"اسلام آباد میں جامع مسجد غلات کے امام جمعہ و جماعت اور استاد جامعہ کوثر کو اپنے خطابات میں بھی یہی اصرار کرتے ھوئے سنا گیا ھے کہ میں(علی شرف الدین) سنی ھوگیا ھوں اور لوگوں کو سنیت کی طرف دعوت دے رھا ھوں.ان تمام الزامات وتشدد کے باوجود میں ان کی ضد میں خود کو سنی نہیں کہوں گا.اور خود کو سنیت سے متعارف نھیں کراونگا.کیونکہ اھل سنت و الجماعت نے بھی قرآن پر عمل کرنے اور اسے تطبیق کے مراحل سے دور کرنے کیلے اسے تنہا حفظ تک محدود کرنے کے ساتھ ساتھ سنت رسول ص کو بھی چھوڑا ھے.اب وہ اپنے آپ کو دوسری تیسری صدی کی شخصیات سے انتساب کرتے ھیں اور اپنے آپ کو حنفی ،مالکی،شافعی اور حنبلی کہلواتے ھیں.وہ کہتے ھیں ھم نے دین انہی سے لیا ان کا ھم پر احسان ھے اور وہ ان سے اوپر جانے کیلے تیار نہیں.یھاں ھم اس حوالے سے سنی نھیں ھوسکتے. یہ خود کو حضرت ابوبکر و حضرت عمر سے انتساب کراتے جو قرآن و سنت کے پابند تھے تو بہتر ھوتا کیونکہ انھوں نے قرآن و سنت کے درمیان کسی اور کو داخل نھیں کیا.اور کوئی حزب(فرقہ) نھیں بنایا.چاروں خلفاء دین اسلام و قرآن و سنت پر عمل پیرا تھے.علی ع ان سے حکم شریعت میں کسی قسم کا اختلاف نھیں رکھتے تھے اور نہ ھی وہ آپ ع سے اس حوالے سے کسی قسم کا اختلاف رکھتے تھے.غرض ھم خود کو سنی اس لئے نھیں کہلواتے کیونکہ اھل سنت ایک پاوں سے لنگڑے ھیں جب کہ یہ شیعہ دونوں پاؤں سے لنگڑے ھیں یعنی قرآن و سنت دونوں سے محروم ھیں اور زمین گیر ھیں."
علامہ آغا سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔