¤مسلمات کا انکار؟ مسلمات کیا ھیں¤
"کتابوں کی اسناد کے حوالے سے بڑے سے بڑے علماء اعلام افتخار کرتے ھیں مثلا متعہ کے بارے میںمحترم محسن نجفی نے فرمایا ھمیں شیعہ کتب احادیث کی بجائے سنیوں کی کتابوں پر زیادہ بھروسہ ھے جیسے متعہ صحیح مسلم کی احادیث کے تحت ھے.یہ ایسا ھی ھے جیسے کوئی کہے اگر شراب اسلام میں جائز نہیں تو میں دین نصاری کی روایات کے تحت شراب پیتا ھوں،اگر متعہ اس مذھب سے ثابت نہیں تو فلاں مذھب کے تحت کرتا ھوں.اس طرح آپ نے فرمایا امام مھدی کو سنی علماء نے دیکھا اور ان کی کتابوں میں بھی آیا ھے آپ ان کی کتابوں پر بھروسہ کر کے فرماتے ھیں.قارئین ھم بخاری ومسلم کی احادیث کا مذاق نہیں اڑاتے اور نہ ھی یہ کہتے ھیں،بعد از کلام باری البخاری،اور اسی طرح نہ الکافی ھمارے لئے کافی ھے.بلکہ ھم احادیث کو اس کے مقرر کردہ اصول و موازین سے گزارنے کے قائل ھیں.
مسلمات جمع مسلمہ ھے کتاب مصطلحات المنظومہ فقہی ص 287 پر آیا ھے.مسلمات کی دو قسمیں ھیں.معتقدات اور ماخوزات پھر معتقدات کی 3 قسمیں ھیں:
1. الواجب قیومھا
2. المشھورات
3. الوھمیات
ماخوذات کی بھی دو قسمیں ھیں:
1.مقبولات
2.تحریرات
اس میں مصادرات بھی آتے ھیں لھذا دیکھنا ھوگا کیا مسلمات جس قسم کے بھی ھوں،انھیں ماننا پڑے گا؟ چاھے وہ مشھورات یا وھمیات ھی کیوں نہ ھوں. انھیں تسلیم کرنا ضروری ھے؟ اگر ایسا ھے تو دنیا کے تمام مذاھب باطلہ صحیح ھوں گے،بت پرستی مسلمات جاھلیت میں سے تھی، اسے بھی تسلیم کرنا ھوگا. تمام علوم کیفیات ،فلکیات فلسفیات کو تسلیم کرنا ھوگا.پھر تو کوئی تبدیلی ،تحقیق آئے گی نہیں.جو اقدامات کلیسا نے روا رکھے سب درست ھونگے لھذا ھمیں دیکھنا ھوگا کہ مسلمات عقلی ھیں یا مسلمات نقلی، مسلمات دینی ھیں یا مسلمات فرقہ ھیں.اگر فرقہ سے ھیں تو مسلمات منفی ھونگی کیونکہ عقیدہ مھدی کے حوالے سے امام غائب ھے اور یہ سب کے مسلمات میں سے بھی نھیں ھے."
آغا علامہ سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔