Sunday, 27 December 2015

رونا اور بد عملی

0 comments
"انسان کے دوش پر جو فرائض و ذمہ داریاں ہیں انہیں نظر انداز کر کے بے اہمیت گردان رونے کو ایک وفاداری کے شعار کے  طور پر پیش کرتے ہیں۔ایسے رونے والوں کی شان میں جہاں سورہ توبہ کی آیت 82 میں ہے وہاں عقیلہ قریش جناب زینب کبری ع نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ فرمایا" اب تو رونا تمہارا مقدر ہے۔تم نے اپنے آپ کو بدبختی میں ڈالا ہے۔ذمہ داری سے پہلو تہی کرنے کے بعد ایسی رونے کا کیا فائدہ؟ دیکھو یہ اہل کوفہ کس پر رو رہے تھے؟ حسین ع پر یا اہل بیت ع پر؟ جن سے حضرت زینب ع نے فرمایا:

تمہارے رونے کا  کوئی فائدہ نہیں ہے۔آج کل بہت سے لوگ ایسے بھی  ہیں جو سال بھر میں کچھ آنسو بہا کر اپنے آنسو کو نماز،روزے،حج،جہاد ،امربالمعروف و نہی عن المنکر  کا صرف بدل ہی قرار نہیں دیتے بلکہ عمر بھر کھانے والے لقمہ حرام کو بھی اس آنسو سے دھو کر حلال و پاک کرنا چاہتے ہیں۔"

صفحہ 38،عنوان عاشورا
علامہ آغا علی شرف الدین بلتستانی 

Official Website of Agha  Ali Sharfuddin  Baltistani:

www.sibghtulislam.com

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔