Sunday, 27 December 2015

0 comments
"ہمارے بہت سے مولانا حضرات جو امیر و فقیہ کاروان حج بیت اللہ ہیں بغیر کسی جھجک تردد ہچکچاہٹ کے اپنے علاقے میں منسوب جعلی ضریحو،سیاہ پرچم جھنڈے،گھوڑے اور جھولے  سب کو شعائر کہتے ہیں اور انہیں چومنا عبادت و بندگی شمار کرتے ہیں۔جیسا کہ قبلہ زیدی صاھب منبر کو جس پر چڑھ کر تقریر کرتے ہیں جس پر قدم رکھتے ہیں جس پر بیتھتے ہیں اس کو بوسہ دیتے ہیں کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہے۔
امیر کارواں حیدری کہتے ہیں گھوڑا،جھنڈا تابوت کو بوسہ دینا ایسا ہی ہے جیسے کعبہ کو بوسہ دینا،کعبے کے گرد گھومنا ان کی نظر میں شریعت اللہ،قرآن  اور اس کے رسول کے ھکم تک نہیں بلکہ یہ جو ہم بھی چاہیں شعائر اللہ تعین کر سکتے ہیں۔یہ حضرات اللہ کے ساتھ تو تو میں میں کرتے ہیں کہ اگر اللہ کہ سکتا ہے تو ہم کیو ں نہیں کہ سکتے اگر ایسا ہو سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے۔"

                     آغا علی شرف الدین
                     کتاب معجم حج و حجاج 154
http://sibghtulislam.com/downloads.aspx

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔