Saturday, 26 December 2015

بیت الله یا کعبه

1 comments
کعبہ/بیت اللہ

کعبہ بیت اللہ حرام قبلہ مسلمین مطاف زائرین حرم امن ہے،جس کے بانی ابوالانبیاء خلیل ع اور ان کے معاون ان کے فرزند اسماعیل ہیں۔کعبہ ایک مکعب شکل میں ہے۔خالص سخت پتھر سے بنایا گیا ہے اس وقت اس کی بلندی 15 میٹر جس کی چوڑائی میزاب سے اور مقابل میزاب میں 10 میٹر اور 10 سینتی میٹر ہے اور جہاں کعبہ کا دروازہ ہے۔مشرق و مغرب میں اس کی چورائی 12 مٹر ہے۔قدیم زمانہ سے کعبہ مکعب شکل میں ہے اسی وجہ سے اس کو کعبہ کہتے ہیں۔کعبہ کی ابتدائی دیوار ایک پتھر پر دوسرا پتھر رکھا ہے اس میں کوئی مٹی وگیرہ نہیں رکھی۔اس کی ارتفاع 9 فٹ ہے اسماعیل کے ایک ہاتھ کی بلندی پر تھا اس پر چھت نہیں تھا دروازہ زمین سے ملا ہوا تھا۔سب سے پہلے اس پر غلاف چڑھانے والے بادشاہ یمن ہیں۔اس کے بعد چادر چڑھانے والے عبدالمطلب ہیں انہوں نے ایک دروازہ بنایا جس پر سونے کا رنگ لگایا۔
کعبہ کی خصوصیت:
خصائص و امتیازات کعبہ میں ہے کہ یہ نماز میں قبلہ مسلمین ہے۔کعبہ کی طرف منہ نہ کریں تو نماز باطل ہو جاتی ہے سوائے نماز خوف کے یا انسان سفر میں کسی  سواری پر ہو تو اس وقت مستحب نماز کعبہ کی طرف رخ کئے بغیر پڑھی جا سکتی ہے لیکن واجب نماز کیلے ضروری ہے کہ رخ کعبہ کی طرف ہو۔غائبین کا رخ خود کعبہ ہے۔کعبہ مشرفہ روئے زمین میں بندگان خدا سے امتحان و آزمائش اطاعت و بندگی کا ایک وسیلہ ہے چنانچہ حضرت علی ع نے اپنے فرمان میں فرمایا اللہ کریم نے آدم سے لے کر الی یومنا ھذا اور تا قیام قیامت ایک گھر جو پتھر و مٹی سے بنایا ہے۔اس کے ذریعے امتحان لیا ہے۔دنیا کے ارباب اقتدار ،نوابغ،عقلاء،فقہاء انبیاء و اولیاء کس طرح اس بیت کے سامنے اطاعت و بندگی اللہ کی خاطر کس حد تک خشوع و خضوع کرتے ہیں یہ ایک آزمائش ہے لیکن غلات باطنیہ نے اس اطاعت و بندگی کے تصور سے خلق اللہ کو نکالنے کیلے اس کے بارے میں بہت سی احادیث از خود وضع کی ہیں جس طرح تفسیر قرآن وضع کی ہیں تاکہ قرآن سے استفادہ کو مشکل یا ناممکن بنائیں اسی طرح کعبہ کے اردگرد مختلف جگہوں کو دعا کی قبولیت کے لئے مشہور کیا ہے۔حالانکہ یہ پورا گھر استجابت گاہ بتایا ہے کہ یہاں دعا کریں گے تو قبول ہوگی۔یہ اللہ کا ہے اس گھر کی ایک ایک جگہ اللہ کو پسند ہے کوئی ایک اینٹ بہت پسند ہے ایسا سمجھنا غلط ہے  کیونکہ یہ سب قرآن و سنت سے متصادم و متعارض فکر ہے۔

(آغا صاحب کی کتاب سے اقتباس)

1 comments:

  • 26 December 2015 at 19:34

    جذآ ک اللہ۔ نماز جو اس وقت ادا کی جارہی ہے وہ ایک حساب سے تین وقت کا بن رہا ہے کیا الگ الگ ادا کی جایے یا ایک نماز کے بعد 10 منٹ کا وقفہ دے کر پڑھنا درست ہے؟؟ جمعہ اگر واجب سے پڑھا جایے تو عصر بھی واجب ہوگا ؟
    = کہتے ہیں کہ کعبے کا دیوار بار بار ٹھیک کرنے کے باوجود دوبارہ اس میں شق، دھڑار برقرار رہتا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ حضرت علی کی پیدایش سے ہے۔ اگر فرض کریں وہ وہاں پیدا نہیں ہویے تھے تو بھی یہ دیوار کیوں شق ہوتا ہے اسکی کویئ وجہ؟؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔