¤ شعار اتحاد اسلامی اور علی ع¤
"آپ کے دیگر شعار کی طرح بے معنی اور ناقابل عمل شعار اتحاد اسلامی ھے.جھاں آپ نے فرمایا اتحاد اسلامی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فرقہ اپنے عقائد فروعات کو چھوڑ دے چاھے وہ قرآن و سنت اور عقل و منطق کے خلاف ھی کیوں نہ ھوں.اپنا عقیدہ چھوڑو نھیں اور دوسروں کے عقیدے کو چھوڑو نھیں.اس جملہ کے مبتکر جرنل ضیاء الحق ھیں جن کی تمام اصطلاحات آپ کے لئے بری ھیں لیکن صرف یہ جملہ آپ لوگوں کو پسند آیا ھے.اگر آپ سے کہا جائے ھمیں صرف اسلام چاھیے تو ایسی صورت میں آپ اس اتحاد میں شامل نھیں ھوں گے.
اس اتحاد کی ضرورت کیلے آپ نے امیر المومنین ع کا فرمان پیش کیا ھے حالانکہ آپ کا اتحاد علی ع کے اتحاد سے قطعی مختلف ھے بلکہ دوسرے الفاظ میں آپ کا اتحاد مشرکین کے اتحاد سے زیادہ شباھت رکھتا ھے جھاں مشرکین نے نبی کریم ص کو یہ تجویز دی تھی ھم اپنے عقیدہ پر رھیں گے آپ اپنے پر رھیں اور ایک دوسرے کو نہ چھیڑیں یا آپ ھمارے مراسم میں شریک ھو جائیں ھم آپ کے مراسم میں شریک ھونگے جیسا کہ آج کل سنی وشیعہ کرتے ھیں،چنانچہ اس اتحاد کی رد میں سورہ قل یا ایھا الکافرون نازل ھوئی.
علی ع کا اتحاد فرقوں سے نھیں تھا کیونکہ اس وقت فرقے ھی نہیں تھے علی ع کا اتحاد آپ کے بقول غاصبین خلافت سے تھا.آپ ع نے اتحاد امت کی دعوت دی اور اس کیلے خود سبقت کی چنانچہ حضرت ابوبکر کو آپ ع نے اپنے گھر بلا کر بیعت کی،حضرت عمر کے غیاب میں ان کی جانشین بنے اور منصب قضاوت کو قبول کیا، جنگ میں اپنی رضا ورغبت سے ایک مسئول بن کر آپ ع تشریف لے گئے."
علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔