Sunday, 27 December 2015

مهجوریت قرآن

0 comments
وَقَالَ ٱلرَّ‌سُولُ يَـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَـٰذَا ٱلْقُرْ‌ءَانَ مَهْجُورً‌ۭا 
( سورة الفرقان ٣٠)

اور اس دن ر سول کہیں گے: اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو واقعی ترک کر دیا تھا۔

نمی دانم ! اس گروہ کے بارے میں دل سوزی اور ان کی ہدایت کے بارے میں حرصِ شفقت اور ان کی نافرمانی اور بے ادبی پر خدا سے عفو و درگذر کی درخواست کرنے والے نبی کے دل سے اس دن رحمت کہاں گئی ہوگی۔"
جب وہ اس کی بارگاہ میں شکایت کریں گے کہ میری قوم نے اس نور و بصیرت کے بدلے میں ظلمت ،رحمتِ شفا کے بدلے میں ظلمت و مصیبت کو اپنایا اور ماء معین کے بدلے میں پیاس اور سرگردانی کا انتخاب کیا۔اسی طرح ہدایت کے بدلے میں ضلالت و گمراہی کو اپنایا۔پیغمبر کی یہ شکایت جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ کافرین و ملحدین کے خلاف شکایت نہیں کریں گے کیونکہ وہ آپ کی قوم نہیں اور نہ منافقین کی شکایت ہوگی کیونکہ سورۃ منافقوں کے تحت جو آپ کی رسالت کو نہیں مانتے وہ بھی آپ کی قوم نہیں ۔یہ دونوں گروہ تو ہمیشہ آپ اور آپ ص پر نازل ہونے والی کتاب کو صفحہ ہستی اور اذہان انسانی سے مٹانے پر تلے رہے اور اس کے لئے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔لہذا یہ واضح ہوا کہ آپ کی شکایت امتِ اسلامی سے متعلق ہوگی جو آپ کی نبوت و رسالت کے معتقد ہونے کے دعویدار تھے اور اس کتاب کو خدا کی کتاب ہونے اور اس کی عظمت و بزرگی اور بابرکت ہونے کے معتقد تھے۔جو ایک طرف تو اس کو بوسہ دینے والوں میں تھے لیکن دوسری طرف اس کے دستور کو ٹھکرانے والوں میں بھی شامل تھے۔اس کتاب کو دستور حیات مانتے تھے لیکن اپنی عملی زندگی میں میکاؤلی کی سیاست،مارکس کی دینی دشمنی،ہٹلر کی انسان دشمنی اور مغربیت کی اسلام دشمنی میں لکھی گئی کتب و مجلات کو دقت سے پڑھتے اور ان کے پیرانوں پر حاشیہ لگاتے تھے۔یہ شکایت خصوصا امت کے اس گروہ کے خلاف بھی ہوگی جنہیں علمائے اسلام کہا جاتا تھا،جو خود کو محافظ دین سمجھتے تھے اور اپنے علاقے اور دور میں خود کو آپ ص کا خلیفہ اور جانشین سمجھتے۔انہیں جب تقریر و بیان کا موقع ملتا توخود ساختہ،جھوٹے اور من گھڑت قصے کہانیوں،خوابوں اور علماء و مجتہدین کے مذاحیہ جملات سے محفل کو رونق بخشتے تھے۔اگر کسی وقت مشکل و پیچیدہ مسائل پیش آتے تو اس کی سند کیلے تاریخ کے نوابغ شعرائے کرام،دبیر و انیس،غالب و سعدی،حافظ و اقبال کے شعر پیش کرتے لیکن سہوا(بھول کر) بھی آیاتِقرآنی سے استدلال و سند پیش نہیں کرتے۔وہ علماء ہونگے کہ جنہیں رب ِغفور و کریم نے یہ توفیق عنایت کی کہ وسیع و عریض،بلند و بالا مدرسے کی عمارتیں کھڑی کریں اور کثیر تعداد میں ملک کے گوشہ و کنار سے معارف علوم اسلامی کے تشنہ،بزم صلحاء و عرفاء میں زندگی گزارنے کا شغف رکھنے والے جب ان کی شاگردی کا شرف حاصل کر کے ان کے سامنے تلمذ ِزانو ہوئے اور اپنے دل اور پورے وجود کو سماعت بنا کر ان (استاد) سے معارف اسلام سننے کیلے اپنے ذہن و قلب کے بٹن کو آن کیا اور شوق رغبت و انہماک سے استادِمحترم کی طرف متوجہ ہوئے تو استاد گرامی نے ابنِمالک،سیبویہ،خلیل اور ابنِحاجب کے نظام ِتکلم کو سکھایا اور ادب میں متبنیٰ اور امراء القیس کے اشعار سکھائے اور فکر کی پالش کیلے ارسطو،فارابی اور تفتادانی کی منطق سکھائی،دور حاضر کے جدید معاشرے میں انسانی زندگی کو درپیش مسائل کے حل کیلے چار پانچ سو صدیوں پہلے لکھے گئے فقہ اور اصولِفقہ سکھائے۔اسی طرح جدید دور کے تقاضون کو پورا کرنے کیلے ان مدارس سے معارف اسلامی سے خالی ذہن،فارغ التحصیل ہونے والوں کے حصول روزگار کیلے انگریزی زبان اور کمپیوتر کے کورس وغیرہ کا بھی اہتمام کیا۔غرض سب کچھ کیا لیکن جس کو نصاب میں شامل نہیں کیا وہ تنہا قرآن کریم تھا۔یقینا پیغمبر اکرم ص کے دل کو ناراض و شکستہ کرنے،دکھ و درد اور غم و غصہ سے بھرنے والے اور مہجوریتِ قرآن کی مصداقِ جلی امت کی یہی مقتدر ہستیاں ہونگی۔البتہ امت کے دیگر گروہ جو خدا کی وحدانیت،پیغمبر کی ختم نبوت اور قرآن کریم کی جاویدیت اور کتابِ ہدایت ہونے کے معتقد ہیں وہ افراد بھی مختلف زاویوں سے اس شکایت میں شامل ہونگے۔

قرآن سے پوچھو،35 
https://facebook.com/AliSharfuddinPK

آغا علی شرف الدین بلتستانی

DEEN FEHMI GROUP:
https://facebook.com/groups/226251360864398

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔