"ابولؤلؤ باباشجاع قاتل خلیفۃ المسلمین غالیوں کی مکرم ومؤقر ھستی ھے.جس کا اندازہ یہاں سے ھو سکتا ھے کہ ابھی بھی ایران کے شھر کاشان میں اس کا مزار غالیوں کی زیارت گاہ ھے.علامہ مرزا عبداللہ آفندی اصفہانی اور علامہ مجلسی اپنی کتاب ریاض العلماء و حیاض الفضلاء ج 5 صفحہ 507 پر اس طرح یاد فرماتے ھیں.
"فیروز اعجمی فارسی شیعوں میں بابا شجاع الدین کے نام سے معروف ھے محمد بابا شجاع انہی سے منسوب ھے.یہ 9 ربیع الاول یا بعض کے نزدیک 24 ذی الحجہ الحرام کی بات ھے یہ غلام مملوک مغیرہ بن شعبہ تھے لیکن صاحب ریاض العلما لکھتے ھیں:
"ابولولو اصحاب خیار علی میں سے تھے اسے علامہ کرکی نے بقربطن عمر کے نام سے یاد کیا ھے".
گرچہ یہ کتاب اپنے موضوع کے حوالے سے علما و دانشمندان سے مخصوص ھے بابا شجاع کا اس کتاب میں ذکر کرنے کی توجیہ میں لکھتے ھیں:
"مناسب اور ضروری سمجھتا ھوں کیونکہ اس نے ایسا عمل انجام دیا ھے جو بڑے سے بڑے علماء و دانشمندان انجام دینے سے عاجز و قاصر ھیں."
لیکن یہ وہ شخص ھے جس نے خلیفہ دوم مسلمین سے فتح فارس اور شام کا انتقام لیا ھے، اس کی تلوار میں ایسا اثر تھا کہ جس نے خلیفہ دوم کو جام انتقام نوش کروایا،یہ تلوار خلیفہ دوم سے گزرتے ھوئے سوم وچھارم کی حیات کے خاتمہ تک پہنچی،اس طرح اس نے تسلسل خلافت راشدہ مسلمین کا بھی خاتمہ کیا اس لئے غالیوں کے پاس محترم و مکرم ھے.انہوں نے اس کی قبر کو مزار بنایا ھے.اس وجہ سے بعض داعیان اتحاد اسلامی نے بھی 9 ربیع الاول کے دن کو حضرت کے دن کو حضرت عمر کے قتل کی خوشی کا دن قرار دیا ھے.
خلیفہ مسلمین عمر بن خطاب کی جنگ و حکمت سے مجوسیوں، یہودیوں اور صلیبیوں کے قتل ھونے کے باوجود بعض مدعیان اور نام نہاد دوستداران اھل بیت کا اس یاد میں خوشیاں منانا حلق سے نہیں اترتا ھے.حتی وہ افراد جو امت کی عظیم مصلحت کی خاطر اتحاد ملت اسلامی کے پرچم اٹھائے ھوئے ھیں وہ بھی 9 ربیع الاول کو اس یاد میں خوشی مناتے ھیں بہت سے ایسے بھی ھیں جو اعلانیہ طور پر ایسا نہیں کرتے لیکن چھپ کر دلی طور پر خوشی کا مظاھرہ کرتے ھیں، مٹھائیاں کھاتے اور کھلاتے ھیں.اگر ھم حضرت عمر کو ایک حکومت اسلامی کے حاکم اعلی کی بہترین مثال تصور نہ کریں بلکہ ان کے اسلام واقعی کے بجائے اسلام نفاقی بھی تصور کریں تب بھی ان کا قتل قرآن اور سیرت وسنت محمد ص حتی سیرت علی بن ابی طالب سے متصادم و منافی دیکھتے ھیں(آغا نے 4 دلائل اس کے بعد دئے کہ کلمہ اسلام پڑھنے والا چاھے منافق ھی کیوں نہ ھو اس کا قتل حرام ھے)..
کیا اسلام میں یہ حکم ھے کہ منافقین جہاں کہیں ملیں انہیں قتل کرنا چاھیے؟ ایسا نہیں ھے.اسی طرح اگر کسی مجوسی نے کسی منافق مسلمان کو قتل کیا تو کیا ھمیں اس مجوسی نصرانی یا یہودی کو داد دینی چاھیے.اگر ایسا ھے تو یہ کہاں کا اسلام ھے؟ ھم غالیوں اور مخالفین کے نہ چاھتے ھوئے یا ان کی چاھت کے خلاف صدق و صداقت اور سراحت کو اپناتے ھوئے اور توریا وتقیہ سے دوری اختیار کرتے ھوئے دور خلافت حضرت عمر کو خلفاء راشدین کے دور میں مثالی سمجھتے ھیں اور دوسری طرف عمر کو نبی کے برابر لانے والے غالیوں کے کہنے پر خود کو عمری کہنے کیلے تیار نہیں.بلکہ علوی و محمدی کہلوانے کے رواداد بھی نہیں ھیں کیونکہ قرآن کریم میں اللہ نے ھمیں مسلمان جینے اور مرنے کا حکم دیا ھے.حدیث کی حاکمیت کے داعیوں اخباریوں اور اھل حدیثوں نے قرآن کی طرف دعوت دینے پر مجھے اپنے عتاب کا نشانہ بنایا،میرا رخ دین اسلام کی طرف قرآن سے ھوا ھے،اس کے باوجود ھم اپنے آپ کو قرآنیون کہنے کے حق میں نہیں ھیں کیونکہ قرآن نے ھمیں مسلمان جینے اور مرنے کا حکم دیا ھے."
آغا علامہ سید علی شرف الدین موسوی ،دور رشد و رشادت صفحہ 88
نوٹ: آیت اللہ برقعی بھی 9 ربیع الاول کو بزعم تشیع حضرت عمر کی وفات کے طور پر اپنے حوزہ میں باقی طلبا کے ساتھ خوشی منانے کا ذکر کرتے ھیں کہ ھم اس دن قتل عمر کی خوشی مناتے تھے،اور کتاب قصص العلما میں قتل عمر کے اس دن پر تقیہ کے چادر چڑھا کے کسی اور نام سے منانا تفصیل سے ایک واقعہ میں ملتا ھے.اور شیعہ روایات جس طرح رسول کی ولادت کے دن پر اھل سنت سے الگ تاریخ رکھتے ھیں قتل عمر کی تاریخ بھی اکثر علما شیعہ کے نزدیک 9ربیع الاول ھی ھے پس تقیہ پر مبنی منافقانہ اتحاد ملت اسلامی کو ختم کر کے حق گوئی اور خلوص کے ساتھ امت کی اتحاد کیلے کوشش کی جائے،بغل میں چھڑی منہ میں رام رام کی اب گنجائش نہیں امت کیلے.اس پہ تفصیل سے کسی پوسٹ میں واضح کر دیں گے(ایڈمن)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔