"امامت انسانی معاشرےکے تمام شعبے علمی دفاعی عبادات صنعت تک کے لئے ناگزیر ہے لہذا اس کو منصوص کے ذریعے چند افراد تک محدود و محصود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے یہ سودمند نہیں ہوگی لہذا قرآن کریم اور سنت نبی کریم ص میں یہ حق ہر اس عبد(بندہ) کو دیا گیا ہے کہ وہ اس منصب کے لئے سعی و کوشش کرے تاکہ امت میں ایسے افراد کی قلت اور بحران پیدا نہ ہونے پائے مثلا میدان علم میں اس کے تمام شعبوں مین صدق و صداقت گوئی کا مظاہرہ صدق و تقوی عمل صالح تعلیم و تعلم جہاد و دفاع قضاوت امامت جمعہ و جماعت سے لے کر قضاوت ہر زمانے ہر جگہ ہر سمت و گروہ کیلے ضروری ہے لہذا سورہ مبارکہ فرقان کی آیت 74 میں ہر مسلمان کو درگاہ الہی سے اپنے عمل کے علاوہ یہ دعا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
والذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریاتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما۔"
(شیعہ اہل بیت،صفحہ 171،، علامہ علی شرف الدین موسوی علی آبادی)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔