اگر اتحاد ایمان باللہ و رسول ص پر مبنی ہے تو اتحاد کرنے والوں کیلے حکم ہے ان لا تعبدوا الا اللہ ولا تشرک بہ احدا۔اگر دنیا میں سکون،آخرت میں نجات،اور اللہ کی رضا چاہیے تو تمام مصادیق شرک کو چھوڑ دیں۔اگر نقطہ اتحاد قرآن ہے تو قرآن نے جنہیں الذین امنوا کہا ہے انہیں کافر و طاغوت مت کہو۔اگر اتحاد کے سچے داعی ہو تو خلفاء پر سب و شتم کو ختم کرو۔کیونکہ یہ سب و شتم قرآن و سنت محمد ﷺ کے علاوہ جن اہل بیت ؑ کے آپ پیروکار شیعہ ہونے کا دعوی رکھتے ہیں ،حضرت علی ؑ سے لے کر امام حسن عسکری ؑ تک کے کسی امام کی گفتار و کردار میں نہیں ملے گا۔اگر اس سب و شتم کی کوئی اور سنت و سیرت ملتی ہے تو آل بویہ،فاطمی اور صفوی بادشاہان اور ان کے دسترخوان کے نمک خواران سے ملے گی۔ہم اتباع و تاسی میں قرآن و محمد ﷺ سے نیچے تنزل کے خلاف ہیں۔یہ نہ کہو کہ ہم تو سب و شتم م تو سب و شتم نہیں کرتے،یہ کھلا جھوٹ ہے ہم نہیں کرتے،یہ کہنے سے بات نہیں بنے گی،بلکہ خلفاء پر سب و شتم کرنے والون کو منع کرو۔اگر وہ باز نہ آئیں تو ان سے تعلقات منقطع کرو،اور معاشرے مین ان کے خلاف بائیکاٹ مہم چلاؤ۔یہی سب و شتم شعلہ فساد ہے۔یہی قتل و کشتار کی گولی و بارود ہے،یہی امت مسلمہ کیلئے نار نمرود ہے۔اور یہی مسلمانون کے درمیان اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ھے."
آغا علی شرف الدین










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔