“بیت اللہ کے ابتکارات میں سے ایک شب 18 ذی الحجہ کو شب شعر گوئی منانا ہے اس کے لئے انہون نے مکہ مکرمہ،امریکا،برطانیہ،ہندوستان،پاکستان اور خود سعودی عرب کے دیگر صوبوں سے شعراء منگوائے اور پوری رات شب شعر کے ساتھ شب عیش و نوش منائی حجاج بیت اللہ کو اس شب میں کاروان کے مقاصد میں غریب کو عیاش بنانے کی تربیت،شعر جسے قرآن نے ممنوع قرار دیا،پیغمبر کیلے شاعری کو نازیبا و ناسزا قرار دیا اور آپ نے اسے مسجد میں پڑھنے سے منع فرمایا اس کی ترویج کرنا شامل ہے۔شعر و شعراء کے ذریعے غدیر منائی گئی۔لیکن جب یہ کہتے ہیں کہ غدیر کے اعلان پر عمل نہیں ہوا اور علی گھر بیٹھے تو یہاں علی مظلوم ہیں۔چنانچہ یہاں خوشی منانا کس منطق کے تحت ہے؟
انہون نے ہم سے کہا آغا صاحب آپ کو بھی غدیر کی دعوت ہے۔ہم نے کہا آپ کی دعوت بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ آپ نے علماء کو نہیں بلکہ شعراء کو بلایا ہے۔غرض منی و عرفات میں بھی چائے اور دودھ تقسیم کر کے اپنی قارونیت فخر فی قومہ حجاج کو کاروان میں کھنچنے کا اشتہار دیا ان کے پروگرام میں حجاج کو تعیش کی طرف مائل کیا جاتا ہے، ان ابتکارات مین سے ایک حجاج کو مکہ میں دعا و مجالس کے بہانے حرم جانے سے روکنا اور کلفاء کے خلاف حجاج کے دلون کو حسد و کینہ و عداوت سے بھرنا ہے چنانچہ انہون نے اس کے لئے دعا "صنمی قریش"کو انتخاب کیا ہے جس کو پڑھ کر وہ روتے رلاتے ہیں۔
ان کی تاسی کرتے ہوئے ہمارے ایک دوست محترم جناب دلنواز صاحب نے بھی اسی سیرت کو اپنای۔آپ نے ہم سے کہا آغا صاحب آپ غدیر کے دن دعائے ندبہ پرھیں۔لیکن ہم نے دعا کے درمیان حجاج کو متوجہ کرتے ہوئے کہا آیا آپ غدیر سنی منا رہے ہیں یا غدیر شیعہ-کیونکہ غدیر شیعی کا اصول و اساس امامت بیان کرنا ہے جب کہ غدیر سنی کھانا پینا اور ذکر و فضائل پر اکتفا کرنا ہے۔اس کے بعد انہون نے ایک غالی مولانا کو بلایا ان کے لئے کرسی لگائی جس نے اشعار مین علی کی الوہیت کو بیان کیا،جو ہم سے برداشت نہ ہو سکا چنانچہ ہم نے اس کے سامنے جا کر کہا کعبہ مین شرک بکنا چھوڑ دو۔اس کے بعد ہم نے ایک دفعہ دلنواز صاحب سے پوچھا اس دفعہ کتنے گانا گانے والے ساتھ لائے ہیں۔شرک پر مبنی اشعار گانے سے بھی بدتر ہیں گانا عصیان ہے جب کہ شرک ناقابل معافی گناہان کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔"
(معجم حج و حجاج،صفحہ72،آغا علی شرف الدین)
نوٹ:
یہ آغا صاحب کی کتاب 2،3 سال قبل لکھی گئی ہے،اس کی عبارت ہے۔
الحمدللہ ہم نے اس پیج پر مشہد کے عالم دین جناب علی احمد موسوی اور آیت اللہ ابو الفجل برقعی اور حیدر علی قلمداران کے حوالے سے گزشتہ پوسٹس میں لکھا ہے کہ دعائے ندبہ غیر مستند اور قرآن و سنت سے متصادم ہے،ڈاکٹر علی شریعتی نے بھی اس دعائے ندبہ پر اعتراضات وارد کئے تھے کما قال علی اصغر الغروی۔
اس کے علاوہ آج کے ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ سید کمال الحیدری نے بھی دعائے صنمی قریش کو اہل بیت سے منسوب کرنے کو غلط قرار دیا ہے۔انہون نے فرمایا کہ اہل بیت کی سیرت کے منافی ہے کہ ان سے ایسے کلمات وارد ہوں۔ان سے قبل آیت اللہ فضل اللہ اور آیت اللہ ابوالفضل ابن الرضا برقعی بھی دعا صنمی قریش کو گھڑی ہوئی دعاؤں میں شمار کر چکے ہیں۔
والسلام علی من اتبع الھدی۔
انہون نے ہم سے کہا آغا صاحب آپ کو بھی غدیر کی دعوت ہے۔ہم نے کہا آپ کی دعوت بدنیتی پر مبنی ہے کیونکہ آپ نے علماء کو نہیں بلکہ شعراء کو بلایا ہے۔غرض منی و عرفات میں بھی چائے اور دودھ تقسیم کر کے اپنی قارونیت فخر فی قومہ حجاج کو کاروان میں کھنچنے کا اشتہار دیا ان کے پروگرام میں حجاج کو تعیش کی طرف مائل کیا جاتا ہے، ان ابتکارات مین سے ایک حجاج کو مکہ میں دعا و مجالس کے بہانے حرم جانے سے روکنا اور کلفاء کے خلاف حجاج کے دلون کو حسد و کینہ و عداوت سے بھرنا ہے چنانچہ انہون نے اس کے لئے دعا "صنمی قریش"کو انتخاب کیا ہے جس کو پڑھ کر وہ روتے رلاتے ہیں۔
ان کی تاسی کرتے ہوئے ہمارے ایک دوست محترم جناب دلنواز صاحب نے بھی اسی سیرت کو اپنای۔آپ نے ہم سے کہا آغا صاحب آپ غدیر کے دن دعائے ندبہ پرھیں۔لیکن ہم نے دعا کے درمیان حجاج کو متوجہ کرتے ہوئے کہا آیا آپ غدیر سنی منا رہے ہیں یا غدیر شیعہ-کیونکہ غدیر شیعی کا اصول و اساس امامت بیان کرنا ہے جب کہ غدیر سنی کھانا پینا اور ذکر و فضائل پر اکتفا کرنا ہے۔اس کے بعد انہون نے ایک غالی مولانا کو بلایا ان کے لئے کرسی لگائی جس نے اشعار مین علی کی الوہیت کو بیان کیا،جو ہم سے برداشت نہ ہو سکا چنانچہ ہم نے اس کے سامنے جا کر کہا کعبہ مین شرک بکنا چھوڑ دو۔اس کے بعد ہم نے ایک دفعہ دلنواز صاحب سے پوچھا اس دفعہ کتنے گانا گانے والے ساتھ لائے ہیں۔شرک پر مبنی اشعار گانے سے بھی بدتر ہیں گانا عصیان ہے جب کہ شرک ناقابل معافی گناہان کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔"
(معجم حج و حجاج،صفحہ72،آغا علی شرف الدین)
نوٹ:
یہ آغا صاحب کی کتاب 2،3 سال قبل لکھی گئی ہے،اس کی عبارت ہے۔
الحمدللہ ہم نے اس پیج پر مشہد کے عالم دین جناب علی احمد موسوی اور آیت اللہ ابو الفجل برقعی اور حیدر علی قلمداران کے حوالے سے گزشتہ پوسٹس میں لکھا ہے کہ دعائے ندبہ غیر مستند اور قرآن و سنت سے متصادم ہے،ڈاکٹر علی شریعتی نے بھی اس دعائے ندبہ پر اعتراضات وارد کئے تھے کما قال علی اصغر الغروی۔
اس کے علاوہ آج کے ممتاز شیعہ عالم آیت اللہ سید کمال الحیدری نے بھی دعائے صنمی قریش کو اہل بیت سے منسوب کرنے کو غلط قرار دیا ہے۔انہون نے فرمایا کہ اہل بیت کی سیرت کے منافی ہے کہ ان سے ایسے کلمات وارد ہوں۔ان سے قبل آیت اللہ فضل اللہ اور آیت اللہ ابوالفضل ابن الرضا برقعی بھی دعا صنمی قریش کو گھڑی ہوئی دعاؤں میں شمار کر چکے ہیں۔
والسلام علی من اتبع الھدی۔










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔