Saturday, 26 December 2015

سیرت محمد ص

0 comments
"نبی کریم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ تاریخ بشریت میں گزرنے والے انبیاء و المرسلین اور نوابغ و مصلحین کی بہ نسبت ہر حوالے سے امتیاز کی حامل ہے - آپ کی حیات طیبہ کے آغاز سے لیکر وفات تک کے مراحل کا جائزہ لیا جائے تو آپ جیسی کامل ، واضح اور روشن کوئ ہستی نہیں ملتی، نہ کسی اور کو اتنے روشن زاویے سے ایسی حیات نصیب ہوئ ہے-
1- دنیا کی تاریخ میں نوابغ روزگار شخصیات کے والدین کا پتہ نہیں چلتا جب کہ آپ کے والدین عبداللہ رض اور آمنہ رض کا سلسلہ نسب کئ پشتوں تک مشہور و معروف اور غیر متنازعہ شخصیات سے ملتا ہے-
2- انسانیت اور بشریت کے آسمان پر آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کا ہر پہلو تمام زاویوں سے واضح ، روشن اور درخشاں ستارے کی مانند نظر آتا ہے جب کہ آپ کی سیرت میں کسی قسم کی قصہ و کہانی اور افسانہ نامی کوئ چیز نہیں ملتی-
3- آپ کی حیات طیبہ کے ابتدائ دور سے لیکر دعوائے نبوت تک کے دورانیے میں کسی بھی وقت معاشرے کی برائیوں ، خرابیوں اور دلدلوں کے علاوہ غیر معقول اقوال و کردار کی محافل و مجالس سے آپ نے خود کو ہر سطح پر دور رکھا -
4- دعویٰ نبوت سے وفات تک تبلغ دین کے تمام پہلو جن میں قیام و جہاد بھی شامل ہے کو عملی جامہ پہنانے 
کے دوران پیش آنے والی مشکلات و پریشانیوں میں فتح و شکست کے مواقع پر آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے کے تمام واقعات و حالات میں آپ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم ہمت و استقامت کے ساتھ علمی و فلسفیانہ اصولوں پر قائم و دائم نظر آتے ہیں اگر کہیں کوئ غیبی امداد حاصل ہوئ تو وہ آپ کی جنگی اصول و حکمت عملی سے متصادم نظر نہیں آتی -
5- آپ کے تیس سالہ دور رسالت میں دعوت کا مرکزی اور بنیادی نکتہ عقل ، منطق اور استدلال سے بھر پور نظر آتا ہے کیونکہ کسی مقام اور مرحلے پر آپ نے اپنے مقام و منصب کی بنیاد پر فریق مخالف کو خاموش کرنے کی خاطر اپنے نظریے کو مسلط کئے جانے سے متعلق کوئ کردار ادا نہیں کیا -"

( آغا علامہ سید علی شرف الدین  موسوی بلتستانی)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔