Saturday, 26 December 2015

امام مھدی کے متعلق آغا صاحب کا نظریه

0 comments
"میں نے امام مھدی اور مھدویت پر لکھی نوابغ علما کی تالیفات مثلا محمد حسین کاشف الغطاء، باقرالصدر،مطھری،باقر الحکیم کا مطالعہ کیا.ان کے پاس آمد مھدی کو ثابت کرنے کے دلائل نہیں ھیں بلکہ یہ ایک دفاع ھے جو اپنی جگہ مخدوش ھے .یہاں بس تسلیم کرنا ھے.کیا دلائل ناقص ھونے کے باوجود اسے فتوی سے ثابت کریں اور تسلیم کرنا چاھیے، کیا دلائل ناقص سے بھی مسلمات بنتے ھیں،آپ نے جو روش اور طریقہ اختیار کیا ھے،یہ طریقہ، اھل فکرودانش نہیں،یہ طریقہ قرآن ومحمد ص نہیں بلکہ یہ طریقہ علما بھی نہیں ھے.آپ تو اجتہاد کے ترانے گاتے ھیں اور اجتھاد میں خطاء و لغزش والوں کیلئے ایک اجر کے بھی قائل ھیں لیکن آپ حضرات نے سب کا گلہ گھونٹ کر انہیں منوانے کی روش قائم کی ھوئی ھے.لہذا اس حوالے سے استفسار کرنے والوں کو کبھی غامدی اور کبھی شرف الدین کہتے ھیں." 

کتاب:دارالثقافہ سے عروۃ الوثقی،علامہ آغا سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔