'جہاں ہم نے علمائے اعلام اور مدرسین اعطام سے گلہ اور شکایت کے ساتھ ان سے قرآن کے بارے میں کچھ درخواستیں کی ہیں۔اسی طرح ملک کے دانشور و دانشمند پڑھے لکھے طبقے سے گزارش ہے کہ وہ قرآن سے لاتعلق رہنے کی بہانہ سازی اور عذر تراشی کے رویے کو ترک کریں کہ قرآن عربی زبان میں ہے اور ہمیں عربی نہیں آتی ہے کیونکہ یہ بہانہ اور عذر تراشی حقیقت سے دور ہے شاید ہم جیسے سادہ لوح مسلمان آپ کو معذور گردانیں لیکن درگاہ خداوندی میں یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ آپ بغیر عربی بھی قرآنی معارف سے آشنائی حاصل کر سکتے ہیں۔فلسفہ لاطینی زبان میں وجود میں آیا اور وہان سے دنیا بھر کی زبانوں میں فلسفہ نے فروگ پایا ہے،سائنس مغرب میں وجود میں آئی لیکن دنیا کے دیگر ملک اسے اپنی زبان میں پڑھتے ہیں۔
اگر آپ حقیقی معنوں میں اس دین سے وابستہ ہیں تو قرآن سے آشنائی ایک ناگزیر حقیقت ہے جس کے بغیر اسلام سے وابستگی ناممکن ہے لہذا آپ کو چاہیے کہ ملک میں موجود معارف قرآن کے اساتید اور دانشمندوں سے اس سلسلہ میں مشورے تجاویز اور نصیحتیں لے کر بغیر کسی تاخیر کے قرآن سے اپنا رابطہ قائم کریں ۔خدا تمام مسلمانوں کو قرآن سے آشنائی اور قرآن کی بالادستی قائم کرنے کی توفیق عنایت کرے ۔آمین۔"
وآخر دعوانا عن الحمد للہ رب العالمین۔
َََََََََََََََََ>>>>>..۔ علی شرف الدین علی آبادی۔۔۔۔۔>>>>>>>










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔