Saturday, 26 December 2015

صرخه حق

0 comments
صرخہ حق (دوسرا حصہ)                                                                         آغا علی شرف الدین موسوی کی کتاب صرخہ حق سے اقتباس


"اگر ہم نے یاعلی مدد کے شعار کو قرآن و سنت نبی ؐ اورسیرت آئمہ طاہرین میں نہ دیکھنے پر اس کی مخالفت کی تو بعض حضرات ہم سے علم میں چند کلو زیادہ وزنی ہونے کی بنیاد پرکہتے ہیں کہ یہ ہماری شناخت وپہچان ہے اور یہ ہمارے دین کی اساس ہے لیکن اگر یہ عمل مسلمات دین میں شامل ہوتا یا یہ ہماری شناخت ہوتا تو قرآن اور سنت نبیؐ اور سیرت آئمہ میں ملتا۔ کیا یہ صرف جاہل ونادان ،چرسی و شرابی اور تارک الصلاۃ کو وحی ہوا ہے۔شک ہوتاہے کہ اگر یہ اساس دین ہے تو اتنی کتابوں میں کیوں نظر نہیں آیا ۔کبھی کہتے ہیں مجتہد ین سے آگے نہ جائیں ورنہ کچھ نہیں رہے گا لیکن کچھ یعنی خرافات و بے دینی نہ رہے تو کیا ہوگا کیونکہ جو ہے وہ بد بختی ہے مصیبت ہے فقروفاقہ ہے اور ذلت ورسوائی ہے۔ایک طرف وڈیروں کی حکومت تو دوسری طرف بے دین سیاست دانوں کی حکومت ہے اور تیسری طرف سے علماء کی مزاحمت ہے چوتھی طرف سے فقہا و مجتہدین کی طرف سے استحصال ہے اور پانچویں طرف سے کفروشرک اوریہودونصاریٰ کا استبداد و آمریت ہے کیا دنیاوی ضروریات سے محروم انسان کو اپنی آخرت کے بارے میں بھی شک و تردد میں رہنا چاہیے ایک طرف سے کہتے ہیں یہ کتاب نہ پڑیں اوردوسری طرف اخبار ،ناول ،ڈائجسٹ اور بائبل پڑھنے والوں کو شاباش ملتی ہے ۔یہاں مسلمانوں کی کتب حدیث اور تاریخ و قرآن کریم پڑھنے پر پابندی کو کس نظر
سے دیکھا جائے ۔‘‘کیا ہم دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں اصحاب اور انصار و مہاجرین کے کردار کو نہیں مانتے ۔ کیا ہم بشریت کے لیے قرآن و سنت پیغمبر اسلام ؐ کو ہرزمانے کے لئے آئین زندگی ہونے کو نہیں مانتے۔ کیا ہمارا دین اسلام میں پھینکی گئی خرافات و فرسودات اور سمجھ میں نہ آنے والی چھپی ہوئی اور مبہم چیزوں کو ماننا ایک صحیح عمل ہے اور کیا قرآن وسنت پیغمبر ؐ بھی اسے صحیح قرار دیتے ہیں ۔ ہم آپ کے قرآن وسنت کے خلاف کردار کو نہیں مانتے ، آپ کی داخلی پالیسی کو نہیں مانتے اور ہم لادینی اعمال کو دین بنا کر پیش کرنے جیسے عمل کو اور اسلام کے مقابلے میں پرچم پرستی و بت پرستی کو دین بنا کر پیش کر نے کو نہیں مانتے، اسی طرح سیکولر مسلمانوں کے عزائم اور بے بنیاد عقائد جو آپ نے گھڑے ہیں اور جن کی قرآن وسنت رسول ؐ میں سند نہیں اور جنہیں آپ نے ڈنڈا اور گالی سے رواج دیا ہے ، کونہیں مانتے ۔ کسی چیز پر ایمان لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تین 

چیزوں کا ذکر کیا ہے ۔روئیت بصری ،کا نوں سے سننا، وجدان فطرت یعنی عقل سے غور وفکر و تدبر کرنا اور ان سے باہر چیزوں کو ماننے سے منع کیاہے ۔ ہم توسل اموردنیوی جیسے گھر بنانے کے لئے معمار سے متوسل ہوتے ہیں معمار کو لانے کے لئے پیسہ چائیے ، حصول تعلیم کے لئے درسگاہوں اورانصاف ملنے کے لئے عدالتوں اور اداروں میں سفارش سے متوسل ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے حالات اور فکر سے ناواقف و انجان ہیں اس لئے وہ اپنے فیصلے کے لئے رشوت کے خواہاں ہیں۔ ان کے دل میں غریب اور بے بس انسانوں کے لئے رحمت اور شفقت کا فقدان ہے اور وہ ہماری پریشانیوں سے انجان اور بے خبر ہیں اور ہماری رسائی سے دور ہیں لہٰذا ہم حاجتوں کی روائی کے لئے ان کی سفارشوں کو اور ان سے اس توسل کو شفاعت کہتے ہیں اور اللہ نے ان تک رسائی کے لئے ہمیں اعضاء و جوارح اور سماعت و بصارت دی ہے ۔ جہاں بذریعہ گفتگو کسی بشر تک رسائی ممکن نہ ہو وہاں اللہ کو پکارنا ہے، وہاں ہم التجاء والتماس کرتے ہیں وہ چونکہ سب سے زیادہ قریب ہے وہ ہماری بات کو سنتا اور ہماری نیت کو سمجھتا ہے وہ رحمن و رحیم ہے لہٰذا ہمیں لوگوں کی بنائی ہوئی چیزوں سے توسلیات اور ان لوگوں کی شفاعت کی ضرورت نہیں ، اس لئے اس کونہیں مانتے ۔ ہم ان چیزوں کا انکار کرتے ہیں جن کا ثبوت قرآن کریم اور سنت نبی ؐ میں نہ ملے ۔ چونکہ قرآن نے ہر خبر کو فورا نہ ماننے کا حکم دیاہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو جلدی نہ مانو اس لئے ہم ہر خبر کو نہیں مانتے اور پہلے اس خبر کی تحقیق کرتے ہیں کہ آیا وہ صیح ہے یا غلط۔"

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔