ءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْ‌قَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ‌ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌ ۗ يُرِ‌يدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ‌ وَلَا يُرِ‌يدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ‌ وَلِتُكْمِلُوا۟ ٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُ‌وا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ﴿١٨٥ بقرۃ﴾

ترجمہ:
ماه رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں لہٰذا جو شخص اس مہینہ میں حاضر رہے اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے اور جو مریض یا مسافر ہو وہ اتنے ہی دن دوسرے زمانہ میں رکھے. خدا تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا. اور اتنے ہی دن کا حکم اس لئے ہے کہ تم عدد پورے کردو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اقرار کرو اور شاید تم اس طرح اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ.

رمضان تقویم اسلامہ کے قمری سال کا نواں مہینہ ہے۔علمائے لغت فرماتے ہیں رمضان مادہ رمضی سے لیا گیا ہے۔رمض گرم پتھر کو کہتے ہین جہاں گرمی سے پاؤں جل جائیں۔بعض نے رمض کو مضمار کے معنوں میں لیا ہے کیونکہ مہینوں کی اسم گزاری کے موقع پر اس مہینہ میں سخت گرمی تھی۔اسی مناسبت سے اس کا نام رمضان رکھا گیا تھا۔

بعض علمائ نے رمضان کو اسمائے حسنہ میں سے قرار دیا ہے۔لہذا آئمہ فرماتے ہین یہ نہ کہو کہ رمضان آیا اور رمضان گیا۔بلکہ لفظ ماہ ساتھ لگا کر کہا کرو کہ ماہ رمضان  آیا۔قمری مہینوں میں تنہا رمضان وہ مہینہ ہے جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔اس کو شہر اللہ کہا گیا ہے۔رمضان کی شرافت و فضیلت کیلے یہی کافی ہے کہ اسے اللہ تعالی نے  اپنا مہینہ قرار دیا۔

روزہ وہ عبادت ہے جو تمام ادیان میں مروج رہا ہے۔یہ ایک شعائر ہے جسے تمام گزشتہ اصحاب دیانت نے اپنایا ہے۔حتی غیر آسمانی ادیان نے بھی اپنایا حتی جیسا کہ قرآن کریم کی آیت وجوب صوم میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کما کتب علی الذین من قبلکم یہاں پر ادیان گزشتہ میں روزہ کی شکل و صورت کو بیان کرنے کی ضرورت محوس نہیں کرتے بلکہ یہاں اسلام میں روزہ کی قدر و قیمت اور اہمیت کو بیان کریں گے۔اللہ نے قرآن کو ماہ رمضان میں نازل کیا لہذا اس مہینے تلاوت قرآن کی تاکید کی گئی ہے۔نبی کریم زیادہ تر اس مہینہ میں قرآن کی تلاوت فرماتے تھے۔ماہ رمضان کو دین میں وہ فضیلت و قدسیت حاصل ہے جو دیگر سال کے مہینوں کو حاصل نہیں ہے کیونکہ اس مہینہ میں قرآن نازل ہوا ہے۔ماہ رمضان کا اولین عشرہ رحمت اوسط مغفرت اور اس کا آخر جہنم سے نجات ہے ۔روزہ واجب عبادت ہے نبی ص کا فرمان ہے روزہ سپر ہے کہتے ہیں روزہ دار کے منہ کو اللہ پسند کرتا ہے اللہ فرماتا ہے اس سے بوئے مشک آتی ہے۔حالت سفر میں یا بوڑھے،مریض پر روزہ معاف ہے لیکن اگر روزہ رکھیں تو فرماتے ہیں ان کیلے بہتر ہے۔

أَيَّامًا مَّعْدُودَ‌ٰتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌ ۚ وَعَلَى ٱلَّذِينَ يُطِيقُونَهُۥ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرً‌ۭا فَهُوَ خَيْرٌ‌ۭ لَّهُۥ ۚ وَأَن تَصُومُوا۟ خَيْرٌ‌ۭ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿١٨٤بقرہ﴾

ترجمہ:
یہ روزے صرف چند دن کے ہیں لیکن اس کے بعد بھی کوئی شخص مریض ہے یا سفر میں ہے تو اتنے ہی دن دوسرے زمانے میں رکھ لے گا اور جو لوگ صرف شدت اور مشقت کی بنائ پر روزے نہیں رکھ سکتے ہیں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں اور اگراپنی طرف سے زیادہ نیکی کردیں تو اور بہتر ہے— لیکن روزہ رکھنا بہرحال تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم صاحبانِ علم و خبر ہو

صوم بہت سے جرائم خلاف شرع مرتکبات کا کفارہ یا فدیہ ہے۔تعجب کی بات ہے کہ روزہ کہیں کسی گناہ کے ارتکاب کا کبھی مال کے بدلے ہے اور کبھی روزہ کے بدلے مال ہے۔

صوم  یکے از ارکان اسلام ہے۔یہ ایک عبادت بدنی ہے جو گزشتہ ادیان میں بھی اللہ کی اطاعت میں تھی۔لیکن اس کی شکل و صورت کم و کیف ہمارے صوم سے مختلف تھی۔روزہ انسان مسلمان کیلے ضبط نفس کی ایک مشق ہے۔جہاں وہ حلال کو بھی اپنے لئے حرام کرتا ہے۔لہذا احادیث میں آیا ہے۔امرالمومنین سے نقل ہے ہر چیز کی ایک زکوۃ اور زکوۃ بدن صیامہے،وجوب صیام آزمائش و امتحان ہے کہ مخلوق اس کیلے کس حد تک مخلص ہے۔گرچہ تمام اوامر و نواھی الہی خلائق کیلے امتحان ہیں کہ وہ کس حد تک اس کے حکم کے سامنے مخلص ہیں ،ان میں سے صوم سب سے زیادہ انسان کیلے مشقت آور ہے کیونکہ اس میں غلبہ نفس کا جہاد ہے کہ کس حد تک نفس انسان پر غالب آسکتا ہے۔

اسرار صوم:

علماء نے صوم کی چند اقسام بیان کی ہیں:
1-صوم شہوات کھانے پینے کی چیزوں سے باز رہنا۔
2-صوم از عصیاں گناہوں سے اعضاء و جوارح کو بچانا۔
3-صوم خاص دل کو معاصی اللہ سے بچانا ہے یعنی آنکھزبان،کان ،ہاتھ،نفس کو برائی سے بچانا ہے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
شکم کو لقمات حلال سے بھی افطار تک بچانا ہے اور افطار کے پر زیادہ پیٹ نہ بھرجائے کیونکہ اللہ بھرے ہوا پیٹ کو پسند نہیں کرتا ،اگر انسان روزہ دار افطار کے موقع پر اپنی بھوک کا تدارک کرے تاکہ اپنی پہلی حالت میں آجائے تو یہ صوم کے منافی ہے۔کیونکہ صوم سے مراد و مقصود شہوات سے اپنے آپ کو بچانا ہے تاکہ تقوی کیلے آ

مهجوریت قرآن

0 comments
وَقَالَ ٱلرَّ‌سُولُ يَـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَـٰذَا ٱلْقُرْ‌ءَانَ مَهْجُورً‌ۭا 
( سورة الفرقان ٣٠)

اور اس دن ر سول کہیں گے: اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو واقعی ترک کر دیا تھا۔

نمی دانم ! اس گروہ کے بارے میں دل سوزی اور ان کی ہدایت کے بارے میں حرصِ شفقت اور ان کی نافرمانی اور بے ادبی پر خدا سے عفو و درگذر کی درخواست کرنے والے نبی کے دل سے اس دن رحمت کہاں گئی ہوگی۔"
جب وہ اس کی بارگاہ میں شکایت کریں گے کہ میری قوم نے اس نور و بصیرت کے بدلے میں ظلمت ،رحمتِ شفا کے بدلے میں ظلمت و مصیبت کو اپنایا اور ماء معین کے بدلے میں پیاس اور سرگردانی کا انتخاب کیا۔اسی طرح ہدایت کے بدلے میں ضلالت و گمراہی کو اپنایا۔پیغمبر کی یہ شکایت جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ کافرین و ملحدین کے خلاف شکایت نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپ کی قوم نہیں اور نہ منافقین کی شکایت ہوگی کیونکہ سورۃ منافقوں کے تحت جو آپ کی رسالت کو نہیں مانتے وہ بھی آپ کی قوم نہیں ۔یہ دونوں گروہ تو ہمیشہ آپ اور آپ ص پر نازل ہونے والی کتاب کو صفحہ ہستی اور اذہان انسانی سے مٹانے پر تلے رہے اور اس کے لئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔لہذا یہ واضح ہوا کہ آپ کی شکایت امتِ اسلامی سے متعلق ہوگی جو آپ کی نبوت و رسالت کے معتقد ہونے کے دعویدار تھے اور اس کتاب کو خدا کی کتاب ہونے اور اس کی عظمت و بزرگی اور بابرکت ہونے کے معتقد تھے۔جو ایک طرف تو اس کو بوسہ دینے والوں میں تھے لیکن دوسری طرف اس کے دستور کو ٹھکرانے والوں میں بھی شامل تھے۔اس کتاب کو دستور حیات مانتے تھے لیکن اپنی عملی زندگی میں میکاؤلی کی سیاست،مارکس کی دینی دشمنی،ہٹلر کی انسان دشمنی اور مغربیت کی اسلام دشمنی میں لکھی گئی کتب و مجلات کو دقت سے پڑھتے اور ان کے پیرانوں پر حاشیہ لگاتے تھے۔یہ شکایت خصوصا امت کے اس گروہ کے خلاف بھی ہوگی جنہیں علمائے اسلام کہا جاتا تھا،جو خود کو محافظ دین سمجھتے تھے اور اپنے علاقے اور دور میں خود کو آپ ص کا خلیفہ اور جانشین سمجھتے۔انہیں جب تقریر و بیان کا موقع ملتا توخود ساختہ،جھوٹے اور من گھڑت قصے کہانیوں،خوابوں اور علماء و مجتہدین کے مذاحیہ جملات سے محفل کو رونق بخشتے تھے۔اگر کسی وقت مشکل و پیچیدہ مسائل پیش آتے تو اس کی سند کیلے تاریخ کے نوابغ شعرائے کرام،دبیر و انیس،غالب و سعدی،حافظ و اقبال کے شعر پیش کرتے لیکن سہوا(بھول کر) بھی آیاتِقرآنی سے استدلال و سند پیش نہیں کرتے۔وہ علماء ہونگے کہ جنہیں رب ِغفور و کریم نے یہ توفیق عنایت کی کہ وسیع و عریض،بلند و بالا مدرسے کی عمارتیں کھڑی کریں اور کثیر تعداد میں ملک کے گوشہ و کنار سے معارف علوم اسلامی کے تشنہ،بزم صلحاء و عرفاء میں زندگی گزارنے کا شغف رکھنے والے جب ان کی شاگردی کا شرف حاصل کر کے ان کے سامنے تلمذ ِزانو ہوئے اور اپنے دل اور پورے وجود کو سماعت بنا کر ان (استاد) سے معارف اسلام سننے کیلے اپنے ذہن و قلب کے بٹن کو آن کیا اور شوق رغبت و انہماک سے استادِمحترم کی طرف متوجہ ہوئے تو استاد گرامی نے ابنِمالک،سیبویہ،خلیل اور ابنِحاجب کے نظام ِتکلم کو سکھایا اور ادب میں متبنیٰ اور امراء القیس کے اشعار سکھائے اور فکر کی پالش کیلے ارسطو،فارابی اور تفتادانی کی منطق سکھائی،دور حاضر کے جدید معاشرے میں انسانی زندگی کو درپیش مسائل کے حل کیلے چار پانچ سو صدیوں پہلے لکھے گئے فقہ اور اصولِفقہ سکھائے۔اسی طرح جدید دور کے تقاضون کو پورا کرنے کیلے ان مدارس سے معارف اسلامی سے خالی ذہن،فارغ التحصیل ہونے والوں کے حصول روزگار کیلے انگریزی زبان اور کمپیوتر کے کورس وغیرہ کا بھی اہتمام کیا۔غرض سب کچھ کیا لیکن جس کو نصاب میں شامل نہیں کیا وہ تنہا قرآن کریم تھا۔یقینا پیغمبر اکرم ص کے دل کو ناراض و شکستہ کرنے،دکھ و درد اور غم و غصہ سے بھرنے والے اور مہجوریتِ قرآن کی مصداقِ جلی امت کی یہی مقتدر ہستیاں ہونگی۔البتہ امت کے دیگر گروہ جو خدا کی وحدانیت،پیغمبر کی ختم نبوت اور قرآن کریم کی جاویدیت اور کتابِ ہدایت ہونے کے معتقد ہیں وہ افراد بھی مختلف زاویوں سے اس شکایت میں شامل ہونگے۔

قرآن سے پوچھو،35 
https://facebook.com/AliSharfuddinPK

آغا علی شرف الدین بلتستانی

DEEN FEHMI GROUP:
https://facebook.com/groups/226251360864398

سید فضل الله

0 comments
" حضرت آیت اللہ علامہ محمد حسین فضل اللہ کی شخصیت تحریک اسلامی سے وابستہ افراد و شخصیات کے لیے محتاج تعارف نہیں۔خصوصا عصر حاضر میں لبنان کی سیاست میں آپ کے فعال کردار کی بنا پر آپ عالمی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔
یہ مختصر مگر شاہکار تحریر جو اپنے اندر بے پناہ مفاہیم کو سمیٹے ہوئے ہے آپ کے اس خطاب پر مشتمل ہے جو آپ نے تہران میں منعقد ہونے والی "عالمی اہل بیت ع کانفرنس بمطابق 21،22 مئی 1990 ع میں فرمایا۔
دارالثقافہ الاسلامیہ پاکستان نے اس مقالہ کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر اردو دان افراد کیلے اسے زیور طبع سے آراستہ کیا ہے۔امید ہے یہ علمی کاوش اتحاد اسلامی کے سلسلے میں ایک عمدہ کوشش ثابت ہوگی۔ "     

آغا  علی شرف الدین بلتستانی

فرقه پرستی

0 comments
"مسلمان
 ہونے کے بعد آپ اپنے آپ کو کسی بھی ہستی سے موسوم نہیں کر سکتے حتی 
محمدی بھی نہیں کہ سکتے ہیں چہ جائے کہ آپ اپنے آپ کو 
علوی،باقری،جعفری،حنفی،حنبلی،مالکی کہیں،کیونکہ یہ اسماء تفرقہ کیساتھ ثقل 
اکبر قرآن سے لاتعلق ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔ہم اپنے آپ کو محمدی نہیں کہتے
 بلکہ "مسلمان" کہتے ہیں اور اسی کو فخر سمجھتے ہیں کیونکہ محمد ص بندے اور
 اللہ کے درمیان رابط ہیں۔بندہ اور اللہ کے درمیان واسطہ نبی ہوتا ہے بنی 
اس دنیا سے گزرنے والے تھے اور گزر گئے،چنانچہ رحلت نبی ص کے موقع پر حضرت 
ابوبکر نے کہا کوئی محمد ص کی پرستش کرنے والے ہوں  تو سن لیں محمد ص گزر 
گئے ہیں۔اگر ربِ محمد ص کی پرستش کرتے ہو تو رب  محمد ص زندہ ہے۔
غرض جو بھی واسطہ میں رک جائے گا وہ مشرک ہوگا، لہذا ہمیں خود کو مسلمان 
کہنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اس ھکم کے باوجود آج بعض مسلمان خود کو 
بریلوی،دیوبندی،صوفی،جعفری،شیکی اور مشہدی کہنے پر مصر ہیں جب کہ اللہ کا 
حکم ہے اسلام پر رہو اور مرتے وقت بھی مسلمان مرنا۔"

مدخل الدراسات تاریخ الاسلامی، آغا شرف الدین بلتستانی،صفحہ 49

www.sibghtulislam.com
https://www.facebook.com/AliSharfuddinPK

بی بی سکینه کی عمر پر تحقیق

0 comments
  • " ایام سوگواری امام حسین ع میں طول و عرض مملکت میں عمامہ سیاہ پوش،عبا پوش ذاکر و خطیب،مرثیہ خواں،نوھہ خوان کہتے ہیں،سکینہ نوعمر کہتی ہوئی روتی ہے بابا مجھے اپنی گود میں لے لیں،بابا کہاں ہیں مجھے اپنی گود میں اٹھا لیں۔یہ کہ کر روتی ہوئی شام کے زندان میں خواب سے اٹھتی ہے بابا کو آواز دیتی ہے ،غش کھاتی ہے اور اس کی روح بدن سے نکل جاتی ہے۔یہ ذاکر و خطیب اور مرثیہ خوان و نوحہ خوان کے پسندیدہ مصائب ہیں۔

  • اس کے برعکس محقق نامدار سید عبدالرزاق مقرم،سید جواد شبر صاحب ادب لطف کہتے ہیں؛سکینہ میدان کربلا میں ازدواج شدہ تھی یا سن ازدواج میں تھی آپ عابدہ تھیں اور طویل عرصہ زندہ رہیں۔کیا سن ازدواج میں جانے والی لڑکیاں باپ کی گود میں جاتی ہیں۔؟

  • عبدالرزاق مقرم اور خبیب بارع جواد شبر کی تھقیق نامدار علمائے پاکستان و ہند اسے قبول نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے اگر یہ صحیح بھی ہو تو بھی ہم نہیں مانیں گے اس کی دلیل میں قبلہ مرحوم ذیشان حیدر جوادی فرماتے تھے نہ یہ عقائد میں ہے نہ احکام خمسہ میں،لہذا چونکہ ہم نے انہی میں جینا ہے اس لئے اس غلط تاریخ کو پڑھنے سے ہمارے مذھب پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا،خلاف واقع جھوٹ پر کوئی حرج نہیں،غلط تاریخ گوئی پر احکام تکلیفیہ لاگو نہیں ہوتے۔بلکہ دروغ گوئی مجالس امام حسین ع میں بےحرج ناجائز ہے چونکہ رلانے میں کام آتی ہے تو مستحسن بھی ہے۔ "

  • علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی
  • صفحہ 75،مدخل الدراسات تاریخ اسلامی

دعوی اجتهاد کرنے والے

0 comments
"اگر کسی انسان کے پاس یہ تمیز نہیں تو وہ خود کو دانشور علامہ الدھر اور آج کل کے اصطلاحات کے مطابق "اسکالر(Scholar )" کہے وہ جہالت بمعنی ضد عقل جاہل ہونگے۔دنیا میں دین اسلام اور مشرکین کے درمیان فرق یہی ہے مشرکین ملحدین کتنا ہی علوم دنیا کے استاد کیوں نہ ہوں وہ مندر،بت خانہ،گرجے میں جا کر انتہائی خاضعانہ،خاشعانہ،متذلانہ اپنے سے کئی درجات پست مخلوق" لا یسمع ولا یبصر ولا یملک نفع و ضرر" کے سامنے اپنے عرائض کو پیش کرتے ہیں۔لاکھوں انسانوں کی قیادت کے باوجود "گھوڑے" کو پکڑ کر ناظرین کو سمجھاتے ہیں کہ میں اس کا غلام ہوں۔اسی طرح کوئی دعوی اجتہاد کے بعد بلند "جھنڈا" اٹھا کر کہتا ہے ہم اس جھنڈے سے بہت کچھ لے سکتے ہیں،کوئی خالی "تابوت" اٹھاتے ہیں یہ سب مظاہر نفس پرستی خود اپنی ذات کے سامنے خاضع ہیں۔جب کہ انسانوں سے ندائے قرآنی یہ ہے کہ ان "احمقانہ حرکات" کو چھوڑ دیں۔"

علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی
صفحہ 62،مدخل الدراسات تاریخ اسلامی

تحقیق اور گالی گلوچ

0 comments
"عصر حاضر کے مورخ کبیر تجزیہ و تحلیل علامہ عاملی نے  "تاریخ صحیح" کے نام سے کئی جلدیں لکھی ہیں ان میں انہوں نے "ابوبکر کی سبقت ایمانی"،"سبقت ہجرت غار" اور "سفر ہجرت" کو جان فشانی کرتے ہوئے رد کرنے کی کوشش کی ہے ،جب کہ فرقہ کیسانیہ قداحیہ نے "حضرت زہراء س کے نام سے مسلمانوں میں تفرقہ" کے جو شعلے بلند کئے ہیں انہیں سراہا ہے۔

مرحوم " آیت اللہ فضل اللہ "نے احتیاطی کلمات میں خطاب کیا تھا کہ ان بحثوں کو عوامی اجتماع مین پیش کرنے کے بجائے درسگاہوں میں تحقیقاتی مجالس تک ہی محدود  رکھنا چاہیے۔ان کے اس  بیان کے خلاف انہوں نے "مآساۃ الزھراء"لکھ کر فضل اللہ کو دشمن زہراء گردانا۔نیز عاملی کی تائید میں علم فقہ و اصول کے موجودہ نابغہ کا دعوی رکھنے والوں نے اپنے مقلد بنانے کی خاطر اس کی مخالفت میں اپنی قیام گاہ سے پابرہنہ جلوس کا اہتمام کیا،لہذا جہاں دعوی سے بے بہرہ ہوتا ہے کوئی دلیل نہیں ہوتی تو وہاں اپنے مدعا کو جلسہ و جلوس ،گالم گلوچ سے ہی ثابت کیا جاتا ہے۔"

علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی
صفحہ 77،مدخل الدراسات تاریخ اسلامی

علی شرف الدین موسوی کون

0 comments
"مفتی اعظم محمد اسحاق صاحب محدث فیصل آبادی صاحب کے دوست بہت بڑے محقق جو فرقہ پرستی سے بالکل ہی آزاد ہو چکے۔جن کے متعلق مفتی اعظم محمد اسحاق صاحب کا گمان یہ تھا کہ اگر مجھ سے یعنی مفتی اسحاق صاحب سے بھی  زیادہ کھل کے کوئی شخص ہر بات بیان کرنے کی جرت رکھتا ہے تو وہ اکیلا آغا سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی ہیں۔

آغا سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی  کے متعلق شاید یہ بھی مفتی اعظم محمد اسحاق صاحب ہی نے بتایا تھا کہ یہ دنیا کا واحد ایسا عالم ہے کہ جس کے اندر کسی قسم کا تعصب اور خوف نہیں ہے۔

مفتی اسحاق صاحب سے میں نے پوچھا تھا کہ مفتی صاحب یہ آپ کہ رہے ہیں؟؟آپ سے زیادہ بھی کوئی دلیر اور  تعصب سے  پاک عالم ہو سکتا ہے؟؟ مفتی صاحب نے فرمایا تھا کہ ہاں یہ(علی شرف الدین موسوی بلتستانی) مجھ سے بھی زیادہ بے تعصب اور مجھ سے بھی زیادہ دلیر ی سے ہر بات جس کو یہ حق سمجھتا ہے بیان کرتا ہے۔اور مزید مفتی صاحب نے کچھ اس طرح فرمایا تھا کہ جتنی گالیاں جتنی لعنتیں میرے مسلک( اہل حدیث) والے میری حق پرستی اور بے تعصبی کی وجہ سے دیتے ہیں اآغا سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی کو اس سے کہیں زیادہ گالیاں اور لعنتیں اور دھمکیاں ملتی ہیں۔

حج پر مفتی اعظم محمد اسحاق صاحب کی ملاقات آغا سید علی شرف الدین موسوی سے ہوئی تھی۔"

  (بشکریہ سید علی الاحسن،مفتی اسحاق رحمہ اللہ  کے شاگرد اور ساتھی)

https://www.facebook.com/syed.a.ahsan.142?fref=ts

مولوی اسحاق اور آغا شرف الدین

0 comments
مولوی اسحاق صاحب کی زبانی علامہ علی شرف الدین کا تعارف
---------------------------------------------------------------------------
مشہور اسلامی اسکالر و اتحاد مسلمین کے داعی مولوی اسحاق مرحوم نے علی شرف الدین سے اپنی ملاقات کو یوٹیوب ویڈیو میں یوں بیان کیا:
"یہ مسجد حرام سے جس عالم سے ملاقات ہوئی ، جو دس سال سے چھپا ہوا ہے،اور شیعہ لوگوں نے اس کے سر کا انعام مقرر کیا ،اتنا انعام دیں گے جو اس کا سر کاٹیں گے،علی شرف الدین موسوی ان کا نام ہے،وہ بے چارے حق کہتے ہیں اوروہ(لوگ) ان کے دشمن ہو گئے،انہوں نے یہی کہا کہ صحابہ کرام کے جو ظلم تم بیان کرتے ہو نا،انہوں نے حضرت فاطمہ کے ساتھ یہ کیا،بہت عمدہ بات ہے علم کی،کہ پہلے تو سند صحیح سے ثابت کرو،کوئی صحیھ روایت جس کے راوی ُپختہ ہو،اس سے ثابت کرو کہ یہ ظلم کئے ہیں،دوسرا اگر بالفرض اس نے کہا،کہ اگر ثابت بھی ہوں تو آپ حکم شرعی بیان کرو،کہ وہ جرم شریعت میں کس درجے کا ہے؟؟کافر ہو گئے ہیں؟؟یا صرف ظالم؟؟اگر ظالم ہیں تو گنہگار ہی ہیں،گناہ گار پر لعنت کیوں کرتے ہو؟؟ان کے معافی کی دعا کرو،یہ دو نکتے بڑے کئے،پہلے یہ ظلم صحیح سند سے ثابت کرو،کوئی صحیح سند نہیں ملے گی، خود ہی جھوٹے ہیں۔اور اگر ثابت بھی ہوں ،تو گناہ ہی بنتا ہے،کفر تو نہیں بنتا،کیوں تم ان کو اتنا برا بھلا کہتے ہو۔یہ مسجد حرام میں ملاقات ہوئی،علی نے ملایا،بہت نیک آدمی ہیں،مگر چھپا ہوا ہے،نہ اس کی کتابیں چھپنے دیتے ہیں،کراچی میں بے چارہ ایک مکان میں چھپا ہوا ہے۔قتل کا تین لاکھ انعام مقرر ہے کہ جو اس کا سر کاٹ کے لائے ،کیا کریں بیٹا ، حق بات کہنے نہیں دیتے ، سب گروہوں کا یہی حال ہے۔۔ ۔"

اثنا عشری شیعه کا ایک فرقه شیخیه

0 comments
"شیخیہ اثنا عشری(12 اماموں والے شیعوں) کا وہ فرقہ ہے جو بارہویں صدی ہجری میں وجود میں آیا ہے۔ان کے بانی شیخ احمد احسائی ہیں،اس کے بعد سید کاظم رشتی ہیں انہیں شیخیہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ان کے بانی کے نام سے موسوم ہیں۔شیخیہ نظریہ کے حامل تناسخ اور حلول کے قائل ہیں اور شیخین کے سخت مخالف ہیں،چنانچہ انہوں نے زیارت جامعہ کی شرح میں اسے بیان کیا ہے۔

آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی سابق رئیس جمہوریہ ایران اسلامی اپنی کتاب امیر کبیر میں لکھتے ہیں معلوم نہیں یہ شخص کہاں سے تعلق رکھتا ہے،یہ شخص اچانک حوزہ علمیہ نجف میں نمودار ہوا اور پھر ایران آکر بادشاہ قاچاریہ سے ملا اور پھر اچانک منظر شہود سے غائب ہوا۔اس نے زیارت جامعہ پر لکھی گئی شرح میں خلفائے مسلمین کے شان میں نازیبا کلمات استعمال کئے اور کتاب غلاظت سے پر ہے،جس کے انتقام میں حکمران آل سعود سعودی عرب نجد سے ایک گروہ لا کر کربلا پر حملہ کیا اور مصائب برپا کئے۔

بعض مستشرقین کا کہنا ہے ،شیخ احمد احسائی کو انڈونیشیا سے مشرق کی طرف بھیجا گیا،وہ ایک مسیھی عالم دین تھا جسے مسلمانوں کا عقیدہ خراب کرنے پر مامور کیاگیا تھا۔اس نے اپنے منصوبے کی تکمیل کیلے شیعوں میں سازگار ماحول دیکھا تو شیعت کا لبادہ اوڑھ لیا۔کہتے ہیں اس کا عقیدہ تھا خدا نے علی ع میں حلول کیا ہے جس طرح انبیاء اور پیغمبر اسلام ص میں حلول کیا،ان کے عقیدے کے مطابق شیخ احمد مومن کامل اور امام و امت کے درمیان رابطہ ہے۔اس کا ایک شاگرد مرزا علی محمد ہے جو  فرقہ بابییہ کا بانی ہے،یہ عقیدہ تناسخ کے بھی قائل ہیں۔ (روضات الجنات ج 1،صفحہ 88،ش22)صاحب کتاب نے تین صفحے شیخ احمد کے فضائل و مناقب،ادب،فصاحت،تحریر و تقریر،لوگوں سے مدارت اور تصنیفات و تالیفات کے بارے میں رقم کئے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے اس میں موجود فضائل کسی ہستی میں نہیں پائے گئے۔

اس وقت ان کے مراکز پاکستان کے اندر ملتان اور کراچی میں ہیں۔بابی اور بھائی ان کی ترقی یافتہ شکل ہیں۔چنانچہ ہمارے ایک پرانے دوست جو عرصہ یہاں پر ہمیں یرغمال بنائے ہوئے تھے حوزہ مشہد سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد شیخ احمد احسائی کے مذہب کی ترویج و اشاعت کے عزم لے کر آئے وہ جناب بشیر عالمی صاحب ہیں۔"

شیعہ اہل بیت،صفحہ 151
مولف:علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی

Official website of Agha Agha Syed Ali Sharfuddin Moosvi Baltistani

www.sibghtulislam.com

رونا اور بد عملی

0 comments
"انسان کے دوش پر جو فرائض و ذمہ داریاں ہیں انہیں نظر انداز کر کے بے اہمیت گردان رونے کو ایک وفاداری کے شعار کے  طور پر پیش کرتے ہیں۔ایسے رونے والوں کی شان میں جہاں سورہ توبہ کی آیت 82 میں ہے وہاں عقیلہ قریش جناب زینب کبری ع نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا" اب تو رونا تمہارا مقدر ہے۔تم نے اپنے آپ کو بدبختی میں ڈالا ہے۔ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کے بعد ایسی رونے کا کیا فائدہ؟ دیکھو یہ اہل کوفہ کس پر رو رہے تھے؟ حسین ع پر یا اہل بیت ع پر؟ جن سے حضرت زینب ع نے فرمایا:

تمہارے رونے کا  کوئی فائدہ نہیں ہے۔آج کل بہت سے لوگ ایسے بھی  ہیں جو سال بھر میں کچھ آنسو بہا کر اپنے آنسو کو نماز،روزے،حج،جہاد ،امربالمعروف و نہی عن المنکر  کا صرف بدل ہی قرار نہیں دیتے بلکہ عمر بھر کھانے والے لقمہ حرام کو بھی اس آنسو سے دھو کر حلال و پاک کرنا چاہتے ہیں۔"

صفحہ 38،عنوان عاشورا
علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی 

Official Website of Agha  Ali Sharfuddin  Baltistani:

www.sibghtulislam.com

حجر اسود

0 comments
حجر اسود سے متعلق آغا علی شرف الدین بلتستانی کی تحریر

حجر الاسود

  "حجر اسود وہ پتھر ہے جو کعبہ مشرفہ کے رکن شرقی ڈیڑھ میٹر بلندی کے ارتفاع پر منصوب ہے۔جو اپنے آغآز نصب سے لے کر الی یومنا ھذا بوسہ گاہ انبیاء و مرسلین و صالحین و صیقین و موحدین ہے۔

اس پتھر کی کیا تاریخ ہے ،کس نوع کا پتھر ہے،اس کا بیان طویل و عریض ہے اس میں اجمال و ابہام ہے لیکن جو نقل اپنی سند اور معانی و مفاہیم میں ناقابل تردید و تشکیک ہے اسے ہم قارئین کرام کی خدمت میں پیش کریں گے۔جب حضرت ابراہیم ع خلیل اللہ تعمیر بیت میں ارتفاع دیوار کی حد تک پہنچے تو اسماعیل سے فرمایا،اچھی صفات والا ایک پتھر لائیں تو اسماعیل تلاش پتھر کیلے نکلے اور کالی ہاتھ واپس آئے تو ابراہیم ع نصب پتھر کرچکے تھے،پوچھا انی لک ھذآ؟ تو جواب دیا جس ذات نے مجھے تجھ سے بے نیاز بنایا ہے اسی نے دیا اور اسے جبرائیل لائے ہیں،لیکن جبرئیل اسے کہاں سے لائے تھے کہتے ہیں کوہ ابوقبیس میں امانت رکھا ہوا تھا وہاں سے لائے جنت سے لائے تھے۔جہاں تک اس پتھر کی رنگ یا جنس پہلے کیا تھی اور اس کو اسود کیون کہا اس سے کوئی خاطر خواہ معقول حکمت و فلسفہ نہیں نکلے گا خدانخواسطہ اگر یہ خبر درست قرار پائے کہ یہ یاقوت جنت میں سے تھا تو یقینا دولت اور مال و زر پرستی کی منطق کو تقویت ملے گی یا جواز ملے گا لیکن یہ منطق ناقابل نقاش رہے گی،اللہ سبحانہ نے ابتداء خلقت سے بندگان کو ایک پتھر سے جو کسی قسم کے نفع نقصان کا مالک نہیں آزمایا ہے۔حجر الاسود اپنی تاریخ میں منحرفین و ملحدین سے صدمات کا نشانہ بنا۔لشکر یزید یا حجاج کے گولوں سے یہ تین ٹکڑے ہوا۔

خصوصیات و امتیازات حجر اسود:
1-یہ بوسہ گاہ عباد الصالھین من لدن ادم الی یومنا ھذا تا الی یوم القیمۃ۔
2-جائے گاہ حجر اسود اشرف بیت اللہ کے رکن شرقی میں واقع ہے۔
3- یہ مطاف طائفین بیت اللہ واقع ہے۔
4- یہ نمونہ،ید اللہ سبھانہ ہے۔
5- حجر اسود نگین،بیت اللہ یعنی زینت بیت اللہ ہے۔
6-رمز بندگی نشان تسلیم للھی ہے،یہ اہل فکر و دانش و اہل منطق والوں کیلے لمحہ فکریہ ہے انسان سید و آقاؤں کا اپنے سے نیچے بلکہ اس سے بھی گذر کر ایک موجود و جامد پتھر کے سامنے خاضع ہو جانا ہے۔
  سورہ حج کی آیت 97 سے واجھ ہے کہ اللہ نے حج کو رمز عبادت و بندگی کی نشانی بتایا ہے لیکن بعض نے اسے اس نشانی سے نکال کر ایک سیاسی و سماجی اور اقتصادی و ثقافتی میلے کے طور پر پیش کرانے کی کوشش کی ہے۔ھجر اسود کو چومنا یا اس کے مقابل کھرے ہو کر تکبیر بلند کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کرنے والوں کا پول اس وقت کھل جاتا ہے جب جمرات کے پتھروں کو نفرت و انزجار کا سامنا ہوتا ہے اور ان پر پتھرون کی بارش برساتے ہیں جب کہ دین مقدس اسلام نہ پتھر کی تقدیس کرتا ہے نہ نفرت و انزجار بلکہ وہ صرف عبادت و بندگی الہی سکھاتا ہے۔

7- حجر اسود شعائر اللہ ہے ،یہاں سے طواف شروع کرنا اس کو بوسہ کرنا،یہاں سے گذرتے وقت اس کے مقابل کھڑے ہو کر تکبیر پڑھنا،اس کے شعائر اللہ ہونے کی نشانی ہے۔انسان مسلمان مراسم حج و عمرہ میں یہ اعمال اس لئے بجا لاتا ہے کیونکہ رسول اللہ ص نے ایسا کیا ،شعائر اللہ وہ ہے جسے اللہ یا رسول ص نے اللہ کی نشانی قرار دیا ہو یہاں سے ان حوزات و مدارس کے فارغ تحصیلات کی یہ بات جھوٹ ثابت ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ گھوڑا،جھنڈا،جھولا ،امام بارگاہ اور مخمل کی چادروں والی قبور سب شعائر اللہ ہیں،جیسا کہ امیر و فقیہ کارون حیدری کہتے ہیں۔

سنہ 319 ھجری کو ملحد و کافر دشمن اللہ ابا طاہر قرمطی نے گرز سے حجر اسود کو مارا،بعض نے کہا جعفر بن فلاح کے حکم سے مارا ہے اس کے بعد وہ اسے اپنی جگہ سے نکال کر اسے اپنے ساتھ بحرین کے شہر ھجر لے گیا اور وہاں لٹکا کر رکھا،یہاں تک کہ مطیع عباسی اسے تیس ہزار دینار میں قرامطہ سے خرید کر دوبارہ لایا اس میں فاطمین بھی واسطہ بنے تھے چنانچہ واپسی کے موقع پر قرمطی نے کہا اخذ نا بامرولا نروالا بامر کل۔حجر اسود تقریبا چار مہینے قرامطیوں کے قبضہے میں رہا اس مدت میں حجاج جائے حجر اسود کو چومتے تھے ،اسی طرح سنہ 314 ھجری میں پھر اس کو گرز سے مارا گیا،اس طرح یہ شعائر اللہ کافرین و ملحدین منافقین دشمنان اسلام کی آنکھوں میں خار بنا رہا۔"

صفحہ 95
معجم حج والحجاج
تالیف: علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی

غالی مجهول اورضعیف راوی

0 comments
غالی،ضعیف اور مجہول الحال راویوں کے نام کی فہرست

1- سهل بن زیاد
2- محمّد بن عیسی
3- یونس بن یعقوب
4- ابن مسکان
5- ابو بصیر
6- محمّد بن خالد
7- حسین بن سعید
8- نضر بن سوید
9- یحیی بن عمران الحلبی
10- أیوب بن الحرّ
11- عمران بن علیّ الحلبی
12- عبدالله بن المغیره
13- عبدالرّحیم بن روح القصیر
14- معلی بن محمّد
15- احمد بن محمّد
16- حسن بن محمّد الهاشمی
17- احمد بن عیسی
18- ابن أبی عمیر
19- عمر بن أذینه
20- زراره بن اعین
21- فضیل بن یسار
22- بکیر بن أعین
23- محمد بن مسلم
24- برید بن معاویه العجلی
25- ابو الجارود زیاد بن منذر
26- محمد بن الحسین
27- محمّد بن اسماعیل بن بزیع
28- منصور بن یونس
29- محمّد بن جمهور
30- صفوان بن یحیی
31- صباح الأزرق
32- زید بن الجهم الهلالی
33- محمّد بن سنان
34- اسماعیل بن جابر
35- عبدالکریم بن عمر
36- عبدالحمید بن أبی الدّیلم
37- حمّاد بن عیسی
38- ابراهیم بن عمر الیمانی
39- أبان بن عثمان
40- عبدالصّمد بن بشیر
41- علیّ بن الحکم
42- سیف بن عمیره
43- ابوبکر الحضرمی
44- عمرو بو شمر
45- بکر بن صالح
46- محمّد بن سلیمان الدّیلمی
47- هارون بن الجهم
48- مفضل بن عمر
49- حنان بن سدیر
50- فلیح بن ابی بکر الشّیبانی
51- محمّد بن الجبّار
52- ابوالقاسم الکوفی
53- محمّد بن سهل
54- ابراهیم بن أبی البلاد
55- اسماعیل بن محمّد بن عبدالله ابی علیّ بن الحسین
56- عمران بن موسی
57- محمّد بن عبدالله
58- عیسی بن عبدالله
59- فضاله بن ایوب
60- حسین بن أبی العلاء
61- وشّاء
62- أبی الصّباح الکنانی
63- هشام بن سالم
64- فضیل بن عثمان
65- طاهر
66- جابر بن یزید الجعفی
67- یونس بن عبدالرّحمان
68- عبدالاعلی
69- عبدالله القلاّ
70- فیض بن المختار
71- أبی أیوب الخزّاز
72- ثبیت
73- معاذ بن کثیر
74- ابو علی الارجانی الفارسی
75- عبدالرّحمان بن الحجّاج
76- موسی الصّیقل
77- اسحاق بن جعفر
78- علیّ بن عمر بن علی
79- ابن أبی نجران
80- صفوان الجمّال
81- منصور بن حازم
82- احمد بن الحسن المیثمیّ
83- جعفر بن بشیر
84- یعقوب السّرّاج
85- سلیمان بن الخالد
86- داود بن الزّربی
87- داود بن کثیر الرّقّیّ
88- أبو أیّوب النّحوی
89- حسن بن محبوب
90- حسین بن نعیم الصّحّاف
91- هشام بن الحکم
92- علیّ بن یقطین
93- معاویه بن حکیم
94- نعیم القابوسی
95- اسماعیل بن عبّاد القصری
96- محمّد بن اسحاق بن عمّار
97- زیاد بن مروان القندی
98- محمّد بن الفضیل
99- المخزومی
100- حسین بن المختار
101- نصر بن قابوس
102- داود بن سلیمان
103- یزید بن سلیط

صفحہ 880 بت شکن،علامہ آیت اللہ برقعی قمی
168 شیعہ اہل بیت ع ،آغا علی شرف الدین