"اگر کسی انسان کے پاس یہ تمیز نہیں تو وہ خود کو دانشور علامہ الدھر اور آج کل کے اصطلاحات کے مطابق "اسکالر(Scholar )" کہے وہ جہالت بمعنی ضد عقل جاہل ہونگے۔دنیا میں دین اسلام اور مشرکین کے درمیان فرق یہی ہے مشرکین ملحدین کتنا ہی علوم دنیا کے استاد کیوں نہ ہوں وہ مندر،بت خانہ،گرجے میں جا کر انتہائی خاضعانہ،خاشعانہ،متذلانہ اپنے سے کئی درجات پست مخلوق" لا یسمع ولا یبصر ولا یملک نفع و ضرر" کے سامنے اپنے عرائض کو پیش کرتے ہیں۔لاکھوں انسانوں کی قیادت کے باوجود "گھوڑے" کو پکڑ کر ناظرین کو سمجھاتے ہیں کہ میں اس کا غلام ہوں۔اسی طرح کوئی دعوی اجتہاد کے بعد بلند "جھنڈا" اٹھا کر کہتا ہے ہم اس جھنڈے سے بہت کچھ لے سکتے ہیں،کوئی خالی "تابوت" اٹھاتے ہیں یہ سب مظاہر نفس پرستی خود اپنی ذات کے سامنے خاضع ہیں۔جب کہ انسانوں سے ندائے قرآنی یہ ہے کہ ان "احمقانہ حرکات" کو چھوڑ دیں۔"
علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی
صفحہ 62،مدخل الدراسات تاریخ اسلامی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔