آغا شرف الدین کی کتب کو اپنے نام سے چھاپنے والے ملا ؤں مجتھدوں اور اداروں کے متعلق بلتستان کے ایک برادر"عون سید "کے کمنٹس
"یه کتابیں میں نے لاھور میں پنجاب یونیورسٹی کے کتب میلے میں دیکھا تھا پھر میں نے پوچھا که کهاں سے ملتی هیں,انهوں نے ٹال مٹول کیا,
یه کتابیں لوگ یا بڑے بڑے ادارے اپنے ھاں سے چھاپتے هیں پهر بیچتے هیں,جس شخص نے اپنی زندگی صرف کر کے یه کتابیں چھپوائی اسے دوسرے لوگ بغیر اجازت کاپی کر کے بیچتے هیں یه لوگ چور ڈاکو نهیں هے تو اور کیا هے,آغا شرف الدین پر هر طرح سے ظلم کر رهے هیں لیکن ان کے ساتھ الله کی مدد هے وه ڈٹ کر مقابله کرے گا."










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔