Sunday, 27 December 2015

یهودی ایجنٹ کون

0 comments
"دلنواز صاحب نے مجھے حج میں کرنے والے انحراف ردوبدل کے بارے میں کاروانوں کی شکایت کی بنیاد پر یہودی کہا ہے گرچہ بدکلامی،گالی و تہمت جو یہودیون اور مسیحیوں سے ثقافت و ورثے میں انہیں ملی ہے۔لیکن ہم گالی گلوچ تہمت الزام تراشی کی جلاد گرانے سے پرہیز کرتے ہیں ۔کیونکہ  اس سے کسی مسئلے کا حل نہیں سمجھتے ہیں۔ہم حقائق کو بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ہم یہاں پر تہمت الزام تراشی نہیں کریں گے بلکہ جو کچھ قرآن نے یہودیوں کے بارے میں فرمایا ہے اور جو شناخت قرآن نے دی ہے اس پر اکتفا کر رہے ہیں کہ کون یہودیوں کے راستے  پر گامزن ہے۔آپ ان کی خصوصیات و امتیازات جاننے کے بعد معلوم کر سکیں گے کہ کون یہودیوں کے نقش قدم پر چل رہا ہے:

شناختھائے مخصوص یہود:
------------------------------------
1۔عام مسلمانوں سے عداوت و نفرت  لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَ‌ٰوَةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَ‌بَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَـٰرَ‌ىٰ ۚ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُ‌هْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُ‌ونَ ﴿٨٢﴾ آپ دیکھیں گے کہ صاحبانِ ایمان سے سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور ان کی محبت سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں …._ یہ اس لئے ہے کہ ان میں بہت سے قسیس اور راہب پائے جاتے ہیں اور یہ متکبر اور برائی کرنے والے نہیں ہیں

2۔مغرور وحاسود  وَدَّ كَثِيرٌ‌ۭ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَوْ يَرُ‌دُّونَكُم مِّنۢ بَعْدِ إِيمَـٰنِكُمْ كُفَّارً‌ا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَٱعْفُوا۟ وَٱصْفَحُوا۟ حَتَّىٰ يَأْتِىَ ٱللَّهُ بِأَمْرِ‌هِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ‌ۭ ﴿١٠٩﴾  بہت سے اہلِ کتاب یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی ایمان کے بعد کافر بنالیں وہ تم سے حسد رکھتے ہیں ورنہ حق ان پر بالکل واضح ہے تو اب تم انہیں معاف کردو اور ان سے درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا کوئی حکم بھیج دے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے
ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَآ أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَ‌سُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْ‌بَانٍ تَأْكُلُهُ ٱلنَّارُ‌ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُ‌سُلٌ مِّن قَبْلِى بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَبِٱلَّذِى قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ﴿١٨٣﴾ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے آسمانی آگ کھا جائے تو ان سے کہہ دیجئے کہ مجھ سے پہلے بہت سے رسول معجزات اور تمہاری فرمائش کے مطابق صداقت کی نشانی لے آئے پھر تم نے انہیں کیوں قتل کردیا اگر تم اپنی بات میں سچےّ ہو
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُ‌سُلٌ مِّن قَبْلِكَ جَآءُو بِٱلْبَيِّنَـٰتِ وَٱلزُّبُرِ‌ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُنِيرِ‌ ﴿١٨٤﴾اس کے بعد بھی آپ کی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے بھی رسولوں کی تکذیب ہوچکی ہے جو معجزات, مواعظ اور روشن کتاب سب کچھ لے کر آئے تھے

3-دوسروں کے بات سنے اور غور کرنے پر پابندی   فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـٰقَهُمْ وَكُفْرِ‌هِم بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ‌ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِ‌هِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٥٥﴾پس ان کے عہد کو توڑ دینے ,آیات هخدا کے انکار کرنے اور انبیائ کو ناحق قتل کر دینے اور یہ کہنے کی بنا پر کہ ہمارے دلوں پر فطرتا غلاف چڑھے ہوئے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ خدا نے ان کے کفر کی بنا پر ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے اور اب چند ایک کے علاوہ کوئی ایمان نہ لائے گا

4۔بے رحم شقاوت کے حامل ہیں۔

5-حقائق چھپانے والے ہیں۔

6۔جھوٹ پر جھوٹ ان کا دین ہے۔
 ٱنظُرْ‌ كَيْفَ يَفْتَرُ‌ونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًا مُّبِينًا ﴿٥٠﴾  دیکھو تو انہوں نے کس طرح خدا پر کھّلم کّھلا الزام لگایا ہے اور یہی ان کے کھّلم کّھلا گناہ کے لئے کافی ہےأَلَمْ تَرَ‌ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّـٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُ‌وا۟ هَـٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا ﴿٥١﴾
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جن لوگوں کو کتاب کا کچھ حصہّ دے دیا گیا وہ شیطان اور بتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور کفار کو بھی بتاتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں۔
بات کرنے کے بعد مکر جاتے ہیں۔

7۔یہود ہی جنت میں جائیں گے۔ وَقَالُوا۟ لَن يَدْخُلَ ٱلْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَـٰرَ‌ىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا۟ بُرْ‌هَـٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ﴿١١١﴾یہ یہودی کہتے ہیں کہ جنّت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا. یہ صرف ان کی امیدیں ہیں. ان سے کہہ دیجئے کہ اگر تم سچّے ہو تو کوئی دلیل لے آؤ۔
یہ علاوہ بر منافی عدل الہی چند ن آیات سے متصادم ہے جن میں اللہ نے بہت سے اہل کتاب منجمینہ صائبین کی نجات اور جنت جانے کا ذکر کیا ہے۔

8۔آیات الہی کی سودہ بازی تحریف گرائی۔فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ ٱلْكِتَـٰبَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَـٰذَا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ لِيَشْتَرُ‌وا۟ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ ﴿٧٩﴾وائے ہو ان لوگوںپر جو اپنے ہاتھ سے کتاب لکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ اسے تھوڑے دام میں بیچ لیں. ان کے لئے اس تحریر پر بھی عذاب ہے اور اس کی کمائی پر بھی ۔

جس طرح علماء یہود نے اپنے مفادات کی خاطر کتاب اللہ میں تحریف کی اسی طرح علماء اسلام نے بھی قرآن میں تحریف کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن اللہ کے ارادے کو شکست نہ دے سکے۔

9۔حرام خوری:خاص کر حرام خوری ربا خوری یہود کی شناخت ہے کاروان خمس دومجالس کے چندے 3 فاتحوں کے فیس مکہ مدینہ کے مقیم شیعوں کے نام سے چندے گاڑی میں سوار ہونے کی مد میں زیارتوں کی فیس

10۔خیانت
11۔اپنے اندر اور دوسرے ادیان سے تفرقہ و انتشار کا سہرا یہود کو جاتا ہے۔
1)یہ جو کہتے ہیں کہ صرف ہمارے فرقے والے ہی ناجی ہیں اور باقی جہنمی ہیں یہ ایک یہودی منطق ہے۔
2)جو عام مسلمانوں سے عداوت و دشمنی برتے وہ یہودی ہوگا۔

3)جو طرح طرح کے بہانوں سے حاجیون سے پیسہ بنائے اورریہ کے نام سے جھوٹ بولے۔

12۔بت پرستی:یہود کے بت پرستی میں مستغرق ہونے کا ذکر قرآن میں آیا ہے اللہ سبحانہ نے انہیں دریا شگاف کر کے پار کیا انہوں نے اپنے دشمن فرعون کو دریا میں غرق ہونے کا مظاہرہ اپنی آنکھون سے دیکھا لیکن اس کے باوجود جب انہوں نے بت پرستیوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھا تو موسی سے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے اس جیسا بت بنائیں
وَجَـٰوَزْنَا بِبَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ ٱلْبَحْرَ‌ فَأَتَوْا۟ عَلَىٰ قَوْمٍ يَعْكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوا۟ يَـٰمُوسَى ٱجْعَل لَّنَآ إِلَـٰهًا كَمَا لَهُمْ ءَالِهَةٌ ۚ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ﴿١٣٨﴾اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار پہنچا دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس پہنچے جو اپنے بتوں کے گرد مجمع لگائے بیٹھی تھی -ان لوگوں نے موسٰی علیھ السّلامسے کہا کہ موسٰی علیھ السّلامہمارے لئے بھی ایسا ہی خدا بنادو جیسا کہ ان کا خدا ہے انہوں نے کہا کہ تم لوگ بالکل جاہل ہو

13۔حضرت موسی قوم کو چھوڑ کر طور پر درگاہ الہ میں مناجات کیلے گئے تو ان کے غیاب میں اس قوم نے بچھڑا(حیوان) بنایا۔
وَٱتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُۥ خُوَارٌ‌ ۚ أَلَمْ يَرَ‌وْا۟ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ ﴿١٤٨﴾ اور موسٰی علیھ السّلامکی قوم نے ان کے بعد اپنے زیورات سے گوسالہ کا مجسمہ بنایا جس میں آواز بھی تھی کیاان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ وہ نہ بات کرنے کے لائق ہے اور نہ کوئی راستہ دکھا سکتا ہے انہوں نے اسے خدا بنالیا اور وہ لوگ واقعاظلم کرنے والے تھے

قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنۢ بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ ٱلسَّامِرِ‌ىُّ ﴿٨٥﴾
ارشاد ہوا کہ ہم نے تمہارے بعد تمہاری قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کرڈالا۔"

            (آغا علی شرف الدین علی  آبادی  )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: آغا صاحب نے  13 بنیادی نکتے یہودیوں اور یہودیوں کی سیرت پر عمل پیرا لوگوں کی پہچان سے متعلق ذکر کئے ہیں۔ان میں سے ہر ایک نکتے کو قرآن سے ثابت کیا ہے۔اب ان نکتوں کو سامنے رکھیں تو واضح ہو جائے گا کہ آغا صاحب یہودی ایجنٹ ہیں یا وہ جو دین میں حیوان پرستی، علم،جھولے اور جھنڈے و گھوڑے کو شعائر بتاتے ہیں۔
دین اسلام میں سچ بولنے کی تعلیم دینے والا یہودی ایجنٹ یا جھوٹ کو دین کی اساس کہنے والا شخص ایجنٹ؟؟

ہر قسم کی خیانت اور دیگر امانت کے منافی کام کرنے والے؟؟(تفصیل آگا کی کتاب شکوؤں کے جواب۔۔۔جواب سے لاجواب۔۔۔فصلنامہ عدالت وغیرہ میں پڑھیں)

جو لوگ عام عوام سے خمس جو صرف جنگی غنائم سے مخصوص ہے عام عوام کے مال کو حرام   کھانے والے عالم یہودی ایجنٹ ہیں؟؟(تفصیل آغا کی کتاب معجم حج و حجاج میں ملاحظہ کیجے)

وہ جو قرآن میں مختلف آیتوں میں تحریف کر کے من گھڑت دعاؤن اور زیارت ناموں اور متعہ کو ثابت کر رہے ہیں یا وہ جو صرف قرآن کی اصل تعلیمات سے روشناس کرا رہے ہیں؟؟

وہ علماء جو کہتے ہیں صرف ولایت علی کے اقراری ہی جنت میں جائیں گے یا یا علی انت و شیعتک فی الجنۃ جیسی روایات کو لے کر عام امت کو جہنمی اور صرف ولایت و امامت کے اقرار کرنے والے چاہے کتنے ہی گناہوں کا منکر ہو!! شیخی ولایت تکوینی اور علی اللہ کہنے والے نصیریوں اور قرامطیوں کو جنتی کہنے والے وہ یہودیوں کی سیرت پر عمل پیرا ہے یا آغا شرف الدین صاھب جو کسی فرقے کی بجائے صرف اسلام ناب محمدی کو ہی جنت میں جانے کو کافی کہتے ہیں اور شرک و بدعات و خرافات سے روکتے ہیں۔

وہ جو قرامطہ حمدان اور اشعث بن قیس جیسے دین فروشوں کے عقائد کو اسلامی عقائد قرار دے اور ابوالخطاب اور مغیرہ کے فکر عصمت و منصوصیت من اللہ اور میمون قداح کے عقائد کا پرچار کرے یا وہ جو صرف قرآن و سنت کی دعوت دے۔ہر عقیدے کی بنیاد قرآن و حدیث کو بنائے،کون ایجنٹ ہوگا؟؟(آغا کی کتاب باطنیہ و اخوتہا ملاحظہ کیجے)

ان تمام نکتوں کی تفصیل کیلے آغا صاھب کی کتابیں "عقائد و رسومات شیعہ" ،"شیعہ اہل بیت" ،"موضوعات متنوعہ"، "معجم حج و حجاج اور کتاب دارالثقافہ سے دارالوثقی ملاحظہ کیجے۔

فاعتبوا یا اولی الابصار

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔