Saturday, 26 December 2015

متنازعه شخصیت

0 comments
"
ہمیں ایک متنازع شخصیت کی طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ یہاں پر ہم متنازعات کے بارے میں بات کرنے سے پہلے متنازعہ مسائل کی حدود و قیود کو بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔متنازعہ نزع سے ہے اور نزع افکار میں نہیں بلکہ مادیات میں مستعمل ہو تا ہے یا جن امورکی برگشت مادیات کی طرف ہو لیکن افکارِدین قابل تقسیم نہیں بلکہ علم ‘عقل اور دین تنازعات کو ختم کرنے کیلئے آئے ہیں۔ تنازعات مولود جہل ہیں‘ جب دین و شریعت قرآن و محمدؐ اپنے تنازعات کو قرآن و سنت کی حاکمیت سے رفع کرتے ہیں تو کیونکر جو قرآن وسنت کی حاکمیت کے داعی ہوں وہ قرآن وسنت کے ماننے والوں سے نزاع کریں ۔لہٰذا ہم سوچتے تھے الحمد للہ ہمارا کسی مسلمان سے تنازعہ نہیں کیونکہ ہمارے پاس مادیات نامی ایسی کو ئی چیز نہیں جودوسروں کیلئے باعث نقصان ہو،نہ ہماری کوئی دکان ہے نہ کوئی تنظیم ہے نہ کسی مسجد کا ممبر ، نہ کوئی عزاخانہ ہے اور نہ ہی کوئی کرسی درس ہے ۔
لیکن دقت اور باریک بینی سے دیکھنے اور غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تنازعات صرف مادیات ومالیات میں ہی نہیں ہوئے بلکہ استعمار گری حاکمیت اور بالا دستی قائم رکھنے کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔ چنانچہ اس کیلئے یہ مثال دی جاتی ہے کہ شیر جب کسی نہر سے پانی پیتا ہے تو اپنے سے نیچے کسی بھیڑیا کے بھی اس نہر سے پانی پینے پر ناراض ہوتا ہے اور اس سے نزاع کیلئے کہتا ہے تم نے میرے پانی کو گندہ کیا۔ ایک عرصے سے اللہ ،رسول ،قرآن اور آئمہ طاہرین پر اتفاق واتحاد کافی سمجھا جاتا تھا ان پر متفق افراد کو ایک ملت کہتے تھے بعد میں یہ چیز سامنے آئی کہ ان کے ساتھ جس مجتہد کی تقلید کی جاتی ہے اس میں بھی متحد ہونا ضروری ہے اور گذشت زمان کے بعد یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ بھی کافی نہیں بلکہ اختلاف مرجع ، اختلاف آور اور ناقابل جمع ہیں۔ جب تک مرجع ایک نہ ہواتفاق نہیں ہوسکتا لیکن بعد میں یہ تقاضا بھی ہوا کہ مرجع کے علاوہ علاقہ میں رہنے والوں کو ان کے بڑے وکیل صاحب سے بھی اتفاق کرنا ضروری ہے۔سیستانی ‘خوئی‘ خمینی‘ خامنہ ای کی تقلید پر اتفاق ہونا کافی نہیں جب تک یہاں ان کے بڑے وکلاء کیلئے چاپلوسی کے ساتھ ان کے سامنے ذلیل وخوار و خاضع نہ ہوجائیں ۔چنانچہ حال ہی میں امام خمینی آقائے خوئی یا سیستانی اور آقائے خامنہ ای کے بڑے وکلاء نے متفق ہو کربغیر کسی مخالفت و مزاحمت کے ہمارا یہاں جینا حرام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ یا علی مدد کو جزء دین سمجھتے ہیں تو مجھے بھی اسے جزء دین سمجھنا چاہیے‘ اگر وہ عزاداری کو اصول دین سمجھتے ہیں تو مجھے بھی یہ اعتقاد رکھنا چاہیے ‘اگر وہ متعہ کو اعتقادات میں شمار کرتے ہیں تو مجھے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اسے اساس مذہب میں تسلیم کرنا چاہیے‘ اسی طرح وہ امور جو ان کی مرضی سے یا خاموشی سے معاشرے میں رائج ہیں ان کیلئے بھی انہی کے الفاظ میں ان جیسی تعریف وتائید کرنا ضروری ہے۔ ورنہ مجھے آزادی میسر نہیں ہوگی ۔یہ دنیا کفر وشرک ‘یہود‘ مسیح‘ ملحد‘ کمیونسٹ کو تو اپنا انسانی بھائی کہتے ہیں لیکن ان افکار کے بارے میں بولنے والے ان کے نزدیک اصلی خطرناک بلکہ داخلی دشمن ہیں۔سرمایہ پرست فقہا کے نزدیک علماء کی سرحد سرمایہ داروں کے عقیقے پر بسمہ اللہ کہنے کی حد تک ہے اس سے آگے تجاوز کرنے والے ان کے نزدیک مطعون ونا پسند ہیں ۔علماء نواز سرمایہ داروں کی سرحد یہ ہے کہ ان کا نمک کھانے والے ان سے پوچھے بغیر کسی بھی مسئلے کو چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔چنانچہ یہ بات انصاف سے باہر ہے کہ آپ حدود کا تعین کئے بغیر متجاوز کو سزا دیں۔ آپ کے علم اصول بلکہ اصول دین کے تحت بھی یہ بیان ہے کہ قبح عقاب بیان کئے بغیر کسی کو سزا دینا جائز نہیں ہے ۔
علامہ محسن نجفی نے اپنی سیرت سابقہ علم پرستی، علمی بلوغت کے بعد بعثت انبیاء سے نیاز ختم ہونے کی ابداع صادر کرنے کے بعدبھی فقہیہ سرگودھا سے صدور فتویٰ کا استعارہ لیتے ہوئے ہمارے اوپر دوبارہ فتویٰ اخراج از شیعہ صادر فرمایا ہے۔ منتظرین صحیفہء آسمانی نے فوراً اس تاریخی فتویٰ کو جدید وسائل کے ذریعے اطراف میں پھیلایا لیکن ہمارے بارے میں یہ نئی خبر نہیں تھی لیکن دعویٰ سمندر علمی رکھنے والے کیسے فتویٰ مستعارلینے کے نیاز مند ہوئے یہ تعجب آور اور حیرت کنندہ ہے۔
محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ معاشرے میں دین کے نام سے خرافات اورمصلحت کے نام سے اباطیل کی ترویج کے حامی ہیں یہ اپنی درسگاہوں اور محافل میں قرآن و سنت کے لانے کے سخت مخالف ہیں۔ ہمارے اور ان کے درمیان کسی قسم کا مادی فکری تنازعہ نہیں سوائے اس کے کہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ معاشرے سے خرافات کا خاتمہ کریں اور مسجد محراب ومنبر اور مدارس میں قرآن و سنت کو نصاب درس میں شامل کریں لیکن سیکولر علماؤں اور ان کے سرپرست آقاؤں کو کہاں برداشت کہ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن اور سنت کو جگہ دی جائے کیونکہ اگر ایسا کریں گے تو بہت سے روشن خیالوں کی چمک دمک دھویں میں تبدیل ہوجائے گی کیونکہ ان کی روشن خیالی دین کو فرسودہ دکھانے، مسلمانوں کو مغرب کی طرف پلٹانے میں ہی ہے۔ یہ روشن خیالی قرآن وسنت سے مآخوذ نہیں بلکہ انہیں علم پرستوں کی طرف سے دی گئی ۔ مدارس میں قرآن وسنت آنے کے بعد یہ زندگی کے دیگر شعبہ جات میں بھی سرایت کریں گے جبکہ یہ افراد کسی بھی قیمت پر ان دونوں کو زندگی کے دیگر شعبوں میں نہیں لانا چاہتے۔یہاں سے علماء اعلام خاص کر حوزات ومدارس کے اساتید اور ان کے تابع اورنظام سیکولرزم کی راہ سے رکاوٹیں دور کرنے کیلئے کمیشن پر مولویوں کو قرآن وسنت سے دور رکھنے والے طیش میں آگئے ۔ 
معاشرے میں متنازعہ شخصیت کو پسند نہیں کیا جاتا چنانچہ ہمارے لاہور کے کتاب فروش برادران من جملہ افتخار صاحب کا کہنا ہے ہم کیو نکر متنازعہ کتابوں کو رکھیں۔یہ تنہا ان کی بات نہیں بلکہ معاشرے میں متنازعہ موضوعات کسی کیلئے بھی متحمل نہیں ہیں۔گویا متنازعہ کتابچے لکھنا ان کی خرید وفروخت ان کی اجازت سے ہونی چاہیے۔ کچھ عرصے پہلے ان درسگاہوں سے خلفائے مسلمین کیلئے غلیظ ترین کلمات پر مشتمل کتب طبع ہوئیں جیسے غلام حسین نجفی ، عبدالکریم مشتاق وغیرہ کی کتب لیکن شیعہ نصیریوں اور غالیوں کے نزدیک یہ کتب متنازعہ نہیں تھیں اس لئے انہیں اس سے روکنے کی بجائے انہیں وکیل آل محمد کا لقب دیا گویا آل محمد کے ہم وغم کی نشانی خلفائے مسلمین کی شان میں غلاظت گوئی تھی ان کا ارمان تھاوہ خود ایسا نہیں کرسکتے تھے ان کی مصلحت نہیں تھی لہٰذا وکلاء کے نیاز مند تھے جو انہیں ۱۴۰۰ سال گزرنے کے بعد نصیب ہوئے ہیں ۔لیکن جو اہل بیت ہمارے ہیں جن میں علی ؑ حضرات حسنین ؑ سید ساجدین ؑ زید بن علی امام باقرؑ وامام صادقؑ شامل ہی 
"وہ خلفاء کی تکریم تعظیم اوراحترام کرتے تھے۔ محسوس ہوتا ہے انہوں نے اہل بیت کے نام سے دھوکہ دیا ہے ان کے اہل بیت کوئی اور ہیں جو خلفاء پر سب وشتم کو یک از فروع دین سمجھتے ہیں اوریہ ان کے داعی ہیں ۔
"

(آغا علی شرف الدین)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔