اس مہینے میں بہت سی مذہبی مناسبات و واقعات موجود ہیں لیکن ان میں سے ایک اہم دن اس مہینے کی پندرھویں تاریخ یعنی نیمہ شعبان ہے۔اس دن زیارت امام حسین کی خاص تاکید ہے،نیمہ شعبان میں قبر امام حسین پر اپنے آپ کو پہنچانے،زیارت کرنے اور دعائیں کرنے کے بارے میں کثیر روایات موجود ہیں ۔جب کہ یہ امام زمان کی ولادت باسعادت کا دن بھی ہے۔اس دن کا بذات خود اہمیت و فضیلت کا حامل ہونا اپنی جگہ مسلم ہے لیکن اس دن کو شب قدر گرداننا آیات قرآنی سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ سورہ قدر میں قرآن کے نزول سے متعلق موجود آیات کی رو سے شب قدر رمضان میں ہے،لہذا 15 شعبان شب قدر نہیں ہو سکتی۔البتہ یہ ایک قیمتی شب ضرور ہے ،جس میں کثرت دعا،زیارت امام حسین ع اور یاد امام زمان ع کی تاکید کی گئی ہے۔لیکن صد افسوس کہ ہم اس کی بجائے خرافات،فرسودہ اور غیر عقلی و غیر شرعی چیزوں میں خود کو مصروف رکھتے ہیں۔مثلا اس کو شب برآت کہنا یا عریضہ ڈالنا،یہ سب آئمہ کو نہ پہچاننے اور ان کو اپنے عقل و منطق سے دور دکھانے اور مذہب کو فرسودہ دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ہمارے یہاں جو اس کو شب برات کہتے ہیں اس کی ہمیں کوئی سند نہیں ملتی ہے اور یہ جو عریضہ دریا میں ڈالنے کا رواج ہے اس بارے میں بھی نہ کوئی سند ہے،نہ روایات میں ہے اور نہ ہی عقلا اس کی کوئی منطق ہے۔
مجلہ اعتقاد جلد اول شمارہ سوم
، آغا علی شرف الدین بلتستانی
نوٹ:یہ آغا صاحب کا ایک پرانا مجلہ ھے.










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔