Sunday, 27 December 2015

اھل بیت ع

0 comments
"اس کے بعد نبی کریم ص ندائے حق کو لبیک کہتے ہوئے امت کو رخصت کرتے ہوئے رب جلیل کی طرف یکسو ہوگئے۔حمد و ستائش اس ذات بابرکت کیلے ہیں جس نے ہمیں ایک ایسی اہل بیت اطہارع سے وابستہ رکھا جو قرآن عظیم اور نبی کریم ص کی سیرت طیبہ کی پیکر مجسم اور نمونہ کامل ہے۔انہوں نے آپ کے بعد تمام نشیب و فراز اور تلخ اور ناگوار حالات میں اپنی ذاتیات انانیت سے گزر کر اسلام و مسلمین کی عزت کرامت اور وحدت کی پاسداری کی اور اپنے طرف سے اسلام اور مسلمین کو کوئی آسیب لگنے سے پرہیز کیا اور فرمایا(واللہ لاسآلھن فقرہ نھج البلاغہ) حمد و ستائش اس ذات کیلے مخصوص ہے جس نے ہمیں اس اہل بیت سے دور رکھا جو تمام صفات  خالقیت،رازقیت،احیاء اماتہ کل کائنات کا مظہر پیش کر کے ہمیشہ اپنے انانیت کو مقدم  رکھا ہے۔"

(کتاب اٹھو قرآن کا دفاع کرو 20 ، آغا علی شرف الدین علی آبادی)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔