Sunday, 27 December 2015

تقلید

0 comments
برادر انیس الحسن نے اس کی روئیداد میں بتایا کہ روانگی حج سے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں حافظ نذیر حسین سے ان کی ملاقات ہوئی تو حافظ صاحب نے حج پر اٹھنے والے تمام خرچ پر ان سے خمس کا مطالبہ کیا اور فرمایا کہ آپ دونون خمس 162500 روپے بنتا ہے یہ ادا کر کے جانا چاہیے تو انیس بھائی نے کہا کہ ہمیں زکوۃ کے بارے میں بتائیں تو مولانا صاحب نے کہا کہ ہمارے یہان زکوۃ نہیں کمس ہے تو اس پر انیس بھائی نے کہا کہ قرآن میںزکوۃ پر بہت سی اٰیات ہیں تو اس پر مولانا نزیر نے کہا کہ کمس غریب و مسکین اور ابن سبیل پر خرچ ہوتا ہے اور ہم مولوی بھی اس مین آتے ہیں اس پر ہمارا بھی حق ہے،انیس بھائی نے کہا اس مسئلے کو ہم کراچی کے ایک عالم دین جن کا نام شرف الدین ہے ان سے دریافت کرین گے تو مولانا وہان سے خاموشی سے چل پڑے۔
ارشد شیرازی نے بتایا مولانا حافط نذیر حسین کارواں سلمان فارسی(ڈیرہ اسماعیل خان) سے مورخہ 8 ذیقعدہ سے 1433 ھجری کو بمطابق 2012 کو برادر سید انیس الحسن شیرازی اور ان کی اہلیہ کے سفر حج کی روانگی سے پہلے حاجی کیمپ راولپنڈی کے داکلی دروازے پر ملاقات ہوئی۔سلام دعا کے بعد ارشد شیرازی نے مولانا صاھب کی خدمت میں عرج کیا جناب یہ میرے بہنوئی ہیں آپ کے قافلے میں حج پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ جا رہے ہیں یہ دونون احرام نذری باندھنے کے قائل نہیں ہیں لہذا آپ سے درخواست کرنے کیلے حاضر ہوا ہوں کہ احرام میقات سے باندھنے میں ان کی مدد کریں۔
تو مولانا نے فرمایا:
"احرام میقات سے باندھیں گے تو آپ کو رقم خرچ کرنی پرے گی۔تو انیس بھائی نے کہا آپ پیسوں کی فکر نہ کریں انشائ اللہ ہم ادا کریں گے"۔
پھر مولانا صاھب نے کہا:
"یہ لوگ تو صرف دو ہیں جب کہ سارے لوگ ائیرپورٹ سے احرام باندھین گے صرف دو افراد کو کیسے میقات لے کر جا سکتا ہوں یہ تو بہت مشکل ہے"۔
فقہاء کہتے ہیں آپ مجبوری میں احرام نذری باندھ سکتے ہیں۔
پھر مولانا نے پوچھا:
"آپ کس کے مقلد ہیں؟" تو بھائی انیس نے کہا مولانا صاحب"ہم کسی کے مقلد نہیں ہیں ہم تابع قرآن و سنت ہیں،مسلمان ہیں جو بھی قرآن و سنت سے کسی مسئلے میں سند و دلیل دے دے ہم تابع دلیل ہیں اور تقلید کو نہیں مانتے"۔
تو مولانا صاحب نے انہیں جواب دینے کی بجائے شیرازی سے کہا:
"یہ شرف الدین کی بات ہے آپ شرف الدین کی بات کو ہر کسی پر نہ ٹھونسیں اور سچ سچ بتائیں یہ کس کی تقلید کرتے ہیں؟"۔
تو بھائی انیس نے ان سے مخاطب ہو کر کہا مولانا صاحب میں جو آپ کو کہ رہا ہوں کہ میں مقلد نہیں ہوں ہم تابع قرآن و سنت ہون، جو بھی قرآن و سنت سے کسی مسئلے میں سند و دلیل دے دےتو ہم اسی قول کی تاسی و اتباع کرتے ہیں۔"
تو مولانا نذیر نے پوچھا:
"کیا آپ آئمہ معصومین کو حجت نہیں مانتے؟تو شیرازی نے مداخلت کرتے ہوئے مولانا سے سوال کیا کہ جناب معصوم کا لفظ قرآن کریم میں کس جگہ آیا ہے اور اس کے کیا معنی ہیں۔؟"
تو مولانا صاحب نے کہا:
آپ سے بحث نہیں ہو سکتی ہے۔تو شیرازی نے ان سے کہا کہ مولانا ہم سے بات اس لئے نہیں ہو سکتی ہے کہ ہم آپ کی طرح مراجع کی آنکھ بند کر کے تقلید کے قائل نہیں ہزار ہزار فٹ اونچا جھنڈالگانے کے قول کو اجتہاد قرار نہیں دیتے گھورے اور جھنڈے سے تقلیدیون کے ہمراہ نوکریان اور بیٹے نہیں مانگتے۔تو پھر مولانا صاحب نے کہا کہ ہم تو مقلد ہیں اور آخری امام مہدی کے فرمان کی روشنی میں مراجع ہم پر حجت ہیں پھر بولتے چلے گئے کہ علم کو ہم لگائیں گے چومیں گے آنکھون سے لگائیں گے آپ کی بات کو ہم نہیں مانتے ہیں آپ کا عمل آپ کو مبارک ہو اور ہمارا عمل ہمیں مبارک۔
برادر ارشد شیرازی جب بھائی انیس الحسن اور ان کی اہلیہ کو ان کے برادران و خواہران کے ہمراہ ائیرپورٹ چھوڑنے گئے تو درج ذیل سوالات جو بذریعہ شیرازی مولانا حافظ نذیر صاھب سے دریافت کئے تھے انہیں شیرازی نے ہم سے ٹیلی فون پر پوچھ کر کاغذ پر تحریر کیا اور اس کی دس فوتو کاپیان انیس الحسن کے ہاتھ میں دیں انہوں نے قافلہ والون کو بھی دیں اور خود حافظ نذیر صاحب کو بھی دیں۔
(سوال جواب طوالت کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کئے،کتاب میں پڑھ لیں)
یہاں ان حضرات کو متوجہ کرنا چاہتا ہون کہ علماء کی ذمہ داری دین اسلام میں حلال و حرام کی نشاندہی ہے دین اسلام نے حرام خوری سے منع کیا ہے دھوکہ فریب سے لوگوں سے مال بٹورنے سے منع کیا ہے یہ اکل با الحرام ہے ۔

عبادات جن کے اداء صرف قرآن کریم اور سنت و سیرت محمد ص کے مطابق انجام  دینا ہے ورنہ وہ اعمال بدعت باطل ہونگے۔جناب حافظ نذیر صاحب کی دونوں طریقہ کار کو مندرجہ بالا سطور میں سب نے ملاحظہ کیا ہے مال کے حساب سے انہوں نے بنام حق زحمت چار ہزار روپے لئے۔وہ ان کیلے حلال ہیں باقی جتنی رقوم انہوں نے حجاج سے لیں وہ کہ دیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے نہیں دی ہیں،حرام ہے کیونکہ ان کو اغفال میں رکھا گیا ہے۔"

 (معجم حج و حجاج،صفحہ41،42،43،آغا علی شرف الدین)

اللہ قرآن و سنت کے متبعین کو سلامت رکھیں اور تقلید کی بجائے تحقیق کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔