Sunday, 27 December 2015

جھنڈا

0 comments
"کسی ملک میں تاریخ میں ڈننڈے اور کپڑے کی اتنی اہمیت نہیں جتنی ان(شیعہ)کے جھنڈےکی ہے۔انہوں نے پہلے مرحلے میں اسے یادگار نشانی کے طور پر نصب کیا اور دوسرے مرحلے میں حاجت و نیاز لینے کے نام سے اسے تقدس دیا۔مجوس اور مشرکین کا ایک ٹولہ جمع کیا جو اس کی طرف ہاتھ بلند کر کے مانگ رہا ہے۔اور عمامہ پوش جو اس سے حاجت مانگنے کے بعد جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم جھنڈے سے نہیں مانگتے۔یہ پرچم اپنی جگہ سامری کے بچھڑے کا کردار ادا کر رہا ہے۔1428ھ کو یہ ارتقائی منازل طے کرتے کرتے پاکستان کے شہر میانوالی روانہ ہوا اور سکردو میں ایک میلے کی شکل اختیار کر گیا۔اس جھنڈے کی پوجا یہاں کے علماء کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جو صفحہ تاریخ پر ثبت ہو گیا ہے اور اہل بیت کے ماننے والوں کو دوسرے مسلمانوں کے روبرو ضلیل و خوار کیا۔ انہیں مرجعیت۔قیادت،مقتدر سب کی حمایت حاصل تھی۔عبا اور عمامہ پوش حجت اسلام مرجین اسلام مروجین احکام بوتلوں میں بطور تبرک اس جھندے کے دھون کو ڈال کر اپنے گھروں میں لے گئے شاید وہ ابھی اس بات سے انکار کریں کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا جس طرح اس سے پہلے گھوڑا کا دھون بطور تبرک پیا تھا کوئی بات نہیں کیونکہ اس سے ان کی سو خرافات و جعلیات میں ایک ہی کمی واقع ہوگی۔لہذا ہم اس دن کو مرجعیت قیادت بڑے چھوٹے علماء دین کی پاسداری کا پول کھلنے اور بوکھلاہٹ کا دن سمجھتے ہیں اور اس دن کو ان کے چہروں پر سیاہ دھبے کے طور پر یاد رکھیں گے۔"

( علامہ علی شرف الدین موسوی علی آبادی)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔