"اسی طرح ایک اور گروہ ہمیشہ اور سالہائے سال سے عید الفطر اور رمضان کی پہلی اور آخری تاریخ میں سر توڑ کوشش کرتا آیا ہے کہ مسلمانوں کی عید کو درہم برہم کرے اسی طرح انہوں نے فقہائے شیعہ کو اکسا کر عید الفطر کو ہمیشہ سے تقلید کی بنیاد پر افراط و تفریط کے میدان میں رکھا ہے-اس سلسلے میں اس سال یعنی 1431ہجری کے ماہ مبارک کے پہلے دن رمضان کا چاند نظر آنے کے بارے میں روئیت ہلال اور اس کی تمام کمیٹیوں کے درمیان ہم آہنگی ہونے کی وجہ سے ان منافقین اسلام کو پیٹ میں زیادہ درد ہوا لہذااس درد کی انہوں نے یہ دوا نکالی کہ صوبہ سرحد میں پہلی بار حکومتی سطح پر بغیر کسی ثبوت کے عید منانے کا رویہ اپنایا گیا اسی طرح شیعوں نے شمالی علاقہ جات میں اپنے ہاں چاند نہ ملنے کی وجہ سے ہندوستان کے شہر کارگل سے درآمد کیا یقیناۤ ۔ان کو اس میں زحمت بھی تھی اور آسانی بھی۔زحمت یہ تھی کہ اتنے دور دراز علاقے سے درآمد کرنا پڑا ،آسانی اس لئے تھی کہ وہاں کوئی تحقیق نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہاں کسی کی رسائی نہیں تھی۔انہوں نے بغیر کسی سند فقہی کے 29 رمضان کا اعلان کیا جب کہ اندرون پاکستان پہلی بار شیعوں کی بعض جانی پہچانی شخصیات نے کبھی آغائے جواد نقوی کی طرف ،کبھی آغائے بہاؤالدینی کی طرف اور کبھی آغائے خامنہ ای کی طرف دیکھا،یہ لوگ بغیر کسی ثبوت کے کمال اصرار کے ساتھ صبح سے لے کر مغرب تک افطار کرنے میں مصروف رہے۔یہ ان کے عملی جد و جہد کے مظاہر ہیں۔"
(باطنیہ و بناتہا صفحہ 37، علامہ علی شرف الدین موسوی علی آبادی)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔