دور رشد ورشادت
( خلفائے راشدین)
مولف: آغا علامہ سید علی شرف الدین موسوی بلتستانی
کل صفحات:258
ناشر:دارالثقافہ الاسلامیہ پاکستان
دور رشد ورشادت بلاشبہ خلفائے راشدین کی سیرت بشمول خوبیوں و خامیوں پر ایک بلاتعصب و غیرجانبدارانہ تحقیقی کتاب ھے.سیرت رسول ص پر آغا صاحب کی کتاب"محمد مصطفی ص" کے بعد ایک ایسی کتاب تاریخ اسلام کے حوالے سے ناگزیر تھی جہاں خلفاء کی تاریخ اور سیرت و کردار،ان کی غلطیوں اور قابل ستائش خوبیوں کا بلا کم وکاست تذکرہ ھو.آغا صاحب نے بطور ایک محقق نہایت اختصار وجامعیت کے ساتھ اپنے طویل مشاھدات اور وسیع مطالعہ کے بعد یہ کتاب قلم بند کی.خلفاء پر علمی مدلل اسلوب میں بھرپور جائزہ لیا گیا ھے.اختتام پر فرقہ
پرستی کے رد میں سات عنوانات قائم کئے ھیں.آخر میںماخذ و مراجع اور حوالہ جات کا مکمل اھتمام کیا ھے.آغا سید مصطفی طباطبائی کی کتاب"روزگار خلفائ راشدین" گرچہ لائق تحسین کام تھا مگر آغا شرف الدین نے اردو میں اس طرز و اسلوب کی غیر متعصبانہ کتاب لکھ کر اردو زبان وادب میں اس موضوغ اور عنوان کے حوالے سے ایک منفرد اور اولین کام انجام دیا ھے .آپ نے ھزاروں کتب کے مستند قدیم وجدید بےشمار کتب کے ذخائر کے بعد یہ کتاب تحریر کی ھے اور یہ بے بہا عطر کشید کیا ھے.
کتاب کے حوالے سے آغا صاحب لکھتے ھیں:
"دور راشدہ سے وہ دور مقصود ھے جب نبی کریم ص امت اسلام کی قیادت ورھبری سے فارغ ھو کر ملا اعلی سے پیوستہ ھوگئے تو زمام اسلام ومسلمین ان ذوات نے سنبھالی جو اس دعوت میں ابتدائی دن سے خلوت وجلوت ،حضروسفر،دعوت و جہاد،جنگ و صلح اور دوستی و دشمنی میں آپ کے ساتھ ساتھ اور ردیف میں رہتی تھیں اور جنہوں نے اسلام کو قبول کرنے نیز جان ومال پیش کرنے اور ھجرت کرنے میں سبقت کی تھی اور کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی تہی."
مزید فرماتے ھیں:
"اس صدی کے دو عظیم مفکرین محمد مھدی شمس الدین و محمد باقر الصدر نے نبی کریم ص کے بعد اس دور کو قیمتی دور کہا ھے."
پھر لکھتے ھیں:
"یہ ذوات نہ صرف اس منصب کو سنبھالنتے وقت قرآن و سنت کے مطابق رشید تھیں بلکہ انہوں نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے بعد چھوڑنے تک بھی رشد ورشادت کا دامن نہیں چھوڑا،ان صفات کے حامل اقتدار اسلام ومسلمین سنبھالنے والوں میں ابوبکر صدیق،عمربن خطاب،عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب کو شامل کیا جاتا ھے لیکن بعض دیگر مصنفین ومورخین نے امام حسن بن علی اور عمر بن عبدالعزیز کو بھی راشدین میں شمار کیا ھے.ھم ان صفحات میں ان چھ ذوات کے رشد ورشادت کے بارے میں جو کچھ تاریخ میں مورخین نے لکھا ھے نقل کریں گے."
یقینا شیعہ بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے علماء میں سے مفسر قرآن آغا سید مصطفی طباطبای کی "روزگار خلفای راشدین" اور آغا شرف الدین کی "دور رشد ورشادت" اھم کاوشیں ھیں،دونوں بزرگوار اب فرقوں کی بجائے صرف اسلام اور قرآن فہمی کے داعی ھیں اور لغوی طور پر خود کو 'شیعہ علی(علی ع کے حقیقی پیروکار)' کہلاتے ھیں نہ کہ بطور فرقہ.
والسلام علی من اتبع الھدی (ایڈمن)










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔